15 نومبر 2019
تازہ ترین

ہینگ پارلیمنٹ کے نتائج ہینگ پارلیمنٹ کے نتائج

پاکستان نے آزادی کے بعد جس طرح اُڑان بھری، وہ ناصرف قابل رشک تھی بلکہ بہت سے ممالک کے لیے قابل تقلید بھی، مگر افسوس وقت گزرنے کے ساتھ اور بدطینت اشرافیہ کی بدولت آج پاکستان بری طرح زوال پذیر ہے۔ پاکستان میں متعدد بار سیاسی عمل کی معطلی اور غیر سیاسی عناصر کی دخل اندازی نے اس کی سیاسی سوچ کو جس طرح پراگندہ کیا، اس کے اثرات اس وقت سیاسی افق پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہاں سیاسی عمل اور انتخابات میں جس طرح بے ضابطگیاں ہوتی رہیں، وہ کسی مہذب معاشرے میں سوچی بھی نہیں جاسکتیں، اداروں کی زبوں حالی اور بے اختیاری نے اس عمل کو مزید ناقابل اعتبار بناکر رکھ دیا۔ 
کرپشن کے بدترین نتائج سامنے آرہے ہیں اور ملک قرض کی دلدل میں بری طرح ڈوبا ہوا ہے جب کہ ملک کے نام پر قرضے لینے والوں کی ذاتی تجوریاں، جائیدادیں اور اثاثے دنیا کے پانچ براعظموں میں پھیلے منہ چڑا رہے ہیں۔ عوام کو جس ڈگڈگی پر نچایا جارہا ہے، وہ بھی کوئی نئی نہیں اور اس کی راگنی بھی پرانی ہی ہے کہ تاجران پاکستان عوامی مزاج سے بخوبی واقف اور جانتے ہیں کہ کس وقت اور کس طرح ان کی ہمدردیاں سمیٹی جاسکتی ہیں۔ عوام واقعتاً جمہوریت پسند اور ملک میں حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں، لیکن تاجران پاکستان کو جب اپنے کرتوتوں کا جواب دینا بھاری لگتا ہے، جب اقتدار ان سے دُور ہونے لگتا ہے تو وہ آمریت کا راگ الاپنا شروع کرکے عوامی ہمدردیاں سمیٹنے لگتے ہیں۔ حقیقی جمہوریت کے متوالے ہوتے تو اتنی کرپشن ہی نہ کرتے، ان معاملات پر خاموشی اختیار نہ کرتے۔
پاکستان کے بیشتر انتخابات کے متعلق اگر دیکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کسی ایک بھی انتخاب میں، کوئی ایک بھی حکومت واضح اکثریت سے کامیاب نہیں ہوئی، ماسوائے 1997کے انتخابات میں جب (ن) لیگ کو دو تہائی اکثریت ملی۔ اس دوتہائی اکثریت کی کہانی و حقیقت بھی آشکار رہی کہ کس طرح ’’لاڈلوں‘‘ کو کس کے خلاف دو تہائی اکثریت دلوائی گئی اور اس سے کیا مطلوب تھا؟ کہانی یہاں سے بدلنا شروع ہوئی جب لیگی قائدین نے اپنے روحانی جد امجد کی سوچ اور مشن کے مطابق ملک میں خلافت نافذ کرنے اور خود کو امیرالمومنین بنانے کا عمل شروع کیا اور 12 اکتوبر 1999 کو اس سوچ سمیت ملکی اقتدار سے باہر نکال دیے گئے۔ 
2013 کے انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) انتخابات کی شام کو ہی واضح اکثریت کی خواہش کا اظہار کرتی نظر آئی مگر ماضی کے تجربات اور حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس خواہش کو پورا نہیں کیا گیا مگر اقتدار بہرطور مسلم لیگ کو ہی ملا۔ 2014 کے دھرنے میں  تحریک انصاف بھی ببانگ دہل ’’امپائر‘‘ کی انگلی اٹھنے کا انتظار ہی کرتی رہی اور دیگر بہت سے اہم معاملات کو، فقط استعفے جیسی بے جا ضد کے سامنے، قربان کرگئی۔ دھرنے بنیادی طور پر ’’پاناما لیکس‘‘ کے بعد ترتیب دیے گئے مگر بروقت 
درست فیصلہ نہ کرنے کی صورت میں، گو ان دھرنوں کا حال عوامی تحریک کے بعد بے حال ہوچکا تھا اور اے پی ایس سانحے کے بعد بمشکل فیس سیونگ ملی۔ پاکستان کی سیاسی صورت حال اور اقتدار کے ماخذ (بقول اشرافیہ اور معروضی حقائق) 2016 میں ’’امکانات‘‘ کے نام سے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ ’’آپریشن ضرب عضب کو ذہن میں رکھیں تو ضرورت ایسی قیادت کی ہوگی جو ناصرف پُرعزم ہو بلکہ حوصلے کے ساتھ جرأت مندانہ فیصلے بھی کرسکے، سیاسی طور پر قابل قبول بھی ہو۔ ایسے قد کاٹھ اور عزم والی شخصیات موجودہ اسمبلی میں فقط دو ہیں، ایک چوہدری نثار علی اور دوسری عمران خان۔ عمران خان یہ تو ضرور چاہتے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب اپنے منطقی انجام تک پہنچے مگر ان کے بطور قابل قبول شخصیت پر سوالیہ نشان ہے۔ رہی بات پارلیمانی اکثریت کی تو ہم سب جانتے ہیں کہ اگر میثاق جمہوریت کے تحت میوزیکل چیئر کا کھیل رچایا جاسکتا ہے تو آپریشن ضرب عضب کے لیے اکثریت بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔دیکھتے ہیں پردہ غیب سے کیا نمودار ہوتا ہے اور اقتدار کا ہما اب کس کے سر سجتا ہے۔‘‘ 
2018 کے انتخابات میں اقتدار کا ہُما تحریک انصاف کے سر سج چکا اور اس عرصے میں اس کی کارکردگی بھی سب پر عیاں ہوچکی کہ اپنی ناتجربہ کاری کے باعث حکمران جماعت کئی معاملات پر توقعات کے مطابق پوری اترتی دکھائی نہیں دے رہی، بلکہ خود کو تماشا بنواتی جارہی ہے۔ اس وقت کہنے کو حکومت اور مقتدرہ ایک ہی صفحے پر ہیں اور ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ماضی کی غلطیوں سے اجتناب کرتے ہوئے بہترین گورننس کا مظاہرہ کیا جاتا، لیکن افسوس الیکٹیبلز کی سیاست کرتے ہوئے یہ ممکن ہی نہیں کہ میری ذاتی رائے میں ’’اقتدار کے رسیا‘‘ پنچھیوں کی شمولیت کے بعد، خالصتاً کسی سیاسی جماعت کی پالیسی نافذالعمل نہیں رہتی بلکہ ان الیکٹیبلز کے ذاتی مفادات ہمیشہ مقدم رہتے ہیں۔ اسی لیے ابھی تک، تمام تر دعووں کے باوجود،کسی بھی قسم کی سویلین قومی پالیسی نہیں بن سکی، ماسوائے یہ کہ مقتدرہ کی بنائی ہوئی پالیسی کو ہی آگے بڑھایا جارہا ہے۔ دوسری طرف یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ سویلین اداروں کی وضع قطع اب کلی طور پر بدل چکی اور وہ ریاست کے بجائے شاہی خاندانوں کے ذاتی غلام بن چکے کہ ان کی تقرریاں و تبادلے سیاسی اشرافیہ کے اشارۂ ابرو پر ممکن ہیں، غرضیکہ پاکستان کو ہر طرف سے گھٹاٹوپ گھٹاؤں نے گھیر رکھا ہے۔ ہوس اقتدار کے اس جوتم پیزار میں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ فریقین کو پاکستان کے متعلق سوچنے کی فرصت ہی نہیں وگرنہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اس خداداد مملکت کی نیّا پار نہ لگے۔
دوسری طرف پارلیمنٹ کے اندر صورت حال اس سے بھی زیادہ خراب ہے کہ حلیف ساتھ چھوڑنے کے لیے پرتول رہے ہیں بلکہ اس امر کا خدشہ بھی موجود ہے کہ وہ سیاسی پرندے جو سٹیٹس کو، کو برقرار رکھنے کے لیے تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے، وہ بھی ساتھ چھوڑ جائیں۔ اس صورت حال کے پس منظر میں کیا عمران اسمبلی توڑیں گے یا قیادت کی تبدیلی اسی اسمبلی میں سے ہوگی؟ مقتدر قوتوں کو اب احساس ہوجانا چاہیے کہ اس طرح کی ہینگ پارلیمنٹ کسی بھی صورت ملک کے مفاد میں نہیں ہوسکتی اور نہ ہی حکومت یکسوئی کے ساتھ امور سرانجام دے سکتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ سیاسی عمل کو، سخت قوانین اور اداروں کے اختیارات کے عین مطابق، بغیر کسی مداخلت کے روبہ عمل ہونے کا موقع دیا جائے۔