24 اگست 2019
تازہ ترین

مسلم لیگ ن کا مستقبل مسلم لیگ ن کا مستقبل

 گو کہ مسلم لیگ ن کی حکومت اس وقت وفاق پاکستان کے کسی بھی آئینی یونٹ میں موجود نہیں ہے مگر پھر بھی ملک کی ایک بڑی جماعت کے طور پر اس حیثیت تسلیم شدہ ہے۔ ملک کی اس بڑی جماعت کی مستقبل پر اگر اس وقت سوالیہ نشان ہیں تو ایسا بلاوجہ ہر گز نہیں ہے۔ جن کے نام کی وجہ سے مسلم لیگ ن کو ’’ن لیگ‘‘ بھی کہا جاتا ہے وہ میاں نواز شریف پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سے نااہل اور ایک ماتحت عدالت کی طرف سے قیدکے سزا کے بعد جیل میں بند ہیں۔ میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز جن کو اب بھی ان کا سیاسی جانشین تصور کیا جاتاہے ان کی قید کی سزا ضمانت کے بعد معطل تو ہو چکی ہے مگر وہ حتمی طور پر اس جرم سے بری نہیں ہو سکیں جس میں انہیںنااہل قرار دینے کے ساتھ سزائے قید بھی سنائی گئی ۔ میاں نوا زشریف کے نااہل ہونے کے بعد ان کی منشا سے ان کی جگہ شہباز شریف کو مسلم لیگ ن کا صدر بنا یا گیا مگر وہ بھی عدالت سے ضمانت بعد کچھ اس طرح سے بیرون ملک گئے کہ لوگوں کو ان کی جلد وطن واپسی کی امیدیں بہت کم ہیں۔ حمزہ شہباز کسی نہ کسی حد تک اپنے خاندان کے نااہل اور بیرون ملک مقیم لوگوں کے سیاسی خلا کو پر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھائی تو دیتے ہیں مگر عبوری ضمانت کے ذریعے خود کو گرفتاری سے محفوظ رکھنے والے حمزہ کے متعلق بھی کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ معاملات بہتر ہوتے ہی جونہی انہیں موقع ملا وہ بھی اپنے والد کی طرح یہاں سے کوچ کر جائیں گے۔ اس قسم کی صورتحال میں ذہنوں میں یہ سوال ابھرنا قدرتی بات ہے کہ جس خاندان کے ایک بزرگ کے نام کی وجہ سے مسلم لیگ ن کو ’’ ن لیگ‘‘ کہا جاتا ہے جب اس خاندان کے سرکردہ افراد ہی پاکستان میں ہی موجود نہیں ہونگے تو پھر اس ’’ ن لیگ ‘‘ کا مستقبل کیا ہوگا؟
پاکستان میں اب تک جتنی بھی مسلم لیگیں بنائی گئی یا موجود ہیں ان کے قیام کے وقت ان کے لیڈروں نے انہیں 1906 میں قائم ہونے والی آل انڈیا مسلم لیگ کا جانشین قرار دیا۔ قیام پاکستان کے بعد اس جماعت کی تقسیم در تقسیم اور نظریہ ضرورت کے تحت دوبارہ متحد کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد مسلم لیگ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ غیر جماعتی اسمبلی کے اندر سے اس وقت کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے ہیت مقتدرہ کے اشاروں پر ایک نئی مسلم لیگ برآمد کی۔ 1988ء  میں جب ضیا نے محمد خان جونیجو کی حکومت کو 58 ٹو بی کے تحت ختم کیا تو اس کے ساتھ ہی ان سے مسلم لیگ کی قیادت چھیننے کی کوششیں بھی شروع ہو گئیں۔ اس طرح کی کوششوں کے دوران جونیجو کی قائم کردہ مسلم لیگ دوگروپوں میں تقسیم ہو گئی۔ ان میں سے ایک گروپ کے صدر تو جونیجو ہی رہے جبکہ دوسرے کی صدارت سابق گورنر سرحد فدا محمد خان کے حصے میں آئی ۔ فدا محمد خان بہت مختصر عرصہ کے لیے مسلم لیگی دھڑے کے صدر رہے کیونکہ ایجنسیوں کی کوششوں سے محمد خان جونیجو کو مسلم لیگ کی صدارت تو واپس کر دی گئی مگر یہ مسلم لیگ جس اسلامی جمہوری اتحاد کا حصہ بنی اس کی صدارت میاں محمد نواز شریف کوسونپ دی گئی۔ محمد خان جونیجو کی وفات کے بعد 1993 میں میاں نواز شریف مسلم لیگ کے صدر بن گئے۔ میاں نواز شریف اکتوبر 1999 ء تک اس مسلم لیگ کے صدر رہے۔ مشرف کے ہاتھوں میاں نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد اور ان کی اسیری کے دوران یہ مسلم لیگ دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی جس میں سے مشرف کی سرپرستی میں بننے والی مسلم لیگ کو ہم خیال کہاگیا۔ ہم خیال گروپ کا صدر میاں محمد اظہر کو بنا یا گیا جبکہ مسلم لیگ نواز کی صدارت پر فائز تو میاں شہباز شریف کو کر دیا گیا مگر شریف خاندان کی جلاوطنی کی وجہ سے مخدوم جاوید ہاشمی کو سینئر نائب صدر کے طور پراسکا نگران بنا دیا گیا۔ 2002 ء کے عام انتخابات کے بعد میاں محمد اظہر کی جگہ چوہدری شجاعت حکومتی مسلم لیگ کے صدر بن گئے اور پھر کئی چھوٹی چھوٹی مسلم لیگوں کے ادغام سے اس کا نام مسلم لیگ قائد اعظم رکھ دیا گیا۔ 
اس وقت ایسا لگتا تھا کہ مختصر سے مختصر ہوتی ہوئی مسلم لیگ ن شاید معدوم ہو کر رہ جائے گی اور آئندہ مسلم لیگ قائد اعظم کا ڈنکا ہی بولے گا مگر میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے جب جدہ سے لندن منتقل ہوکر وہاں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا تو آہستہ آہستہ یہ اندازے غلط ثابت ہونا شروع ہو گئے۔ 2007 میں شریف براداران کی وطن واپسی کے بعد مسلم لیگ ن کے نئے عروج کا ایسا دور شروع ہوا جس میں میاں نوازشریف کو 2013 میں تیسری مرتبہ ملک کا وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ اعزاز حاصل کرنے میں عوامی حمایت کے ساتھ ساتھ ہیئت مقتدرہ کی آشیر بادنے بھی کافی اہم کردار ادا کیاجو یکایک ق لیگ سے ن لیگ کی طرف منتقل ہو گئی تھی۔ میاں نوازشریف کے وزیر اعظم بنتے ہی ان کے سر سے ہیئت مقتدرہ کے آشیر باد غائب ہو گئی۔آشیر باد کے غائب ہوتے ہوتے اقتدار تو میاں نوازشریف کے ہاتھ سے چھن کیا مگر ان کے نام پر موجود ن لیگ کے لیے عوامی حمایت میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا ۔میاں نوازشریف کے لیے عوامی حمایت میں فرق نہ پڑنے کی بنیادی وجہ ان مسلم لیگیوں کا وہ کردارہے جو اپنے ماضی کے برعکس مسلم لیگ ن کا کوئی دھڑا بنانے یا کسی دوسری مسلم لیگ میں جانے کے بجائے شریف برادران کے ساتھ ڈٹے رہے۔ ان لوگوں کے شریف برادران کے ساتھ ڈٹے رہنے میں میاں نوازشریف کے اس بیانیے نے بھی اہم کردار ادا کیا جس کا اظہار انہوں نے اور ان کی بیٹی مریم نواز نے جی ٹی روڈ کی ریلی کے دوران کیا۔ اس کے بعد انتخابی مہم کا آغاز ہوا، الیکشن سے قبل میاں نواز شریف کو سزا سنا دی گئی ،الیکشن کے بعد مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی جگہ اقتدار عمران خان کی پی ٹی آئی کو سونپ دیا گیااور پھر یہ بھی ہوا کہ میاں نوازشریف کا جی ٹی روڈ والا بیانیہ جس طرح اچانک نمودار ہوا تھا اسی طرح غائب بھی ہوگیا۔ اس سب کے باوجود ان لوگوں کا ن لیگ کے ساتھ وابستگی کا جذبہ جوں کا توں ہے جنہیں شریف خاندان کے بعد مسلم لیگ ن کی قیادت میں شمار کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی چوہدری نثار کو وہ سیاسی مرتبہ نہ مل سکا جس کے لیے انہیں تیار کیا گیا تھا حالانکہ اکتوبر 2018 میں لندن میں ہونے والی اسحٰق ڈار، نثار ملاقات میں بہت کچھ طے پاچکا تھا۔ بہر حال قصہ مختصر یہ کہ جو لوگ مشکل ترین حالات میں بھی مسلم لیگ ن کے ساتھ رہے ان کی موجودگی میں اس جماعت کے ساتھ اس طرح کا کچھ نہیں ہو سکے گا جو ق لیگ اور دوسری مسلم لیگوں کے ساتھ ہوتا رہا۔