22 اکتوبر 2019
تازہ ترین

نیب انفورسمنٹ حکمت عملی کے مثبت نتائج نیب انفورسمنٹ حکمت عملی کے مثبت نتائج

تحریر:ناصر عباس
قومی احتساب بیورو 16 نومبر 1999ء کو قائم کیا گیا، اس کا ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں جبکہ 8 علاقائی بیوروز کراچی، خیبر پختونخوا، لاہور، راولپنڈی، بلوچستان، سکھر، ملتان اور گلگت بلتستان ہیں۔ نیب پاکستان کا انسداد بدعنوانی کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے جس کو آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد کے ذریعے بدعنوانی کے خاتمہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ نیب اعلامیہ کے مطابق یہ نیب آرڈیننس 1999ء کے تحت کام کرتا ہے، قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد نیب کے تمام افسران پر زور دیا کہ وہ آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد کی مؤثر حکمت عملی کے ساتھ ساتھ کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے میرٹ، شواہد اور قانون کے مطابق بدعنوانی کے مقدمات کی پیروی کریں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کیے گئے کرپشن پرسپشن انڈیکس میں پاکستان کا 116واں نمبر ہے جو بہترین درجہ بندی ہے۔ نیب NAO1999 کے تحت کام کرتا ہے جس کا دائرہ اختیار فاٹا اور گلگت بلتستان تک ہے۔ نیب نے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی ہدایت پر ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کیلئے آگاہی اور تدارک پر مشتمل سہ جہتی حکمت عملی تشکیل دی ہے جس میں سرکاری عہدیداروں کے بدعنوانی میں ملوث ہونے سے روکنے پر زور دیا گیا ہے۔ نیب آرڈیننس بدعنوان عناصر سے نمٹنے اور مجرموں سے لوٹی گئی وصول کرنے کا اہم قانون ہے اس لیے قانون کو انسداد بد عنوانی کا بہترین قانون قرار دیا گیا ہے اور دیگر ممالک میں بھی اسی قسم کی قانون سازی کی جا رہی ہے جو پاکستان کیلئے باعث فخرہے۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی انفورسمنٹ سٹرٹیجی مبینہ بدعنوانی سے متعلق نیب کو ملنے والی تحریری شکایت یا معلومات پر فعال ہو جاتی ہے جس کی سیکشن9  میں وضاحت کی گئی ہے، حاصل شدہ معلومات کے ساتھ شکایات کی جانچ پڑتال کا عمل قانون کے مطابق شروع کیا جاتا ہے، یہ عمل شکایت کی جانچ پڑتال کہلاتا ہے جہاں شکایت کنندہ کو اس کے پاس موجود شواہد فراہم کرنے کیلئے بلایا جاتا ہے۔ جب یہ ثابت ہو جائے کہ نیب آرڈیننس کے تحت جرم بنتا ہے تو مزید پراسس شروع کیا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلہ میں نیب آرڈیننس کے سیکشن 18 کے تحت انکوائری کی منظوری دی جاتی ہے جس میں مبینہ طور پر ملوث شخص کی شناخت کیلئے ثبوت اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ ریکارڈ اور شواہد اکٹھے کرنے کے عمل کے دوران گواہوں اور ملزموں کے بیانات بھی قلمبند کیے جاتے ہیں، اگر ملزم کے بیان میں تضاد ہو تو ملزم کے پاس جرم تسلیم کرنے کا آپشن ہوتا ہے اور وہ رضاکارانہ طور پر اثاثوں یا غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی رقم کو نیب آرڈیننس کے تحت واپس کر سکتا ہے تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ پر عملدرآمد کے تناظر میں رضاکارانہ واپسی کے عمل پر مزید عملدرآمد روک دیا گیا ہے کیونکہ یہ اب عدالتی معاملہ ہے، اس مرحلہ پر شواہد ثابت ہونے پر ملزم کو گرفتار کیا جا سکتا ہے اور پلی بارگین کا آپشن بھی اختیار کیا جا سکتا ہے جس کے تحت ملزم 10 سال کیلئے سرکاری عہدے اور کسی بھی بینک سے قرضہ لینے کیلئے نااہل ہوتا ہے۔ ملزم کی پلی بارگین کی درخواست نیب احتساب عدالت کو بھجواتا ہے جو پلی بارگین کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے۔ انویسٹی گیشن کے بعد ٹرائل کا عمل شروع ہوتا ہے اور احتساب عدالت میں ملزم کے خلاف بدعنوانی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں جہاں ملزم کو ممکنہ سزا ملتی ہے جو زیادہ سے زیادہ 14 سال قید بامشقت اور ملزم اور اس کے اہلخانہ کے اثاثے اور املاک کی ضبطگی ہو سکتی ہے۔ علاقائی بیوروز نیب کے آپریشنل ستون ہیں جو فیلڈ آپریشن جیسے شکایت کی جانچ پڑتال، انکوائریاں، انویسٹی گیشنز، مقدمات کی پراسیکیوشن، ٹرائل اور اپیلٹ مرحلوں میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔ نیب ہیڈکوارٹرز میں آپریشنل ڈویژن اور پراسیکیوشن ڈویژن قانون اور ایس او پیز کے تحت آپریشنل سرگرمیوں کو خوش اسلوبی سے سرانجام دینے کیلئے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ آپریشنل سٹرٹیجی اور ایس او پیز انفورسمنٹ کے رہنما اصول ہیں جو ادارہ میں مؤثر نگرانی اور احتساب کا نظام فراہم کرتے ہیں۔ آپریشنل فیصلے مشاورتی عمل کے ذریعے کیے جاتے ہیں، یہ فیصلے ایگزیکٹو بورڈز کے اجلاس میں کیے جاتے ہیں جس کی صدارت چیئرمین نیب کرتے ہیں جبکہ اس میں ہیڈ کوارٹرز اور علاقائی بیوروز سے سینئر افسران ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کرتے ہیں۔ ای سی ایل میں نام ڈالنے اور نکالنے، مفرور اور اشتہاری مجرموں کے ریڈ وارنٹ کے اجرا، غیر ممالکت کے میوچل لیگل اسسٹنٹس کی درخواستیں کو نیب ہیڈکوارٹرز سے قانون کے مطابق نمٹایا جاتا ہے۔ ماضی میں قانون پر عملدرآمد وائٹ کالر کرائمز کے خاتمہ کیلئے مؤثر ثابت ہوا ہے، نیب نے بدعنوان عناصر سے لوٹے گئے 326 ارب روپے وصول کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں جبکہ نیب کے مقدمات میں سزا کی مجموعی شرح 70 فیصد ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی دانشمندانہ قیادت میں نیب کی انفورسمنٹ کی مؤثر حکمت عملی کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ نیب کی کوششوںکے باعث پاکستان میں پہلی بار انسداد بدعنوانی کو نظم و نسق کے تناظر میں پانچ سالہ ترقیاتی ایجنڈا میں شامل کیا گیا ہے۔ نیب کو امید ہے کہ متعلقہ فریقوں کی اجتماعی کوششوں سے پاکستان کو کرپشن فری بنانے کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔