موجودہ حکومت کی کارکردگی…موجودہ حکومت کی کارکردگی… موجودہ حکومت کی کارکردگی…موجودہ حکومت کی کارکردگی…

موجودہ حکومت کچھ نئے نعروں اور وعدوں کے ساتھ انتخابات میں اتری اور پوری الیکشن کمپین کے دوران پاکستان کو بدلنے کی بات کی گئی، یعنی نئے پاکستان کی بات، جس میں ماضی کی قباحتوں خاص کر کرپشن کا اس طرح سدباب کیا جائے گا جس سے ملک ناصرف ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا، بلکہ ملکی دولت لوٹنے والے انجام کو پہنچیں گے۔ ان اقدامات کو بین الاقومی طور پر سراہا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک ابھرتی ہوئی معیشت کا ایسا پیغام جائے گا جس کی بدولت پاکستان میں بہت زیادہ سرمایہ کاری آئے گی۔ ملک کے اندر انصاف کا ایسا نظام قائم کیا جائے گا جس سے کسی غریب اور کمزور کی حق تلفی نہ ہوگی اور یہ بھی عوام کو باورکرایا گیا کہ ناصرف اس ملک کو قرضوں کی دلدل سے نکالا جائے گا بلکہ مزید قرضے لینے بند کردیے جائیں گے۔ خودانحصاری، خود احتسابی اور سادگی کا ایسا تصور پیش کیا گیا جسے لوگوں نے کافی پسند کیا اور پی ٹی آئی کو اتنے ووٹ ملے کہ وہ مرکز اور دو صوبوں میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ 
اس میں دورائے نہیں کہ عمران خان اپنے اس ایجنڈے پر ہر صورت میں عمل کرنے کا مکمل ارادہ رکھتے ہیں اور اس کے لیے وہ کوشش بھی کررہے ہیں، مگر معاملات اس سمت نہیں جارہے جدھر جانا 
چاہیے تھے۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت آج بھی اسی موڑ پر کھڑی ہے جدھر نو ماہ پہلے کھڑی تھی۔ حالانکہ خان صاحب نے اپنی بعض غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کچھ مثبت اقدام کیے ہیں اور اپنے وزراء (جن کی کارکردگی مایوس کن تھی) تبدیل کردیے۔ معیشت کے حوالے سے بہت بنیادی تبدیلیاں عمل میں لائی گئی ہیں، جن میں گورنر اسٹیٹ بینک کی تبدیلی بھی شامل ہے۔
چیئرمین FBR کو تبدیل کرنا قابل ذکر ہے۔ اپوزیشن کی تمام جماعتیں ان تبدیلیوں کو اس زاویے سے دیکھتی ہیں کہ یہ سب کچھ آئی ایم ایف کے کہنے پر کیا گیا اور اس سے پاکستان کی معیشت کو IMF کے پاس گروی رکھ دیا گیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ PTI نے حکومت میں آنے سے پہلے عوام کی توقعات خاصی حد تک بڑھادی تھیں۔ چونکہ معیشت کے حوالے سے زمینی حقائق کچھ اور ہی تھے۔ PTI حکومت نے اس وقت یا تو صحیح طریقے سے اس کا ادراک نہیں کیا، یا مناسب ہوم ورک کرنے میں ناکام رہی۔ اس حقیقت کا بھی ادراک کرنا چاہیے کہ حکومت کے لیے کچھ ایسے اقدامات کرنا ناگزیر ہیں جن کی بدولت مہنگائی کی ایک شدید لہر نے جنم لیا ہے، جس سے عوام بالخصوص غریب طبقہ بری حالت میں ہے۔ ابھی IMF سے قرض لینے کے بعد مہنگائی کی جو لہر شروع ہوگی، اس کی تلوار بھی عوام پر لٹکی ہوئی ہے، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی نو ماہ کی پالیسیوں کا دوبارہ جائزہ لیں اور وہ لوگ جن کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے، چاہے وہ وزیر ہوں یا مشیر، ان سے جان چھڑائی جائے اور ان کی جگہ ماہر اور مخلص لوگوں کو تعینات کیا جائے۔ اگر عوام کو یہ نظر آیا کہ حکومت کی سمت بالکل صحیح ہے اور اس سے ان کے آنے والے دن بہتر ہوجائیں گے تو یہ تمام کڑوی گولیاں نگل لیں گے اور خان صاحب کا ساتھ دیں گے۔ 
خٰان صاحب کو مثبت اقدام کرنے ہوں گے اور ناصرف پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ہوگا بلکہ عوام کو بھی باور کرانا ہوگا کہ جو وعدے الیکشن کے دوران کیے گئے تھے وہ اپنی جگہ درست ہیں مگر ملک کی موجودہ صورت حال میں فوری طور پر اُن وعدوں پر عمل کرنا خاصا دشوار ہے، اس کے ساتھ عوام کو اعتماد دلایا جائے کہ جوں ہی حالات صحیح ہوں گے، ہم وہ تمام اقدامات کریں گے جس سے ملک میں خوش حالی آئے گی۔ عوام کے حالات بدلیں گے۔ ایسا اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے کہ اگر تمام ادارے اور طبقات دل و جان سے کوشش کریں۔ بالخصوص اپوزیشن کو بھی مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ احتساب کا عمل ضرور جاری رہنا چاہیے، کیونکہ جنہوں نے اس ملک کو لوٹا، وہ اپنے انجام کو پہنچ سکیں۔ حکومت کو ہر اس اقدام سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے احتساب کا عمل متنازع ہو اور اس کا فائدہ ملزموں کو پہنچے۔ خان صاحب کو چاہیے کہ وہ جلسے اور جلوسوں میں بھی چوروں اور ڈاکوؤں کی بات چھوڑ دیں تاکہ یہ کام متعلقہ ادارے کریں اور آپ اپنی توجہ ایسی پالیسیوں پر مرکوزکریں، جس سے عام آدمی کی حالت بہتر ہو اور ملک میں انصاف اور خوشحالی کا دور دورہ ہو۔