23 جولائی 2019
تازہ ترین

وقت، اعتبار اور عزت… وقت، اعتبار اور عزت…

کہتے ہیں کہ ’’وقت، اعتبار اور عزت‘‘ ایسے پرندے ہیں جو ایک دفعہ محبت بھرے دل کی ٹہنی سے اُڑ جائیں تو پھر کبھی نہیں لوٹتے۔ یہ بھی عام تاثر ہے کہ اگر صاحب اقتدار ان تینوں انداز میں کہیں بھی مات کھا جائے، خواہ اس کی وجہ کچھ بھی ہو، پھر اسے سنبھلنے کے لیے ایک عرصہ ہی نہیں، بہت سے امتحانات اور مشکلات کے پُل عبور کرنے پڑتے ہیں۔ ’’عمرانی حکومت‘‘ برسوں کے احتجاج، دھرنوں اور جدوجہد کے بعد قائم ہوئی، آئندہ ماہ امتحان اقتدار کا پہلا سال بھی مکمل ہوجائے گا، لیکن ایک سال میں ابھی تک ان کا کوئی دعویٰ اپنی عملی تصویر قوم کو نہیں دکھاسکا، سوائے اس کے کہ نہیں چھوڑوں گا، این آر او نہیں ملے گا، قوم گھبرائے نہیں، یقیناً قوم کو ان پر اعتبار تھا تو انہیں کرسیٔ اقتدار عطا کی گئی، وقت نے بھی ساتھ نبھایا اور عزت بھی ملی، لیکن اگر مان بھی لیا جائے کہ سابق حکمرانوں کی بے ضابطگیوں، لوٹ مار اور کرپشن کے باعث ’’عمران خان‘‘ کا پہلا سال سیاسی دُکان داری کی نذر ہوگیا، تو یہ چیلنج کوئی نیا نہیں تھا۔ ان کی ساری جدوجہد لوٹ مار، کرپشن اور وراثتی جمہوریت کے خلاف تھی، پھر ان کا ’’ہوم ورک‘‘ مکمل کیوں نہیں تھا؟ یہ سوال ان کے مخالفین کے ساتھ کھلاڑی بھی کرنے لگے ہیں، کہ اقتدار کے بنیادی اصول کے مطابق ’’عمرانی حکومت‘‘ کے وفادار ایوان اقتدار سے دُور اور حسب سابق نادان دوست وزیراعظم کے قرابت دار بن چکے ہیں، جس کی بہترین مثال حامد خان اور دیگر کھلاڑیوں کی ہے۔
دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ بھٹو صاحب کی طرح عمران خان بھی اپنی کرسی کو مضبوط سمجھ رہے ہیں، حالانکہ ’’کرسیٔ اقتدار‘‘ تو ’’میوزیکل چیئرز‘‘ جیسی ہوتی ہے، ’’جیت‘‘ صرف اس کی ہوتی ہے جو ’’دل اور دماغ‘‘ کو حاضر رکھتا ہے، لہٰذا اشاروں پر یہ کھیل کھیلنے والے اکثر مارے جاتے ہیں، مجھے یاد ہے کہ بھٹو صاحب کی پیشکش پر ممتاز کمپیئر طارق عزیز نے قومی اسمبلی کا ٹکٹ لینے سے معذرت کرلی تھی، لیکن نواز شریف کا ٹکٹ برسوں بعد قبول کرلیا، شاید انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہوگا۔ یہ بات بھی میں پوری ذمے داری سے کہہ سکتا ہوں، جن غیر جماعتی الیکشن میں محمد خان جونیجو وزیراعظم بنے اور استعفیٰ دیا تھا، ان انتخابات میں بھی جنرل ضیاء نے میاں یوسف صلاح الدین کو ذمے داری سونپی تھی کہ اگر عمران خان قومی اسمبلی کا الیکشن ’’جیت‘‘ جائیں تو انہیں وزیراعظم بنایا جاسکتا ہے، یہ تب کی بات ہے جب ’’ورلڈکپ‘‘ جیتنے کی تمنّا بھی عمران کے دل کے کسی گوشے میں نہ تھی، فاتح کپتان تو بہت بعد میں بنے، پھر جنرل ضیاء الحق کی اس خواہش کی تعبیر صدر مشرف نے بھی چاہی۔ اُس وقت عمران خان ’’ورلڈکپ‘‘ کے فاتح بھی تھے اور تحریک انصاف کے قائد بھی، اسی لیے عمران نے مشرف کے ریفرنڈم میں بھرپور کردار نبھانے کی کوشش بھی کی تھی۔
اَب جب ہمت اور جدوجہد کے ذریعے 22 سال بعد وہ حصول اقتدار میں کامیاب ہوگئے، تب بھی حزب اختلاف انہیں منتخب وزیراعظم ماننے سے انکاری ہے۔ اپوزیشن نے ’’سلیکٹڈ وزیراعظم‘‘ کی ایوان میں ایسی رَٹ لگائی کہ سپیکر کو پابندی لگانی پڑگئی، یوں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے نئی اصلاح ایجاد کرلی، ’’سائیڈ لائن وزیراعظم‘‘۔۔۔ کون کیا کہہ رہا ہے؟ بات یہ نہیں، حقیقت یہ ہے کہ ’’وقت، اعتبار اور عزت‘‘ میں مستقل مزاجی نہیں، عمرانی حکومت اور ذمے داران کو اس کا احساس ہونا چاہیے۔ مہاتیر محمد کی باتیں اور احترام سے قوم راضی نہیں ہوگی، یہ بات میں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو پہلے دور اقتدار میں سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اقتدار سدا نہیں رہتا لیکن انہوں نے پلے نہیں باندھی اور آج وہ جہاں اور جس حال میں ہیں، وہ یقیناً قابل عزت نہیں، پھر بھی وہ اور زرداری خوش ہیں کہ ’’قید و بند‘‘ سیاست کی سب سے بڑی ڈگری ہے، لیکن انہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جن الزام میں گرفتار ہیں، وہ قابل رشک نہیں، اپوزیشن لاکھ انتقامی کارروائی کا شور مچائے منی لانڈرنگ، اختیارات کا ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثے سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔زرداری اور نواز شریف پابند سلاسل ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ زرداری خوش اور نواز ناخوش ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ دو سابق وزرائے اعظم راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی بھی کسی وقت قیدی بن سکتے ہیں!
ہمارے حکمرانوں نے ماضی سے سبق حاصل نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے، اس لیے ’’عمرانی حکومت‘‘ بھی پرانی حکومتوں کی طرح ’’دلدل‘‘ میں دھنستی دکھائی دے رہی ہے، ماضی کے بدنام زمانہ فارمولے آزمائے جارہے ہیں۔ سینئر پارلیمنٹرین اور قومی اسمبلی کے رکن رانا ثناء اللہ کو جس طرح منشیات کیس میں گرفتار کیا گیا، اس سے ہر دو صورتوں میں جگ ہنسائی ہوئی، اگر صاحب منصب اور سیاسی شخصیت نے یہ کارنامہ انجام دیا تو بھی عالمی سطح پر واویلا ہوا اور اگر انہیں اس کیس میں پھنسایا گیا تب بھی صورت حال وہی رہی، کیونکہ ’’اے۔این۔ایف‘‘ کی کارروائی عالمی اداروں کے اشتراک و معاونت سے بھی کی جاتی ہے۔ رانا ثناء بنیادی طور پر پیپلز پارٹی کے جیالے تھے، منحرف ہوکر (ن) لیگ کے گلے کی مالا بن گئے، شریف برادران کی خواہش اور اپنے تحفظات میں پیپلز پارٹی کے سخت ترین ناقد رہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو نزدیک لانے میں بھی اُن کے کردار سے انکار ممکن نہیں، یہی وجہ ہے کہ آج بلاول اور ان کے پارٹی مخالف عابد شیر علی بھی رانا صاحب کی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں، کوئی بھی پاکستانی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ’’رانا صاحب‘‘ اپنی متوقع گرفتاری کی اطلاع کے باوجود ایسا رسک لیں گے؟ 
رانا صاحب ماڈل ٹائون سانحہ، بھولا گجر قتل کیس، منشیات فروشوں سے رابطے، ٹارگٹ کلنگ اور قبضہ مافیا سے تعلقات میں ملوث قرار دیے جاتے تھے اور ہیں، انہیں اگر ان الزامات میںگرفتار کیا جاتا تو یہ کارروائی ہضم ہوجاتی، لیکن جب ماضی میں ایوبی دور میں چودھری ظہور الٰہی پر بھینس چوری کا مقدمہ، استاد دامن کے گھر سے بم کی برآمدگی، شاعر عوام حبیب جالب پر سائیکل چوری، منظور وٹو پر کیمرہ چوری کے مقدمات ملکی تاریخ میں موجود ہوں تو رانا صاحب پر 
ہیروئن کا مقدمہ حیران کن لگتا ہے۔ ایک انگریزی اخبار کے روح رواں رحمت شاہ آفریدی، مصطفٰی نواز کھوکھر اور زرداری پر بھی ایسے مقدمات بن اور بگڑ چکے ہیں۔ یہی نہیں رانا صاحب کی اس گرفتاری میں پہلے چرس اور افیون کی اطلاع ملی اور پھر اکیس کلو ہیروئن کا مقدمہ درج ہوا، مضحکہ خیز بات یہ کہ رانا صاحب نے گاڑی روکنے کے بعد نیلے رنگ کے سوٹ کیس میں اعتراف ہیروئن کیا، پھر بھی ’’ہاتھا پائی‘‘ کا ذکر موجود ہے۔ ماضی کی سیاست میں ایسی گرفتاریاں اُس وقت نظر آتی تھیں، جب حکومت کی آخری سانس ہو، اب یہ کارروائی ابتداء میں ہی نظر آگئی، یقیناً ایسی گرفتاریاں حکومتی کمزوری اور ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں، اس لیے عمران خان کو فکرمند ہونا چاہیے، کیونکہ وقت، اعتبار اور عزت ایسے پرندے ہیں جو ایک دفعہ محبت بھرے دل کی ٹہنی سے اُڑجائیں تو پھر کبھی نہیں لوٹتے۔۔۔
بقیہ: جمع تفریق