24 اگست 2019
تازہ ترین

نظام کب درست ہوگا؟ نظام کب درست ہوگا؟

لاہور ہائی کورٹ نے سعودی عرب کی طرف سے عازمین حج کا اضافی کوٹہ نئے حج ٹور آپریٹروں میں تقسیم کرنے کے خلاف حکم امتناعی دے دیا۔ پرائیویٹ گروپ آرگنائزروں کے درمیان کوٹہ کی تقسیم کا فارمولا 60 فیصد سرکاری اور 40 فیصد پرائیویٹ گروپ آرگنائزروںکو دینے کا اصول 2016   میں سپریم کورٹ نے طے کردیا تھا۔ جس کے بعد طے شدہ اصول کو توڑنے کی چنداں ضرورت  نہ تھی، چنانچہ  حج کوٹہ کی تقسیم کے مسئلے کو  مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے سپریم کورٹ نے ایک فارمولیشن کمیٹی قائم کردی تھی، جس کے سربراہ سیکریٹری مذہبی امور ہیں، جس میں اٹارنی جنرل اور وزارت قانون کے نمائندے بھی شامل ہیں، نے اپنے دسویں اجلاس میں کوٹہ کی تقسیم کے طے شدہ اصول کو پس پشت ڈالتے ہوئے پرانے حج گروپ آرگنائزروں میں کوٹہ کی تقسیم کے بجائے نئے رجسٹرڈ ہونے والے ٹور آپریٹروں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ فارمولیشن کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کی اندرونی کہانی کا ذکر ہم نے اپنے پچھلے کالم میں بھی کیا تھا، جس میں کمیٹی کے تین ارکان نے نئے ٹور آپریٹروں کو کوٹہ دینے کی سفارش کی تھی جب کہ دو ارکان نے پرانے ٹور آپریٹروں کو کوٹہ دینے کو کہا تھا، تاہم فارمولیشن کمیٹی کے اجلاس میں کوٹہ کی تقسیم کا حتمی فیصلہ نہ ہونے کے بعد اس معاملے کوکابینہ کے اجلاس میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 
اب پرائیویٹ گروپ آرگنائزروں کی ایسوسی ایشن کی رٹ پر عدالت نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے 20مئی تک وزارت مذہبی امور سے جواب طلب کرلیا ہے۔ تازہ ترین صورت حال میں وزارت مذہبی امور اور پرائیویٹ گروپ آرگنائزروں کے درمیان  تنازع کی وجہ ایک تو حال ہی میں سعودی حکومت کی طرف سے ملنے والے 15 ہزار 7 سو عازمین حج کے کوٹہ کی تقسیم اور پانچ ہزار کا وہ کوٹہ جو سعودی حکومت نے 2018 میں پاکستان کو دیا تھا ہے، بلکہ گذشتہ برس وہ کمپنیاں جن کا کوٹہ پچاس تھا، انہی کے کوٹہ میں نو عازمین حج کا اضافہ کیا تھا، وہ بھی امسال واپس لے لیا گیا۔ وزارت مذہبی امور کے پاس بائیس سو ٹورآپریٹر پہلے ہی رجسٹرد تھے، لیکن گذشتہ سال اس سلسلے میں نئی حج کمپنیوں کی رجسٹریشن کے لیے درخواستیں مانگی گئیں، جن سے بیس ہزار فی کمپنی ناقابل واپسی سیکیورٹی بھی وصول کی گئی، جس سے وزارت مذہبی امور کو چھ کروڑ روپے جمع ہوئے تھے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سعودی وزارت حج نے وزارت مذہبی امور سے حج ٹور آپریٹروں کی فہرستیں بھی فوری مانگ لی ہیں، جو گذشتہ برسوں میں رمضان سے قبل سعودی وزارت حج کو بھیج دی گئی تھیں۔ اس وقت پرانے حج ٹور آپریٹروں کی کل تعداد 804ہے جب کہ بعد میں رجسٹرڈ ہونے والوں کی تعداد  2200ہے اور حال ہی میں رجسٹرڈ کیے جانے والے ٹور آپریٹروں کی تعداد 1100ہے۔ مصدقہ ذرائع نے بتایا کہ نئے رجسٹرڈ ہونے والے حج گروپ آرگنائزروں میں سے زیادہ تر تعداد پرانے ٹور آپریٹروں کے ملازمین اور رشتہ داروں کی ہی ہے، لیکن وزارت مذہبی امور کی طرف سے اس ضمن میں سکروٹنی کا کوئی نظام نہیں، پہلے سے رجسٹرڈ ٹور آپریٹروں میں بھی زیادہ تر تعداد اُن کے اپنے خاندان ہی کی ہے لیکن وزارت مذہبی امور کے حکام اس اہم معاملے کی طرف توجہ دینے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے۔ 
ہماری معلومات کے مطابق اگر باپ کے پاس ایک کمپنی ہے تو اس کے بیٹے، اہلیہ اور والدین کے ناموں پر بھی حج کمپنیاں بنائی گئی ہیں، حالانکہ حکومت کو اس اہم معاملے کی طرف خصوصی توجہ دینے کی فوری ضرورت ہے۔ بعض ٹور آپریٹر  ایسے بھی ہیں جو سعودی عرب میں عازمین حج کے لیے انتظامات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے، لیکن وہ اپنے حصے کا کوٹہ دوسرے ٹور آپریٹروں کے ہاتھ فروخت کردیتے ہیں، لیکن وزارت مذہبی امور اس اہم معاملے کی طرف بھی توجہ دینے کی زحمت محسوس نہیں کرتی۔ لہٰذا ہمارے ہاں عازمین حج کی خریدوفروخت کی منڈی لگی ہوئی ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر وزارت امور چاہے تو حج ٹور آپریٹروں کے نظام میں بہتری لاسکتی ہے۔ 
آج مسلمان روبہ زوال کیوں ہیں، کیونکہ جن قوموں میں انصاف نہیں ہوتا، وہ صفحۂ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے گھر جانے والوں کو بھی کھلونا بنادیا گیا ہے۔ دو عشرے سے زائد عرصہ پہلے تک عازمین حج کو اسپانسر اسکیم میں سعودی عرب بھیجا جاتا تھا، ایک روز ہم نے سیکریٹری مذہبی امور کے سامنے سعودی حج تعلیمات  رکھتے ہوئے دریافت کیا کہ جناب سعودی تعلیمات میں لفظ پلگرم (pilgrim) ہے، لہٰذا آپ نے کس قانوں کے تحت اسپانسر اسکیم شروع کر رکھی ہے، جس کے بعد اسپانسر اسکیم کے تحت عازمین حج کو سعودی عرب بھیجنے کا سلسلہ ختم  کردیا گیا تھا۔ اِس وقت معاملات عدالتوں میں ہونے سے وزارت مذہبی امور کو بھی سعودی حکومت کو حج ٹور آپریٹروں کی فہرست نہ بھیجنے کا بہانہ مل گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت میں کوئی بھی ایسا نہیں جو عازمین حج کی تقسیم کے مسئلے کا حل کرسکے۔ وزیر مذہبی امور کی کمزوری کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے کوٹہ کی تقسیم بجائے خود کرنے کے کابینہ میں رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے ہر سال حج کوٹہ کی تقسیم کے معاملات عدالتوں میں چلے جاتے ہیں، اگر وزارت مذہبی امور میں بیٹھے اعلیٰ افسران دین داری اور خلوص کے ساتھ اس مسئلے کا حل کرنا چاہیں تو کوئی وجہ نہیں حج کوٹہ کی تقسیم کا معاملہ حل نہ ہوسکے۔