10 اپریل 2020
تازہ ترین

وفاقی دارالحکومت میں لاقانونیت وفاقی دارالحکومت میں لاقانونیت

اپنے کھیتوں سے محبت نہیں کرتا کوئی
ورنہ گاؤں سے ہجرت نہیں کرتا کوئی
چند سکوں پہ جو بک جاتے ہوں بازاروں میں
ایسے خداؤں کی عبادت نہیں کرتا کوئی
لوٹ لیتے ہوں مکانوں کو سپاہی جس کے
ایسے حاکم کی اطاعت نہیں کرتا کوئی
ظلم جب حد سے بڑھ جائے تو سر اٹھتے ہیں
بے سب یونہی بغاوت نہیں کرتا کوئی
آج ایسے ہی یہ اشعار یاد آ گئے۔ آخری شعر کی زمانہ طالب علمی میں، میں نے گرہ لگائی تھی۔ آج بھی حیران ہوتا ہوں کہ کیا واقعی یہ سب کچھ مجھ سے سرزد ہوا تھا۔ کتنی عجیب بات ہے کہ تین دہائیوں کے بعد بھی کچھ نہیں بدلا، آج بھی وہی ظلم اور انصاف ہے۔ لوگ چیخیں مار رہے ہیں ۔ ہر دور میں سب نے اپنی انا کی تسکین کی، عوام جائیں بھاڑ میں، ان کا تو یہی رونا دھونا ہوتا ہے۔ یہی اصل حکمرانی کا اصول ہے، یہ ملک کیا ہوتا ہے؟ ملک تو امریکا، برطانیہ، فرانس، یورپ یا سپین ہوتا ہے۔ یہ ملک تو کمانے اور لوٹنے کیلئے ہیں، عوام تو پیدا ہی خواص کی خدمت کیلئے ہوتے ہیں۔ایک سینئر ڈی ایم جی آفیسر نے میری موجودگی میں ایک بڑے نہیں بہت بڑے ٹھیکیدار کو کہا کہ ہم تمہاری عزت تمہارے بہنوئی (DMG) کی وجہ سے کرتے ہیں وگرنہ یاد رکھو ٹھیکیدار پیدا ہی ہم افسروں کی خدمت کیلئے کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد میں سی ڈی اے اور ڈی ایم اے نے ایک ہفتہ سے چھوٹے ہوٹلوں اور دکانداروں پر قیامت ڈھائی ہوئی ہے۔ انفورسمنٹ سے اختیار ڈی ایم اے کو ملا تو انہوں نے کمزور لوگوں کے خلاف اس لیے تجاوزات کا آپریشن لانچ کر دیا کہ دکانداروں کو پتا چل سکے کہ اب حکومت اس کی ہے، بھتا بھی اسے ہی ملے گا۔ یہ تین چار روز قبل میں نے لکھا بھی تھا۔ 5 جولائی کو انفورسمنٹ نے اس لیے آپریشن لانچ کر دیا کہ بھتا کی تاریخ تھی، تجاوزات کا بھتا دکانداروں نے کیوں نہیں پہنچایا۔ سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کسی کار شو روم والے کو کسی نے کچھ نہیں کہا کیونکہ یہ طاقتور ترین لوگ ہیں۔ ان کی گاڑیاں فٹ پاتھ پر ہیں، دکانوں کے سامنے والی پارکنگ، برآمدے تک ان کے قبضے میں ہیں۔ کسی کی بھی جرأت نہیں ہے کہ ان سے عام آدمی کا فٹ پاتھ اور پارکنگ خالی کرا لے۔ آپ شاید میرے الفاظ کو جذبات یا غصہ سمجھیں گے، میں حلفاً کہتا ہوں کہ ایسا ہی ہے۔ قانون ان کی لونڈی اور سرکاری ہرکارے ان کے غلام ہیں، تھوڑے سے راتب کیلئے انہوں نے پورے اسلام آباد کو غلاظت اور تجاوزات کا ڈپو بنا دیا ہے۔ 
آپ اسلام آباد کے جس سیکٹر میں چلے جائیں یہی صورتحال ہے۔ ہمیں بتایا جائے کہ کوہسار مارکیٹ میں ان کی جرأت ہے کہ یہ آپریشن کر دیں۔ گزشتہ رات جی ایٹ مرکز میں رات دس بجے تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع ہو گیا حالانکہ انفورسمنٹ کی دونوں شفٹیں شام چھ بجے بند ہو جاتی ہیں۔ سب غیر قانونی تھا۔ ایک سپروائزر کے ساتھ 25ہرکارے تھے۔ پھر کیا تھا تاجر یونین کے لوگ بھی آ گئے، جھگڑا شروع ہو گیا۔ تاجر یونین کا صدر بھی زخمی ہوا۔ دونوں اطراف سے حساب کتاب برابر رہا۔ بات تھانے میں جا پہنچی۔ پتا چلا کہ پولیس نے منع کیا تھا کہ پولیس فورس کے بغیر سی ڈی اے یا ڈی ایم اے آپریشن نہ کرے۔ یہ بھی پتا چلا کہ انفورسمنٹ بغیر اجازت کے آپریشن کر رہا ہے۔ مگر یہاں کون پوچھتا ہے۔ پولیس نے اسلام آباد انتظامیہ کے حکم پر الٹا تاجروں کے خلاف پرچہ کاٹ دیا تاکہ وہ بھی تو اپنے خرچے پانی کو چلا سکے۔دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ 4 جولائی کو یہی سی ڈی اے والے سپریم کورٹ کے احکامات پر جھنگی سیداں گئے، خوب تجاوزات گرائیں۔ مگر ایک ٹرانسپورٹ کے اڈے پر گئے، جسے سی ڈی اے نے صرف پارکنگ کی اجازت دی تھی اس نے پورا اڈا تعمیر کر لیا، ڈی سی اسلام آباد کا فون آ گیا۔ آپریشن کس کے حکم پر ہو رہا ہے؟ جواب دیا گیا سپریم کورٹ کے حکم پر۔ ڈی سی نے کہا کہ آپریشن روک دو۔ اس کے بعد اڈے والے شیر ہو گئے اور مسلح ہو کر آ گئے۔ سی ڈی اے جس کے ساتھ پولیس سیکڑوں میں تھی، وہ دم دبا کر بھاگ گئے۔
جی ہاں، یہ ہے نیا پاکستان یہ ہے تبدیلی، جسے پوری قوم چاٹ رہی ہے۔ کئی دوستوں نے فون کیا، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے تباہی مچا دی ہے۔ میرا ایک سندھی دوست کہنے لگا کہ مجھے سات سو فالتو یونٹ لگا کر بھیجے ہیں، میری ریڈنگ ہی میچ نہیں کرتی۔ یہاں دو اے سی کے ساتھ 85 ہزار کا بل ہے، گوٹھ میں تین ایئرکنڈیشن کے ساتھ ساڑھے چار ہزار کا بل آتا ہے۔ آج شہروں میں رہنا جرم ہو گیا ہے۔ عمران خان کے سمجھ دار ساتھی اس کے ووٹروں کو سب سے پہلے ٹارگٹ کرا رہے ہیں۔ اس دلیل پر ایک تبدیلی کارکن نے ہنستے ہوئے کہا کہ عمران خان کونسا ووٹوں سے آیا ہے۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا ’’پھر تو تمہارا شو ختم ہی سمجھیں‘‘۔ یہی زعم آصف زرداری کو بھی تھا اور نوازشریف کو بھی۔ پھر کیا ہوا۔
میں بہرحال ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ ہم بہت بڑی تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ جب شیرو کا ’’امپورٹڈ گوشت‘‘ کوہسار مارکیٹ سے آئے گا اور غریب سے روٹی کا نوالہ اور روزگار بھی چھین لو گے، جب عوام کیلئے الگ اور خواص کیلئے الگ قوانین ہوں گے۔ جب سرکاری ہرکارے غنڈے بن 
جائیں گے، بھتا مافیا کا روپ دھار لیں گے اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہو گا، بھتا نیچے سے اوپر تک جا رہا ہو گا۔ جب رشوت کو حق حلال کی کمائی کہا جائے گا تو پھر اللہ کا عذاب آتا ہے۔ بس دکھ اس بات کا ہے کہ اللہ کے عذاب میں سب پکڑے جاتے ہیں۔ آج جنت جیسے ملک کو دوزخ بنانے میں ہم نے 72 سال صرف کیے ہیں۔ پتا نہیں اس کو جنت بنانے میں کتنا وقت لگے گا۔ یہ کون کرے گا، ایسا تو کوئی بھی دور دور تک نظر نہیں آتا۔ تمام جعلی نجات دہندوں سے معذرت کے ساتھ:
وہ بچانے آئے گا جس کا ذکر آیا ہے کہانی میں
وہ جب تک آئے گا تب تک ہم مر چکے ہوں گے
بقیہ: محاسبہ