15 ستمبر 2019
تازہ ترین

مودی کی دوبارہ آمد۔ کیوں؟ مودی کی دوبارہ آمد۔ کیوں؟

مودی کا دوبارہ اقتدار میں آنا حیرانی کی بات نہیں، کیونکہ یہ تو اسی سکرپٹ کا حصہ ہے جس کا بنیادی محور خطے کو ایک خونریز جنگ میں تبدیل کرنا ہے۔ اس میں ابہام نہیں رہنا چاہیے کہ پاکستان مخالف قوتیں اس کا حتمی فیصلہ کرچکی ہیں۔ اکھنڈ بھارت جیسے فاشسٹ نظریے کے حامل نریندر مودی کی اگر موجودہ کابینہ کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو آنے والا تمام منظرنامہ بہت حد تک واضح ہوجائے گا۔ اگر ایک جانب پاکستان و بھارتی مسلمانوں سے شدید بغض و عناد رکھنے والے امیت شاہ وزیرداخلہ،  راج ناتھ سنگھ وزیر دفاع، بلوچستان میں دہشت گردی کا منصوبہ ساز و بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے ایٹامک انرجی و سپیس کے محکمے اپنے پاس رکھ کر پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بجادی ہیں۔ تو دوسری جانب اجیت دوول نے چارج لیتے ہی بلوچستان، فاٹا اور خیبرپختونخوا میں  بھارتی ملٹری انٹیلی جنس میں ٹیکنیکل سپورٹ ڈویژن (T.S.D) کو دوبارہ فعال کرتے ہوئے عید کے دنوں میں فوجی افسران سمیت سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید کرکے حکومت پاکستان کو کھلا چیلنج دیا ہے۔ دن بہ دن سنگین ہوتی صورت حال کے باوجود بھارتی دہشت گردی کو للکارنے والے اور تکمیل پاکستان کی شناخت حافظ محمد سعید اور ان کی جماعت پر پابندی چہ معنی دارد۔ 
کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے والے خفیہ ہاتھ آخری راؤنڈ کھیلنے کے لیے صرف مناسب وقت کے انتظار میں ہیں۔ چونکہ مودی کے بغیر دشمن اپنا مذموم ایجنڈا پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچاسکتے، لہٰذا عالمی شطرنج کی اس چال میں مودی ایک متحرک مہرہ ہے، جو درحقیقت گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت کے اُس صہیونی منصوبے کا حصہ ہے، جس کو 2006 میں ایک امریکی یہودی کرنل رالف پیٹر نے Blood borders: How a better Middle East میں تفصیلاً بیان کیا تھا، جس میں پاکستان کوچار حصوں میں تقسیم کرنے کا گھناؤنا منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔ یہی خوف ناک منصوبہ بعد میں پینٹا گون کی بنیادی پالیسی کا لازمی جزو بن گیا تھا۔ یہود وہنود کے ان سرکش عوامل کو سمجھنے کے لیے قرآن مجید میں اللہ کے اس واضح پیغام کو سمجھنا ہوگا، ’’تم ایمان والوں کی دشمنی میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے۔‘‘ شام سے لے کر فلسطین اور افغانستان سے لے کر پاکستان تک کیے گئے رقص ابلیس کے پیچھے یہی بدترین دشمن نظر آئے گا۔ راقم کی رائے میں عسکری قیادت کو ہنگامی بنیادوں پرمیڈیا ہاؤسز سمیت مدارس، سکولز، کالجز اور یونیورسٹی کے ہر طالب علم سمیت تمام اساتذہ کرام کو،  دشمن کی چانکیہ strategy کے حوالے سے مکمل بریف کرنا چاہیے اور ساتھ فکری وعسکری تربیت کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ 
پوری قوم اور بالخصوص نوجوان نسل کو ایک پہلو ہمیشہ پیش نظر رکھنا ہوگا کہ جب ہم پاکستان کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد صرف پا کستان نہیں بلکہ اس سے مراد اسلامائزیشن ہے، یعنی حرمین شریفین سمیت پورا عالم اسلام۔ درحقیقت پاکستان کو حرمین شریفین اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا ساتھ دینے کی سزا دی جارہی ہے۔ دشمن بخوبی ادراک رکھتا ہے کہ ان سب کا تحفظ پاک فوج کررہی ہے۔ لہٰذا اس وقت دشمنوں کا سب سے بڑا ہدف پاک فوج اور ’’Economy Hub‘‘ گوادر پورٹ ہے۔ دشمن کے اس ایجنڈے کی تکمیل کے لیے بدقسمتی سے پڑوسی ممالک پیش پیش ہیں، جنہوں نے چاہ بہار بندرگاہ کو ان تخریبی اور دہشت گرد کاروائیوں کا مرکز بنایا ہوا ہے۔ اس حوالے سے قوم کو پڑوسیوں کے ان خطرناک عزائم سے آگاہی دینا بھی ضروری ہے۔
اس میں دورائے نہیں کہ مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے خطے اور بھارت کے مسلمان شدید ڈپریشن کا شکار ہیں، خصوصاً آسام کے 50 لاکھ بے یارومددگار مسلمان جن کو غیر ملکی قرار دے کر ’’نومینز لینڈ‘‘ منتقل کرنے کا حتمی فیصلہ ہوچکا ہے۔ 
خطے کے تجزیہ کاروں کے مطابق آسام کے یہ مسلمان کسی وقت بھی آتش فشاں بن کر پھٹ سکتے ہیں، جو بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جنگ لڑنے والوں کے لیے ایک بہترین انتخاب ہوسکتے ہیں۔ تمام تر مخدوش حالات کے باوجود مودی کا دوبارہ اقتدار میں آنا درحقیقت بھارت کی تقسیم کی بنیاد ہے اور مودی کے ہی دور حکومت میں بھارت بہت سے ٹکڑوں میں منقسم ہوجائے گا۔ کوئی اتفاق کرے یا نہیں، لیکن زمینی حقائق اِسی سمت اشارہ کررہے ہیں کہ مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی ملنے کے ساتھ بھارت کے مسلمانوں کو بھی آزادی کا سورج دیکھنا نصیب ہوگا۔ ان شاء اللہ۔