17 نومبر 2019
تازہ ترین

ہندو مسلم تنائو ہندو مسلم تنائو

تاریخ کا طالب علم ہونے کے ناتے بھارت میں تیزی سے ایک عرصہ سے زیر زمین موجود طوفان کو سطح آب پر آتے دیکھ رہا ہوں۔ بھارت میں سکھوں کے بعد شاید سب سے زیادہ ظلم وستم مسلمان بردشت کر رہے ہیں ان پر قیام بھارت کے بعد سے جن مظالم کا آغاز ہوا تھا ان میں کمی کبھی نہیں آئی، لیکن میڈیا کا اسی کی دہائی تک شاید اتنا زیادہ تسلط قائم نہیں ہوا تھا اس لیے کئی اہم واقعات اتنی زیادہ عالمی توجہ حاصل نہیں کر سکے۔ دوسری مسلمانوں کی ضرورت سے زیادہ بزدلی جس کی وجہ شاید ان میں لیڈر شپ کا فقدان اور قیام پاکستان کے بعد سوائے ابو الکلام کے باقی تمام کانگریس نواز لیڈروں کا بھی پاکستان کی طرف ہجرت کر جانا کیونکہ ان کو اس بات کا علم تھا کہ ہندو سامراج جو زبان سمجھتا ہے وہ انہیں بولنی ہی نہیں آتی۔ یہ ان کے نقطہ نظر کے غلط ہونے کی بھی سب سے بڑی دلیل ہے کہ وہ جس متحدہ ہندوستان کے لیے قائد اعظم کی مخالفت کرتے رہے، اس میں رہنے سے بھی خوفزدہ تھے۔ آپ کو کیا اس بات پر حیرانگی نہیں ہوتی کہ باچا خان نے مرنے کے بعد پاکستان میں دفن ہونا قبول نہیں کیا، لیکن جس متحدہ ہندوستان کے لیے ساری زندگی لڑتے رہے اس میں زندہ رہنا بھی انہیں گوارا نہ تھا۔ صرف انعام و اکرام کے لیے بھارت جاتے رہے۔ اسی طرح ہمارے وہ علمائے کرام جو خود کو پاکستان بنانے کے گناہ سے بری الزمہ قرار دیتے ہیں، قیام پاکستان کے بعد ان کے عقائد و نظریات میں تو فرق نہیں پڑا، لیکن وہ دیو بند صرف سیر کرنے جاتے ہیں۔ وہاں مستقل قیام نہیں فرماتے جب کہ ان کی خدمات کی پاکستان سے کہیں زیادہ اس عظیم درس گاہ کو ضرورت ہے۔
اسی طرح جو لوگ مجبوریوں یا اپنے سیاسی عقائد کی وجہ سے پاکستان نہیں آئے، انہیں قیام پاکستان کے دو تین سال بعد ہی علم ہو گیا تھا کہ انہوں نے غلط فیصلہ کیا ہے۔ اس کے باوجود جو مسلمان وہاں رہے وہ قریباً آدھے ہندو بن کر رہتے ہیں۔ ہریانہ میں تو رہنے والے بہت بہادر میواتی مسلمانوں نے مجبوراً اپنے بچوں کے نام بھی ہندوؤں والے رکھنے شروع کر دیے ہیں۔
بے چارے یہ بھارتی مسلمان ہندو سے متعدد مرتبہ پٹنے کے بعد بھی کبھی غصے میں نہیں آئے بلکہ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ مسلم ہندو بھائی چارہ قائم رکھیں۔ اس کے لیے وہ نیم ہندو بن کر بھارت میں رہتے ہیں۔ مسلم تہواروں کو کم اور ہندو تہواروں کو زیادہ جوش خروش سے اپنی کھال بچانے کے لیے مناتے ہیں۔ ہندو سامراج کی چمچہ گیری کرنے کے لیے بے چارے اس حد تک گر جاتے ہیں کہ مسلمانوں کی غالباً بھارت میں سب سے بڑی اسلامی درس گاہ کی سالانہ تقریبات میں مسز اندرا گاندھی کو صدر محفل بناتے رہے۔ یہ اعزاز مودی جی کو بھی حاصل رہا ہے۔
خوف اور بے بسی کا یہ عالم کہ آج تک ان کی زبان سے کشمیری مسلمانوں کے حق میں ایک لفظ بھی نہیں نکلا بلکہ یہ کشمیریوں کو بھارت ماتا کے باغی خیال کرتے ہیں جب کہ کشمیری بے چارے ان کے حق میں بیانات دیتے رہتے ہیں۔ تازہ مثال تو بڑی ہی شرمناک ہے، پلوامہ واقعہ کے بعد جب بزدل ہندو جنونیوں نے بھارت میں کشمیری مسلمانوں کو چن چن کر مارا تو ان کو بچانے کے لیے مسلمان نہیں، سکھ میدان میں اترے اور انہیں اپنے گھروں اور گوردواروں میں پناہ دی۔ انہیں کشمیر ان کے گھروں تک حفاظت سے پہنچایا۔
بھارتی مسلمانوں نے پاکستان سے زیادہ تعداد میں ہونے کے باوجود ہندو کی ہر ناجائز بات صرف اس لیے قبول کی کہ وہ ان سے خوش ہو جائے لیکن یہ ہندو کی سرشت میں شامل ہی نہیں۔ وہ تو اپنے ہم مذہب دلتوں کو اپنے برابر کے حقوق نہیں دیتا۔ آر ایس ایس نے مسلمانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح گزشتہ پانچ سال سے ذبح کرنا اپنا معمول بنایا ہوا ہے۔ جس مسلمان کو دل چاہے، جیسے دل چاہے، جب دل چاہے، اٹھا کر درخت سے باندھا اور ذبح کر دیا۔ مسلمان عورتوں کا ریپ ان کے مردوں کے سامنے کرنا تو معمول بن گیا ہے، لیکن مسلمان لیڈر خاص طور پر دیوبند مسلمان جو تحریک آزادی میں انگریزوں (شاید انگریزوں سے کم سکھوں سے زیادہ) لڑتے رہے، ان کی طرف سے مسلمانوں پر مذبح بند کرانے اور انہیں زبردستی ہندو بنانے کے ساتھ ساتھ دن رات جانوروں کی طرح ذبح کرنے کے خلاف کبھی کوئی بیان عالمی پریس کو دینے کی توفیق نہیں ہوئی، البتہ وہ بھارتی وزرائے اعظم کے ساتھ اپنے مذہبی اجتماعات کی رونقیں ضرور بڑھاتے رہے ہیں۔
پرویز انصاری نامی جھاڑ کھنڈ کے ایک مسلم نوجوان کا آر ایس ایس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل شاید مکافات کی بنیاد بن گیا اور قدرت کو مسلمانوں پر رحم آ گیا کہ اس واقعہ نے مسلمانوں کی غیرت ملی کو بیدار کر دیا ہے۔ انہوں نے بالآخر تنگ آمد بجنگ آمد مزاحمت کا ارادہ باندھا ہے اور دلی میں ایک بڑا مظاہرہ کیا۔ جہاں بھارت کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ بھارتی مسلمانوں نے ’’جیوے جیوے پاکستان‘‘ کے نعرے بے اختیار بلند کیے ہیں۔ اس کی اہم وجہ شاید چند روز پہلے دہلی میں ایک سکھ ٹمپو ڈرائیور کے ساتھ پولیس کی زیادتی کے خلاف سکھوں کی متعلقہ تھانے پر یلغار ہے۔ اس سے مسلمان نوجوانوں نے جو ایک طویل عرصہ سے اپنی منافق لیڈر شپ کے ہاتھوں ذلیل 
ہو رہے ہیں اب کشمیری اور سکھ نوجوانوں کی طرح خود میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دلی میں اس مسئلے پر سکھ اور مسلمان اکھٹے ہو گئے، جس کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور ان کی کمان اویسی برادران جیسے کسی مسلم لیڈر نے سنبھال لی تو عین ممکن ہے کہ مسلمانوں کو قدرے تحفظ مل جائے۔ ورنہ ہمیشہ کی طرح جوتے اور پیاز دونوں کھاتے رہیں گے۔ ظاہر ہے اس مسلم جاگرتی کا الزام ہندو دہشت گرد حکومت پاکستان پر لگائے گی، لیکن امید ہے کہ اس مرتبہ اسے مختلف جواب ملے گا۔
بقیہ: نقارخانہ