18 اکتوبر 2019
تازہ ترین

مشکل فیصلے…! مشکل فیصلے…!

آئی ایم ایف کی سوچ کے زیر اثر تیار کردہ حالیہ بجٹ نے بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ڈالر کو آسمان تک پہنچادیا ہے۔ اس وجہ سے ملکی صنعت و تجارت بندش کا شکار اور عام آدمی کا جینا مشکل ہوچکا ہے۔ دراصل بجٹ سازوں نے موجودہ بجٹ صنعت اور کاروبار چلانے اور عام آدمی کو ریلیف دینے کے نقطۂ نظر سے نہیں بنایا۔ ان کا بڑا مقصد یہ تھا کہ قرض کی رقوم طے کردہ شیڈول کے مطابق آئی ایم ایف کو واپس ہوسکیں۔ پہلے بھی حکومتیں عالمی مالیاتی ادارے سے قرض لیتی رہی ہیں، لیکن کبھی اس قدر مہنگائی ہوئی اور نہ صنعت یا کاروبار بند ہونے تک نوبت پہنچی۔ حالات کی سنگینی کا یہ عالم ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ٹیکسٹائل کا ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب کر سانس لینا مشکل ہوچکا ہے۔ صنعت کاروں کی چیخ و پکار پر ارباب اختیار نے کان تک نہیں دھرے، یا محب وطن صنعت کاروں کی درد بھری آواز ارباب حل و عقد تک پہنچ نہیں سکی۔ حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ درآمدی معیشت دانوں کی صحت پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔ البتہ ملکی برآمدات سُکڑ جائیں گی، زرمبادلہ کے ذخائر کی بے رونقی بڑھنے کا اندیشہ پیدا ہوجائے گا۔ ان حالات میں بیرونی تاجر ایک بار پھر دوسری منڈیوں کا رُخ کرلیں گے، انہیں واپس پاکستان لانا کافی مشکل ہوجائے گا۔ 
ملک کی دوسری بڑی صنعت سیمنٹ سازی کی ہے، جو حالیہ بجٹ میں بیرونی ماہرین کی استحصالی سوچ تلے دب کر کراہ رہی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ سیمنٹ کی ایک بوری پانچ سو روپے سے بڑھ کر سات سو روپے تک پہنچ چکی ہے۔ موجودہ حکومت نے ہزاروں گھر تعمیر کرکے غریبوں کو دینے کا وعدہ کیا تھا۔ سیمنٹ، اینٹ اور سریا کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے باعث عام آدمی کے لیے گھر تعمیر کرنا ممکن نہیں رہا۔ تعمیراتی سرگرمیاں بند ہونے سے تمام متعلقہ صنعتوں پر شدید منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اس سلسلے میں بڑا مسئلہ بے روزگاری کا ہے۔ بجٹ سازی میں روا رکھے گئے طرز فکر و عمل کی وجہ سے تعمیراتی شعبہ ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار ہوچکا ہے۔ رہائش کے بعد کھانے پینے کی اشیاء کی دستیابی کا مرحلہ آتا ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز ہر روز حکومت کے قائم کردہ سستے بازاروں میں پہنچ کر دُکان داروں اور گاہکوں کے تاثرات معلوم کرتے ہیں۔ ان کا خلاصہ یہ بنتا ہے کہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ ان بازاروں میں پہنچنے والے اکثر و بیشتر گاہک پھلوں اور سبزیوں کے نرخ سن کر انگشت بدنداں واپس چلے جاتے ہیں۔ 
ایسے میں سرکاری خزانے کے مہمان وزیروں مشیروں کے تلقین بھرے اعلانات مہنگائی زدہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی کا کام کرتے ہیں۔ جب وہ فرماتے ہیں کہ معیشت کی سمت درست کرنے کے لیے مشکل فیصلے کرنے پڑرہے ہیں۔ ہر آدمی سوچتا ہے کہ اگر معیشت کی عمارت درست کی جارہی ہے تو ایک سال میں کچھ حد تک اس کی درستی دکھائی دینی چاہیے۔ بدقسمتی سے اصلاح کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ بگاڑ ہر دن کے ساتھ بڑھ رہا اور عوام کی پریشانیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ اگر وزیر، مشیر عوام کو صبر کی تلقین سے پہلے اپنا کھانا پینا، چلنا پھرنا اور رہائش کے مسائل اپنی جیب سے وابستہ کرلیں تو انہیں مشکل فیصلے برداشت کرنے کی قدرو قیمت کا ادراک ہوسکے۔ اس وقت مشکل فیصلوں کے باعث غم و غصہ اور قہر آلود نگاہوں کا مرکز عمران خاں بن رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ ہر قیمت پر صنعت کو چلانے اور کاروباری سرگرمیاں 
بڑھانے کی فکر کریں۔ مشاورت کا دائرہ وسیع کریں۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب دوستوں کو قریب کریں۔ آئی ایم ایف کے پسندیدہ ماہرین کی پوری ہسٹری ہر 
کسی کو معلوم ہے۔ انہوں نے کسی ملک کی معیشت کو درست نہیں کیا۔ جتنا جلد ہوسکے ملکی ماہرین سے استفادہ کی راہ استوار کریں اور پاکستانی سوچ کو اپنائیں۔ صنعت اور تجارت پر ٹیکسوں کا بوجھ ہلکا کریں، تاکہ یہ رواں دواں رہ سکیں۔