10 دسمبر 2019
تازہ ترین

نئی بات نئی بات

لاہور میں بارش کوئی نئی بات نہیں لیکن یہ نئی بات ضرور ہے کہ پاکستان کے دل کو پیرس بنانے کے دعوے داروں نے بارش کے پانی کی نکاسی کا کوئی انتظام ہی نہیں کیا۔ اوور ہیڈ برجز، انڈر پاسز اور شاہراہوں کی غیر ضروری قطع برید کے ذریعے لاہور کو کنکریٹ کا جنگل تو بنا دیا گیا لیکن اس جنگل میں آباد انسانی بستیوں کو ایسی سہولتیں ہی فراہم نہیں کی گئیں جن سے ان کی زندگیاں بھی آسان ہو سکتیں۔ بارش کو ہمیشہ سے ’باران رحمت‘ کہا جاتا ہے کیونکہ بیماریوں سے خشک سالی اور قحط تک کا علاج ان بوندوں میں موجود ہے جو اللہ رب العزت کے حکم سے برستی ہیں۔ مون سون بارشوں کی صورت رحمت کے یہ بیش بہا موتی ہر سال اپنا رنگ جماتے ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ناقص منصوبہ بندی اور ’اشتہاری ترقی‘ کے باعث آسمان سے برسنے والے یہ شفاف قطرے گندے پانی اور کیچڑ کی صورت گھروں میں داخل ہو کر زندگی اجیرن کر دیتے ہیں اور اپنے ساتھ ایسی بیماریاں بھی لاتے ہیں جو بسا اوقات لاعلاج بن کر سوہان روح ہو جاتی ہیں۔ پیر کی رات سے منگل کی شام تک مسلسل سترہ گھنٹے ہونے والی 250 ملی میٹر بارش نے سابق حکمرانوں کی ناصرف تمام پول کھول دی بلکہ اہل لاہور کو یہ علم بھی ہو گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت ان کی حالت زار سے بے خبر نہیں کیونکہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار شہر کی تالاب بنی سڑکوں کے دورے اور گندے جوہڑوں میں تبدیل ہو جانے والے نشیبی علاقوں میں گھرے لوگوں کی دادرسی کے لیے اپنی گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے بغیر کسی پروٹوکول کے خود باہر نکل آئے تھے۔ایسا نہیں کہ بارش کے بعد کسی وزیر اعلیٰ نے پہلی بار لاہور شہر کا دورہ کیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ بھی ہر بارش کے بعد کاؤ بوائے ہیٹ اور لانگ بوٹ پہن کر بارش زدہ لاہور کی  سیر کرتے رہے ہیں لیکن وہ نمائشی دورے ہوا کرتے تھے کیونکہ ان کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی نکاسی آب کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات اپنی موت آپ مر جاتے تھے اور اگلے ہی روز لاہور کسی متعفن قبرستان یا کچرے کے ڈھیر کا منظر پیش کرنے لگتا تھا۔اس میں شک نہیں کہ دھواں دھار اور مسلسل بارش نے سڑکیں، گلیاں اور نشیبی علاقوں میں ہر طرف پانی پانی کر دیا اور شاد باغ، گلشن راوی، سمن آباد، گلبرگ، شاہدرہ، مزنگ اور شام نگر سمیت درجنوں علاقوں میں کئی فٹ پانی جمع ہو جانے سے ٹریفک جام ہوا اور معمولات زندگی بھی بری طرح متاثر ہوئے۔ شہری تمام دن مشکلات کا شکار اور کسی مسیحا کے منتظر رہے۔ وزیراعلیٰ اس تمام صورت حال کو ناصرف مانیٹر کرتے رہے بلکہ خود بھی میدان عمل میں اتر آئے۔ ایسے میں ماضی کے برخلاف ان کے گرد پروٹوکول کا کوئی جھمگٹا تھا نہ ’ہٹو بچو‘ کی آوازیں لگانے والے شاہی خدام۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ڈیوس روڈ، شملہ پہاڑی، لکشمی چوک اور نکلسن روڈ سمیت دیگر مقامات کا دورہ کیا اور بوہڑ والا چوک کے قریب ایمپریس روڈ پر بارش کے پانی میں پھنسی چند خواتین کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر قریبی بس اسٹاپ تک بھی پہنچایا۔ وزیراعلیٰ نے سیف سٹیز اتھارٹی آفس کا دورہ کیا اور مانیٹرنگ روم سے شہر کے مختلف علاقوں میں جمع پانی اور اس کی نکاسی کا جائزہ بھی لیا۔عثمان بزدار نے سابق حکمرانوں کی غلط اور ناقص منصوبہ بندی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ شہر میں سفید ہاتھی نما منصوبے بنانے والوں نے شہریوں کی سہولت کے بنیادی انتظامات ہی نہیں کیے۔ وزیراعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ اور واسا حکام کو تمام شاہراہوں سے فوری طور پر پانی نکالنے کی ہدایت کی۔جب یہ سطور تحریر کی جارہی ہیں تو اطلاع ملی کہ شہر کے بیشتر علاقوں سے پانی نکالا جا چکا ہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول پر آگیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے اقدامات اور ہدایات پر بروقت عمل سے ایک جانب شہریوں نے سکھ کا سانس لیا اور اس امر کو سراہا کہ تبدیلی، اشتہارات میں تصاویر چھپوانے سے نہیں بلکہ میدان عمل میں نکل کر کام کرنے سے آتی ہے۔کیوں ۔۔۔! ہے نا نئی بات ۔۔۔