24 مئی 2019
تازہ ترین

وفد انگورہ وفد انگورہ

(2 جنوری 1924ء کی تحریر)
تازہ ترین برقی پیغامات سے واضح ہوتا ہے کہ مجلس مرکزیہ خلافت نے فیصلہ کیا ہے کہ اواخر فروری 1924ء میں ایک وفد مسلمانان ہند کے خیالات و حسیات کے اظہار کیلئے انگورہ جائے۔ وفد رئیس الاحرار مولانا محمد علی، عالی جناب ڈاکٹر مختار احمد انصاری، سروجنی دیوی، پنڈت موتی لال نہرو، ان کے فرزند ارجمند پنڈت جواہر لال نہرو، امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزاد اور جناب مولانا معظم علی صاحب پر مشتمل ہو گا اور اس کے رئیس عالی جناب حکیم محمد اجمل خان صاحب ہوں گے۔ ہم مجلس مرکزیہ خلافت کو ارکان وفد کے اس بہترین انتخاب پر تہ دل سے مبارکباد دیتے ہیں اور دلی دعا کرتے ہیں کہ خدا اس وفد کو اپنے مقاصد میں کامیاب و فائز المرام کرے۔ ہمیں صرف ایک افسوس ہے کہ اس میں علامہ اقبال کا اسم گرامی نظر نہیں آتا۔ ہم نے پہلے بھی لکھا تھا کہ اس وفد میں حضرت امام الہند اور علامہ اقبال ضرور شریک ہونے چاہئیں۔ حضرت امام الہند تو شامل ہیں مگر علامہ ممدوح کی ذات گرامی کو نظر انداز کرنا ایک افسوسناک فروگزاشت ہے۔ ہمیں امید ہے کہ مجلس مرکزیہ اس فروگزاشت کی تلافی کر دے گی۔ بلاشبہ وفد میں شمولیت کیلئے جن خاص خصایص و اوصاف کی ضرورت ہے ان میں گزشتہ تین چار سال کی عملی سرگرمیوں کو ایک عمدہ حیثیت حاصل ہے لیکن معاملہ محض یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔ سب سے بڑھ کر وفد کے مقاصد کے اعتبار سے جن خصایص و اوصاف کی ضرورت ہے کہ انسان حقایق ملیہ اسلامیہ سے اچھی طرح واقف ہو، منصب خلافت کے آئین و دستور کا ماہر ہو، موجود سیاسیات پر اسے عبور حاصل ہو،، مشرق ادنیٰ کے حالات و معاملات، ترکوں کے دوسری اقوام کے ساتھ تعلقات و روابط اور عالمگیر اتحاد اسلامیہ کو اعلیٰ پیمانے پر معرض عمل میں لانے کی ضروریات و مقتضیات کا بہترین اندازہ داں ہو۔ ان خصایص کے اعتبار سے علامہ اقبال دنیائے اسلام کی چند نہایت مقتدر و برگزیدہ ہستیوں میں سے ہیں۔ ایسی نادر الوجود ہستی سے اس موقعہ پر فایدہ نہ اٹھانا ایک افسوسناک غلطی ہے۔ ہم مجلس مرکزیہ خلافت کے معزز ارکان سے مکرر استدعا کرتے ہیں کہ وہ علامہ ممدوح کو اس وفد میں ضرور شامل کریں۔
ہم سنتے ہیں کہ بعض اصحاب جزیرۃ العرب اور عراق میں ایک دوسرے وفد کو بھیجنے کے خواہش مند ہیں۔ ہماری رائے یہ ہے کہ سب سے پہلے اس وفد کو انگورہ جانا چاہئے، وہاں ارباب بست و کشاد جمہوریہ ترکیہ اور اعلیٰ حضرت خلیفتہ المسلمین سے مشورہ کے بعد اگر جزیرۃ العر ب اور عراق میں کسی وفد کے بھیجنے کی ضرورت محسو س ہو تو یہی وفد وہاں بھی ہو آئے۔علیحدہ علیحدہ وفد بھیجنے سے خواہ مخواہ مصارف بڑھیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنجاب کونسل اور اکالیوں کے مقدمات
ہمیں معلوم ہوا ہے کہ 6 جنوری کو جب پنجاب کی جدید کونسل کا اجلاس منعقد ہوگا تو یہ تجویز پیش کی جائے گی کہ اکالیوں کے مقدمات کے مصارف کیلئے ایک لاکھ روپیہ کی رقم منظور کی جائے۔اس رقم کا مصرف غالباً یہی ہے کہ سرکار کی طرف سے جو وکلا اس غیر منصفانہ مقدمے کی پیروی کررہے ہیں ان کی جیبیں بھری جائیں۔
گوردوارہ ٹرلندھک کمیٹی اور اکالی دل کو خلاف قانون قرار دینے اور سکھ رہنمائوںکو گرفتار کرنے سے حکومت کا جو مدعا تھا وہ تو قطعاً پورا نہیں ہوا اور غالباً حکومت کو بھی اس حقیقت کا اعتراف کرنا ہی پڑے گا۔ عملی اعتراف کا ثبوت تو موجود ہے کہ گوردوارہ تھڑا صاحب اور دوسرے مقامات کے گوردواروں کی جائیدادیں برابر گوردوارہ کمیٹی کے نام منتقل کی جا رہی ہیں۔اس حالت میں تو شرافت کاتقاضا یہی ہے کہ حکومت اکالی رہنمائیوں کے مقدمات واپس لے لے اور انہیں رہا کر دے لیکن اگر مقدمے چلائے بغیر رعب کسی طرح قایم نہیں رہتا تو ہم نہیں سمجھتے کہ اہل پنجاب کے روپے کو اس قدر بے دردانہ مصرف کرنا کس حد تک حق بجانب ہے۔ پھر یہ بھی ہماری سمجھ میں نہیں آتاکہ جب تنخواہ دار سرکاری وکیل موجود ہیں تو خاص اس مقدمے کیلئے انگریز وکیل کو بلانا اور اس کو صدہا روپیہ روزانہ فیس دینا کیا معنی رکھتا ہے۔ آخر وہ سرکاری وکیل کس دن کام آئیں گے اور اگر وہ اس قدرنالائق ہیں کہ سرکار کی طرف سے مقدمہ کی کماحقہ پیروی نہیں کر سکتے تو ان کو حکومت سے تنخواہیں کس خدمت کے عوض میں دی جا رہی ہیں۔ محض وفاداری کی پرورش کیلئے تو غالباً حکومت کے مصارف میں کوئی خاص مد معین نہیں ہے۔ ہمیں امید ہے کہ کونسل کے نئے  ارکان جو انتخاب کے موقعہ پر لمبے چوڑے وعدے کر چکے ہیں اس رقم کو ہرگز منظور نہ ہونے دیں گے۔ ہمارا خطاب زیادہ تر ان ارکان کی طرف ہے جو ’’سوراجی‘‘ کہلاتے ہیں۔