مقاصد کچھ اور ہیں…؟ مقاصد کچھ اور ہیں…؟

کیا کسی شخص کا اعلیٰ حسب نسب اسے احتساب اور قانون سے استثنیٰ دیتا ہے؟ قانون ہی وہ پیمانہ ہے جس سے کردار کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ مہذب اور ترقی یافتہ بنام جاہل و پس ماندہ معاشروں میں بنیادی فرق ہی قانون کی بالادستی اور احتساب کا ہے۔ امانت، دیانت و کردار کی بلند پایہ ہستی حضرت عمر فاروقؓ  منبر پر تشریف فرما ہیں۔ ایک بدو کھڑا ہوکر کُرتے کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ محفل میں موجود صحابہ کرامؓ میں سے کسی نے اسے منع کیا اور نہ اسے سازش قرار دیا۔ خود خلیفہ نے جواب دیا اور وہ بدو اس وقت تک اپنی جگہ پر کھڑا رہا، جب تک خلیفہ نے اسے مطمئن نہیںکیا۔
مشہور یونانی مفکر سقراط پر نوجوانوں کو بگاڑنے کا الزام تھا۔ الزام غلط تھا۔ اس پر مقدمہ قائم کیا گیا، اسے عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے اسے سزائے موت کا حکم سنادیا۔ چونکہ سقراط ایک مفکر تھا، اس کی تعلیمات حق گوئی پر مبنی تھیں، اس کے پیروکار اور شاگرد اس سے والہانہ محبت کرتے تھے، انہیں عدالت کا فیصلہ ہضم نہیں ہوا۔ انہوں نے سقراط کو جیل سے رہا کرانے کا فیصلہ کیا اور اپنے ارادوں کے بارے میں سقراط کو آگاہ کیا اور کہا کہ ہم نے جیل انتظامیہ سے مل کر معاملات طے کرلیے ہیں، آپ جیل سے فرار ہوجائیں، اس طرح آپ سزا سے بچ جائیں گے۔ سقراط نے اس مشورے کو ٹھکرا دیا اور کہاکہ میں اپنی ریاست کے قانون کو نہیں توڑ سکتا۔ اس نے زہر کا پیالہ پی لیا اور ہمیشہ کے لیے امر ہوگیا۔ یہ ہوتا ہے ’’کردار‘‘۔
گلے پھاڑ کر جمہوریت اور قانون کی بالادستی کا عَلَم اُٹھانے والے نام نہاد لبرل دانشور یہ بتانا پسند کریں گے کہ وہ کون سا مہذب جمہوری ملک ہے، جو کسی اعلیٰ سرکاری منصب پر فائز شخص کو قانون سے استثنیٰ دیتا ہو یا بدعنوانی کے سنگین الزام پر اس کے حق میں میڈیا کے ذریعے یا سڑکوں پر ریلیاں نکال کر قانون نافذ کرنے، تحقیق یا فیصلہ کرنے والے اداروںکو دبائو میں لانے کی کوشش یاکسی بھی طریقے سے قانون کا راستہ روکنے کی جرأت کرے۔
جسٹس فائز کے خلاف ریفرنس پر کچھ سیاسی قوتیں اور میڈیا عناصر اسے پولیٹی سائز کرکے ملک کے اندر جاری احتسابی عمل کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے مقدمات احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور وہ ان سے راہ فرار اختیار کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں، مگر ایسا ہوگا نہیں۔
رہا ریفرنس کا سوال تو وہ بمطابق قواعد و ضوابط سپریم جوڈیشل کونسل بھیجا گیا ہے۔ سپریم کونسل اعلیٰ عدلیہ کے معزز سینئر ججوں پر مشتمل ہے، وہ اس کا قانون و رولز کے مطابق جائزہ لیں گے۔ اگر الزامات غلط  ہوئے تو یقیناً ریفرنس خارج ہوجائے گا، اس طرح جسٹس صاحب سرخرو ہوں گے، ان کے وقار میں مزید اضافہ ہوگا۔ یہی طریقہ دنیا کے تمام مہذب ممالک میں رائج ہے۔ دوسروں کو ہدف تنقید بنانا بڑا آسان ہے۔ کل تک جو سیاسی قوتیں عدلیہ کے احتساب کا مطالبہ کررہی تھیں، آج یکایک وہ عدلیہ کی آزادی کے نعرے لگانا شروع ہوگئی ہیں۔ عدلیہ تو آج بھی مکمل آزاد اور خودمختار ہے جتنی پہلے تھی۔
آئین و قانون کی بالادستی کے علمبردار یہ بتانا پسند کریں گے کہ آئین کا کون سا آرٹیکل ہے جو انہیں عدالتوں کی تالابندی کا اختیار سونپتا ہے۔ عدالتیں فیصلے وکلاء نمائندوں کی خواہشات پر نہیں بلکہ آئین و قانون کے مطابق دیتی ہیں۔ ریفرنس ایشو نہیں، مقاصد کچھ اور ہیں۔ احتساب ریاست کا فیصلہ ہے جو کسی بھی قیمت پر کمپرومائز نہیں ہوگا۔ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، رخنہ اندازی کرنے والے خاک چاٹیں گے، وقت کے ساتھ احتساب کے عمل میں شدت آئے گی سخت اور کڑا احتساب ہوگا۔ کوئی ادارہ بھی احتساب سے بالاتر نہیں۔
فوج پاکستان کا ایک منظم اور مضبوط ترین ادارہ ہے، اس کی تمام طاقت و قوت کا راز اس کاخود احتسابی نظام ہے۔ پہلی دفعہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے احتسابی نظام کو پبلک کے لیے اوپن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سینئر جرنیلوں اور غداری کے جرم میں سزائے موت دے کر ثابت کردیا ہے کہ کوئی بھی شخص اداروں سے اور کوئی بھی ادارہ ریاست سے بڑا نہیں۔ دو سال میں لگ بھگ400 فوجی افسروں کو مختلف الزامات کے تحت سزائیں دی گئی ہیں، کیا ایسی مثال فوج کے علاوہ کسی اور ادارے میں بھی ہے؟ بھارت کا فوجی بجٹ 60 ارب ڈالر ہے جب کہ اس کے مقابلہ میں پاکستان کا فوجی  بجٹ 7 ارب ڈالر ہے۔ اسی بجٹ میں 27 فروری کو دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر اس کے عزائم خاک میں ملا دیے گئے۔
 تمام بیرونی دشمن قوتوں کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنے اپنے ممالک کو رپورٹ کرچکی ہیں کہ وہ پاکستان کو فوجی لحاظ سے شکست نہیں دے سکتے۔ اس وقت تمام بیرونی مخالف ایجنسیاں ایک پوائنٹ پر متفق ہیں کہ پاکستان کو عدم استحکام، خلفشار کا شکار کیا جائے۔ اس سلسلے میں بھاری بھرکم سرمایہ کاری کررہے ہیں، اندرون ملک چند میڈیا عناصر اور زرخرید غلاموں کے ذریعے پاک فوج اور آئی ایس آئی کوہدف تنقید بناتے ہیں۔ پاک فوج حالت جنگ میں ہے۔ پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ جو لوگ ان حالات میں ملک کو عدم استحکام، خلفشار کا شکار کررہے ہیں، وہ ملک اور قوم سے کس قدر مخلص ہیں، اس کا اندازہ خود کرلیجیے۔