09 اپریل 2020
تازہ ترین

ملزم اور مجرم کا فرق ملزم اور مجرم کا فرق

اس وقت دنیا کے کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں قانون سازی کے ذریعے آجروں کو اپنے متوقع اجیر سے یہ سوال پوچھنے سے روک دیا گیا ہے کہ ’’کیا وہ کبھی کسی الزام کے تحت گرفتار ہوا، کیا عدالت میں اس پر عائد کردہ الزام سچ ثابت ہوا یا اسے بری کر دیا گیا، اگر الزام سچ ثابت ہونے پر اسے قصوروار ٹھہرایا گیا تو کیا سزا جرمانے کی حد تک تھی یا اسے جیل میں قید کیا گیا‘‘۔ اس طرح کی قانون سازی کا مقصد ایک تو یہ باور کرانا ہے کہ ملزم اور مجرم کو یکساں تصور نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا کوئی ملزم جو خود پر عائد الزام کو عدالت میں جھوٹا ثابت کر کے بری ہو چکا ہو، اسے ملازم رکھنے والے کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے متوقع ملازم پر کبھی کوئی الزام عائد ہوا یا نہیں۔ اس کے علاوہ اگر کوئی شخص اپنے اوپر عائد الزام سچ ثابت ہونے پر عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزا بھگت بھی چکا ہے تو یہی سمجھا جائے کہ ملکی قانون کے ساتھ اس کا حساب بے باک ہو چکا، لہٰذا آئندہ زندگی گزارنے کے لیے اسے درکار روزگار کی فراہمی کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے کہ کبھی اس پر عائد کوئی الزام جرم ثابت ہوا یا نہیں ہوا تھا۔
21 ویں صدی کے دوسرے عشرے کے اختتام پر جہاں دنیا کے کچھ ممالک میں ملزموں اور مجرموں کے متعلق اس حد تک حساسیت پیدا ہو چکی ہے کہ ملزم کو ہر حال میں معصوم تصور کیا جائے اور مجرم کی مخصوص عرصہ کی سزا کے اثرات اس کی تمام زندگی پر محیط نہ ہونے پائیں وہاں ہو سکتا ہے کہ ملزم اور مجرم کی حیثیت کے فرق کا بیان کچھ لوگوں کو عجیب اور غیر ضروری محسوس ہو رہا ہو۔ یہاں عجیب بات یہ نہیں کہ اس دور میں ملزم اور مجرم کا فرق بیان کیا جا رہا ہے بلکہ عجیب اور قابل شرم بات یہ ہے کہ اس قدر ترقی یافتہ دور میں بھی ملزم اور مجرم کا فرق بیان کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ یہ ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ یہاں اقتدار کے ایوانوں میں ایسے اعلیٰ عہدیدار موجود ہیں جو محض الزام کی بنیاد پر ناپسندیدہ ملزموں کو ایسی سزا سے ہمکنار کرانا چاہتے ہیں جو الزام 
سچ ثابت ہونے پر بھی نہ دی جا سکتی ہو ۔ دنیا میں جہاں صدیوں کے تجربات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا جا چکا ہے کہ سخت سے سخت سزاؤں سے نہیں صرف معاشی و معاشرتی اصلاحات کے ذریعے جرائم کی شرح کو کم سے کم سطح پر لایا جا سکتا ہے۔ وہاں حکومت میں اگر ایسے وزیر اور مشیر موجود ہوں جو جرائم کے متعلق محض اپنے قیاس کی وجہ سے روزانہ پانچ ہزار لوگوں کی پھانسی کے متمنی ہوں تو ضروری ہو جاتا ہے کہ عام لوگوں تک یہ بات پہنچائی جائے کہ تہذیب کے ارتقائی سفر میں کون ہمیں پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
عام مشاہدے کے مطابق پاکستان میں اس وقت حکومتی سطح پر ہر طرح سے لوگوں کو یوں گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی پر کوئی الزام عائد ہو جانا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے بے بہا نفرت کی جائے، جس حد تک ممکن ہو اس کی کردار کشی کی جائے، اسے اذیت پہنچانے میں کوئی کسر روا نہ رکھی جائے، اسے جائز حقوق سے محروم رکھنے اور سزا کا حقدار ٹھہرانے کے لیے جس حد تک ممکن ہو پراپیگنڈہ کیا جائے۔ حیران کن طور پر میڈیا کا ایک خاص حصہ اس قسم کی جہالت پھیلانے میں مدعی سست گواہ چست کے مصداق حکومت کی بھر پور معاونت کر رہا ہے۔ اس طرح کے لوگ اپنی کوششوں کو کامیاب تصور کر رہے ہیں کیونکہ انہیں علم ہے کہ یہاں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو شعوری طور پر ملزم اور مجرم کے فرق سے آگاہ ہیں۔ یہاں لوگ بُری طرح سے اس وہم کا شکار ہیں کہ جب کسی پر کوئی الزام عائد ہو جائے تو اس مطلب یہی ہے کہ وہ قصور وار ہے۔ جب بھی کسی ملزم کو کسی الزام کے تحت پولیس یا کوئی دیگر ادارہ حراست میں لیتا ہے تو اس کا مقصد تفتیش کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔ پولیس حراست کا مطلب کسی جرم میں سزا کا آغاز ہرگز نہیں۔ قانون کی نظر میں پولیس حراست میں موجود ملزم کے عدالت کی طرف سے باعزت بری ہونے یا سزا کا مستوجب ٹھہرائے جانے کے یکساں امکانات ہوتے ہیں۔ بعض ماہرین کے نزدیک ملزمان کے سزا پانے کے بجائے بری ہونے کے امکان کو اس لیے زیادہ تصور کیا جانا چاہیے کیونکہ عدالتوں کو یہ اختیار تو ہے کہ وہ کسی ملزم کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیں مگر شک کی بنیاد پر وہ کسی ملزم کو سزا دینے کی مجاز ہرگز نہیں ہیں۔ اس لیے چاہے کوئی ملزم پولیس حراست میں ہو یا جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں، اسے اس وقت تک معصوم ہی تصور کیا جانا چاہیے جب تک عدالت کی طرف سے اسے باقاعدہ سزا نہ ہو جائے۔ اس سلسلے میں بعض ماہرین قانون تو یہ بھی کہتے ہیں کہ کسی ملزم کو اس وقت تک معصوم تصور کیا جانا چاہیے جب تک کہ اس کی اپیل کا آخری حق بھی ختم نہ ہو جائے اور ملک کی آخری عدالت اس کی سزا کا حتمی فیصلہ نہ سنا دے۔ یاد رہے کہ اگر کسی مسلسل زیر حراست ملزم کو جرم ثابت ہونے پر قید کی سزا ہو جائے تو اس کی سزا میں زیر حراست رکھا جانے والا عرصہ بھی شامل ہو جاتا ہے لیکن اگر کوئی مسلسل زیر حراست ملزم بری ہو جائے تواس کے زیر حراست رکھے جانے والے دورانیے کا کوئی بدل نہیں ہوتا۔ یہاں تو ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ لوگوں کو ایک دہائی کے قریب عرصہ تک زیر حراست رکھا گیا مگر عدالت میں ان پر کوئی الزام سچ ثابت نہ کیا جا سکا۔
لوگوں کے آئینی، قانونی اور 
اخلاقی حقوق پامال کرنے کے لیے ملزم اور مجرم کی حیثیت کو جس طرح سے گڈ مڈ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ کس دھڑلے سے کیا جا رہا ہے یہ بھی ایک عیاں حقیقت ہے۔ عام لوگوں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی کی آشیر باد سے ہو رہا ہے یا آشیر باد کے بغیر ہو رہا ہے۔ عام لوگوں کو یہ تشویش ضرور ہونی چاہیے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کہیں غلط تو نہیں ہو رہا۔ تہذیبی ارتقا کے برعکس سفر کو کسی صورت درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں بحیثیت مجموعی نا صرف ذاتی طور پر خود کو مہذب بنانا ہو گا بلکہ ایک ایسے مہذب معاشرے کی تشکیل کرنا ہو گی جو ترقی یافتہ دنیا سے ہم آہنگ ہو۔ مہذب معاشرے کی تشکیل کے لیے عام لوگوں کے مہذب ہونے سے زیادہ ضروری ہے کہ حکمران طبقہ تہذیب یافتہ ہے۔ حکمرانوں کو اسی وقت مہذب تسلیم کیا جائے گا جب وہ گالی گلوچ کی زبان سے گریز کرتے ہوئے دکھائی دیں گے، جب وہ عدم برداشت کے رویوں کو ترک کریں گے اور جب وہ صلح جوئی کی طرف مائل ہوں گے۔ یاد رہے مہذب معاشرے کی تشکیل کے لیے سب سے پہلے حکمرانوں کو مہذب ہونا ہو گا۔
بقیہ: لعل و گہر