25 اگست 2019
تازہ ترین

وزیراعظم کا دورۂ امریکا اور احتجاج کی تیاریاں وزیراعظم کا دورۂ امریکا اور احتجاج کی تیاریاں

یہ وقت ایک طرف معاشی بحران اور دوسری جانب عالمی برادری سے تعلقات میں نئی تبدیلیوں کا ہے۔ جغرافیائی اہمیت کے باعث امریکا اور روس کیلئے پاکستان سے دُوری مفید نہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے وزیراعظم عمران خان کو بشکیک میں ایس سی او سمٹ کے موقع پر روس کے دورے کی دعوت دی۔ وزیراعظم نے صدر پوتن کی دورۂ روس کی دعوت قبول کی۔ عمران خان اب ستمبر میں روس کا دورہ کریں گے اور اس موقع پر روس میں ہونے والی کثیرالملکی کانفرنس میں بطور روسی صدر پوتن کے مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔ 4 سے 6 ستمبر تک روسی شہر ولادی وستوک میں کانفرنس کے موقع پر پاک بھارت وزرائے اعظم پھر ایک چھت کے نیچے ہوں گے۔
ایک طرف پاکستان اور روس میں فاصلے سمٹ رہے ہیں تو دوسری جانب امریکا اس سے تشویش میں مبتلا ہے۔ امریکا سمجھتا ہے کہ پاکستان ایک جانب افغانستان میں اس کی منشا کے مطابق کردار ادا نہیں کررہا اور دوسری طرف چین اور روس کے قریب ہورہا ہے۔ ماضی میں سابق صدر زرداری روس کا دورہ کررہے تھے تو ہلیری کلنٹن نے ٹیلی فون کرکے انہیں جانے سے منع کیا، لیکن وہ نہ مانے۔ پھر سی پیک منصوبے کے آغاز کے بعد امریکا کی پریشانی مزید بڑھ گئی کہ پاکستان اب سٹرٹیجک حوالوں سے مکمل طور پر اس کے مخالف یعنی روسی اور چینی کیمپ میں جارہا ہے۔ اسی تناظر میں جب ٹرمپ اقتدار میں آئے تو وہ پاکستان کے متعلق نہایت برہم نظر آرہے تھے اور پہلی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان سے متعلق سخت الفاظ استعمال کرکے دھمکیاں تک دیں۔ پھر پاکستان میں حکومت کی تبدیلی اور درست سمت میں کئی اہم اقدامات کے باعث امریکی رویے میں مثبت تبدیلی آنا شروع ہوئی اور ٹرمپ کی قیادت میں امریکا نے کسی حد تک افغانستان سے متعلق اپنی پالیسی واضح کردی۔ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ واضح الفاظ میں پاکستان اور دیگر فریقوں کو پیغام دیا کہ امریکا افغانستان سے اپنی افواج کا انخلا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے پاکستان سے کردار ادا کرنے کا ناصرف تقاضا کیا بلکہ تعاون کی صورت میں پاکستان کے تحفظات دُور کرنے کا بھی اشارہ دیا۔ امریکا نے قطر میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا تو پاکستان بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے لگا، جس کی وجہ سے ناصرف امریکا کی برہمی وقتی طور پر ختم ہوگئی بلکہ اعلیٰ امریکی عہدیدار پاکستان کے کردار کی تعریف کرنے لگے۔
امریکا اور طالبان کے براہ راست مذاکرات سے پاک امریکا تعلقات تو وقتی طور پر خوش گوار ہوگئے، لیکن افغان حکومت پر اس کے اثرات نہایت برے مرتب ہوئے۔ جب امریکا نے براہ راست طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کیے تو پہلے سے کمزور ہونے والے اشرف غنی کی حکومت کی پوزیشن مزید خراب ہوگئی۔ چنانچہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے لگے کہ طالبان کو امریکا کے بجائے ان کے ساتھ بات کرنی چاہیے، لیکن ایک طرف طالبان اشرف غنی کو کٹھ پتلی قرار دے کر ان کے ساتھ بیٹھنے پر تیار نہیں ہورہے تھے اور دوسری جانب ان کے گزشتہ تین سال کے رویے کی وجہ سے پاکستانی حکام بھی افغان صدر سے نالاں تھے۔ پھر جب ماسکو میں طالبان سابق صدر کرزئی کی قیادت میں باقی افغانوں کے ساتھ بیٹھ گئے تو اشرف غنی پاکستان سے مزید ناراض ہوگئے۔ ان مذاکرات کی بساط بنیادی طور پر روسی حکومت نے بچھائی تھی اور پاکستان نے ان میں تعاون روس کے ایما پر کیا۔
قطر میں طالبان اور امریکا کے مذاکرات کے ابھی تک جو دور ہوئے، ان میں امریکا اور طالبان کے تنازعات کے حل پر تو بڑی حد تک اتفاق ہوگیا، لیکن بین الافغان مفاہمت کے حوالے سے دونوں فریقوں کے مطالبات کے ضمن میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔ طالبان اصرار کررہے تھے کہ ماضی کی طرح ان کو حکومت لوٹادی جائے، لیکن افغان حکومت چاہتی ہے کہ طالبان آئین کے تحت نظام کا حصہ بن جائیں۔ قطر مذاکرات میں ابھی تک بنیادی طور پر چار امور پر بات چیت ہوتی رہی۔ ایک امریکی افواج کا انخلا، دوسرا طالبان کی طرف سے افغان سرزمین کو کسی بیرونی ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے اور القاعدہ جیسی تنظیموں سے تعلق نہ رکھنے کی گارنٹی، جنگ بندی اور بین الافغان مذاکرات۔ اب پہلے دو نکات پر تو قریباً اتفاق رائے ہوچکا لیکن آخری دو نکات پر طالبان کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں ہورہی تھی۔ تاہم اب امریکی ٹیم معاملے کو حل کرنا چاہتی ہے، کیونکہ امریکا کے صدارتی انتخابات کے تناظر میں ٹرمپ نے اپنی ٹیم کو ستمبر تک کی مہلت دی ہے۔ چنانچہ اب امریکا نے طالبان پر واضح کردیا کہ اگر مفاہمت ہوگی تو بیک وقت چاروں نکات پر ہوگی، نہیں تو نہیں ہوگی۔ 
دوسری طرف امریکا نے پاکستان سے کہہ دیا ہے کہ وہ بین الافغان مذاکرات کے لیے بھی اسی طرح پوری قوت استعمال کرے جس طرح اس نے امریکا اور طالبان کے مذاکرات کے سلسلے میں کیا۔ امریکا نے ڈاکٹر اشرف غنی سے بھی کہہ دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ معاملات بہتر بنائیں۔ اسی تناظر میں افغان صدر پاکستان آئے اور اسی تناظر میں اب قطر میں امریکا سمیت طالبان کے اپنے افغانوں کے ساتھ بھی مذاکرات ہورہے ہیں۔
پاکستان کے اسی کردار پر امریکا نے آئی ایم ایف کو بھی گرین سگنل دیا اور اسی وجہ سے ایف اے ٹی ایف کے معاملے میں بھی امریکا وقتی طور پر پاکستان کے خلاف زیادہ منفی کردار ادا نہیں کررہا اور اسی تناظر میں بیک وقت سعودی عرب اور اس کا حریف قطر امریکا کے ایما پر پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھارہے ہیں۔ پاکستان کے اس کردار کے تناظر میں عمران خان کو امریکا کے دورے کی دعوت دے کر ٹرمپ سے ملاقات ہونے جارہی ہے۔ اگر افغان معاملے کا حل نکل آیا تو پھر وقتی طور پر امریکا اسی طرح مہربان رہے گا لیکن اگر مفاہمت نہ ہوئی تو پھر کیا ہوگا، ہمیں اس ممکنہ منظرنامے کوبھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔ وزیراعظم کے دورۂ امریکا کے لیے پی ٹی آئی کے حامی متحرک ہوگئے ہیں اور عمران خان کے پُرجوش استقبال کی تیاریاں جاری ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے احتجاج پر بھی غور شروع کردیا ہے۔