17 ستمبر 2019
تازہ ترین

پاکستان کا مستقبل جہالت ہے؟ پاکستان کا مستقبل جہالت ہے؟

ملک و قوم کے بڑے اور بنیادی مسائل تعلیم، صحت، روزگار، اپنی چھت اور عدل و انصاف ہیں، جن کو حل کرنے کے وعدے سات عشروں بعد بھی پورے نہیں ہوسکے، ہر حکومت نے عوام کو لالی پاپ تو ضرور دیے مگر بنیادی مسائل کے حل کی جانب کوئی توجہ نہیں دی، نتیجہ آج ہم دنیا بھر میں پیچھے ہیں اور کسی بھی وکٹری سٹینڈ پر کھڑے نظر نہیں آتے، بلکہ قریب قریب بھی نہیں۔ صرف تعلیم کے میدان میں ہی ہم اگر خطے کے ممالک سے موازنہ کریں تو خود ہماری وفاقی وزارت تعلیم کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان تعلیمی میدان میں خطے کے 9 ممالک میں 8 ویں نمبر پر چلا گیا، بنگلادیش نے بھی اسے پیچھے چھوڑ دیا، افغانستان خواندگی میں سب سے آخری نمبر پر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2008  میں بنگلادیش تعلیمی میدان میں پاکستان سے پیچھے تھا، تاہم اب وہ چوتھے جب کہ پاکستان 8 ویں نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالدیپ تعلیمی میدان میں بازی لے گیا، جہاں شرح خواندگی 99 فیصد ہے، سری لنکا 91 فیصد شرح خواندگی کے ساتھ دوسرے اور ایران 86 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ بنگلادیش کی شرح خواندگی 73 اور بھارت کی 69 فیصد ہے جب کہ پاکستان کی شرح خواندگی 57 فیصد اور افغانستان کی 32 فیصد ہے۔
پی ٹی آئی حکومت نے بھی اپنے گیارہ ماہ میں ان بنیادی مسائل کی طرف جھانک کر نہیں دیکھا، آج صحت سے لے کر ہر شعبہ ہائے زندگی میں پاکستان کا ہر شہری انتہائی توہین آمیز سلوک سے گزر رہا ہے، لیکن وزیراعظم صرف کرپشن کو ہی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہوئے مخالفین کو گندا کرکے ختم کرنے میں مشغول ہیں، حالانکہ ریاست کا اہم اور بڑا مسئلہ برا طرز حکومت ہے۔ جب تک اسے درست نہیں کیا جاتا، کرپشن کا خاتمہ خواب ہی ہوسکتا ہے، آج رشوت کے ریٹ ماضی کی نسبت بڑھ چکے، کسی بھی سرکاری ادارے میں کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا۔
ادھر خبریں بتارہی ہیں کہ وزیراعظم نے وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی کھولنا ہی سب سے بڑا تعلیمی مسئلہ سمجھتے ہوئے وہاں یونیورسٹی قائم کرنے کے لیے دارالحکومت کے ماسٹر پلان میں مخصوص تبدیلی کی منظوری دے دی ہے۔  انتخابات جیتنے سے قبل عمران خان نے کہا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آتے ہیں تو وہ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں تبدیل کردیں گے، تاہم کامیابی کے بعد وہ بظاہر یونیورسٹی قائم نہ کرسکے، کیونکہ ایسا کرنے سے اسلام آباد کے ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہوگی۔ اس حوالے سے ایک اخباری رپورٹ میں بتایا گیا کہ شہر کے ماسٹر پلان کے مطابق جی-5 میں وزیراعظم ہاؤس میں تعلیمی ادارہ قائم نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ سیکٹر صرف حکومت اور انتظامی عمارتوں کے لیے ہے، تاہم کابینہ اجلاس نے اس ماسٹر پلان کے لیے مخصوص تبدیلی کی منظوری دیتے ہوئے وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی کے قیام کی اجازت دی۔ 
 حالانکہ اسی حکومت کے وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ قابلیت شفقت محمود نے سینیٹ اجلاس میں انکشاف کیا  تھا کہ ملک کی آبادی میں اضافے اور بہتر اقدامات نہ کیے جانے سے شرح خواندگی گزشتہ 2 سال کے دوران کم ہوکر 58 فیصد ہوگئی ہے۔ انہوں نے یہ بات سینیٹر عثمان کاکڑ کی جانب سے ملک میں خواندہ افراد کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں بتائی تھی۔متعلقہ شعبے کی جانب سے موصول ہونے والے جواب میں خواندہ کی تعریف یہ بیان کی گئی کہ جو اخبار پڑھ سکے اور کسی بھی زبان میں سادہ سا خط تحریر کرسکے، تاہم ایسے افراد کی تعداد 15-2014 میں 60 فیصد تھی۔ تحریری جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ خطے میں سب سے کم شرح خواندگی افغانستان میں ہے اور اس کے بعد پاکستان کا نمبر آتا ہے۔ یونیسکو کی عالمی رپورٹ برائے تعلیم کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پاکستان کے 15 سال یا اس سے بڑی عمر کے افراد میں شرح خواندگی 57 فیصد، ایران میں 73 فیصد، بنگلادیش میں 92 فیصد جبکہ سری لنکا اور مالدیپ میں 99 فیصد ہے۔ وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ آبادی میں مسلسل اضافے کے باوجود شہریوں میں شرح خواندگی کے اضافے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پڑھے لکھے نوجوانوں کے حوالے سے تشویش ہے۔ اسکول نہ جانے والے بچوں کی بھی تعداد کافی زیادہ ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف لڑکیاں اسکول نہیں جاتیں، حالانکہ تعلیم نہ حاصل کرنے والی لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ ہے، لیکن دونوں کے درمیان فرق اتنا زیادہ بھی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم کے لیے تشویش کی بات کہ 70 سال بعد بھی پارلیمنٹ ملک میں کم شرح خواندگی کے مسئلے پر بحث کررہی ہے۔ وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھاکہ 18 ویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی معاملہ ہے، لیکن حکومت اس شعبے میں نئی پالیسیاں اور منصوبے متعارف کرانے کی خواہش مند ہے۔
دوسری جانب یونیسکو نے کہا ہے کہ 2030 تک 4 میں سے ایک پاکستانی بچہ پرائمری اسکول مکمل نہیں کرپائے گا۔ یونیسکو کا کہنا ہے کہ ملک 12 سالہ تعلیم سب کے لیے، ہدف کا نصف حصہ ہی حاصل کرسکے گا جب کہ موجودہ شرح میں اب بھی 50 فیصد نوجوان اپر سیکنڈری تعلیم حاصل نہیں کرپارہے۔ مستحکم ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کی 2030 کی ڈیڈ لائن کے حوالے سے یونیسکو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطح کے سیاسی فورم میں بتایا کہ دنیا اپنی کارکردگی کو بغیر تیز کیے تعلیم کے حوالے سے اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہوگی۔ 2030 میں جہاں تمام بچوں کو سکول میں ہونا تھا، وہاں 6 سے 17 سال کی عمر کا ہر 6 میں سے ایک بچہ سکول میں موجود نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کارکردگی کی حساب سے 40 فیصد بچے 2030 تک سیکنڈری تعلیم مکمل نہیں کرپائیں گے۔ نئے عالمی تعلیمی اہداف، ایس ڈی جی-4 نے تمام ممالک سے بچوں کے سکول جانے اور تعلیم حاصل کرنے کی یقین دہانی پر زور دیا ہے۔ موجودہ شرح کے حساب سے تعلیم حاصل کرنے کی شرح لاطینی امریکا اور درمیانی آمدن 
والے ممالک میں بڑھ نہیں رہی جب کہ افریقی ممالک میں اس میں کمی آئی ہے۔ عالمی سطح پر کارکردگی میں تیزی کے بغیر 20 فیصد نوجوان اور 30 فیصد بالغ افراد مقررہ مدت کے پورے ہونے تک بھی پڑھنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ مستحکم ترقی کے 2030 کے ایجنڈے کے مطابق کسی بھی بچے کو تعلیم سے محروم ہونے سے بچانا ہے، تاہم غریب ممالک کے 20 فیصد غریب لوگوں میں سے صرف 4 فیصد بچے ہی اپر سیکنڈری تعلیم مکمل کرپاتے ہیں جبکہ امیروں میں اس کی شرح 36 فیصد ہے۔
ہم حکومت سے گزارش کرتے ہیں کرپشن کے گھوڑے کو سیدھا کرنے کے لیے اپنی کارکردگی کو بہتر کرنے کی طرف توجہ دیں، جب آپ اچھا طرز حکمرانی پیش کرکے کوئی مثال قائم کرلیں گے تو کرپشن کا گھوڑا خود بخود بیٹھ جائے گا۔
بقیہ: عوام کی آواز