22 اکتوبر 2019
تازہ ترین

مجرم کون ہو گا؟ مجرم کون ہو گا؟

بادشاہت ہو یا آمریت، جمہوریت ہو یا مارشل لا، فن حکمرانی کے کچھ اصول اور ضابطے ہوتے ہیں۔ وقت اور حالات کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر فیصلے بھی کرنا پڑتے ہیں اور سیاسی عملدرآمد کی راہیں بھی استوار کرنا پڑتی ہیں۔ ایسی حکومتیں جن کی زمین میں جڑیں نہ ہوں ان کیلئے تو یہ کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ انہیں تمام تر سیاسی مخالفت کو نظرانداز کر کے مفاہمت اور مصالحت کے ساتھ بلکہ مصلحت کے ساتھ آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ لیکن افسوس کہ معروض کے منظرنامہ میں مخالفت کو دشمنی میں تبدیل کر دیا گیا جس کا نتیجہ ہے کہ فریقین محاذ آرائی کی طرف تیزی سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ میمنہ اور میسرہ کو مسلح کر کے پیادوں کی بھی صف بندی کر دی گئی ہے۔ کوئی وقت جاتا ہے کہ فریقین ایک دوسرے پر حملہ آور ہوں گے اس صورت حالات میں دست و گریبان ہونے کا خدشہ بھی ہے پھر کسی کا دامن محفوظ ہو گا نہ کسی کا گریبان۔
صاحب الرائے لوگوں اور فہمیدہ اذہان کا یہی خیال ہے کہ وہ کھیل جو ’’اب کی بار صرف‘‘ سے شروع ہوا تھا اس نے اناؤں کے وہ حصار بنائے ہیں کہ ان میں رواداری اور برداشت ہی مفقود نہیں ہوئی، مفاہمت اور مصالحت کے امکان بھی معدوم کر دیے گئے۔ یہ فرض خوش فہم حکمرانوں نے سرپرستی کے زعم میں اپنے فرائض میں شامل کر لیا۔ خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری حالانکہ اگر انہیں تاریخ کا ذرا بھی شعور ہوتا تو انہیں معلوم ہوتا کہ مصالحت اور مفاہمت نہ سہی کچھ ہمدردوں کی حمایت تو حاصل کر لی ہوتی۔ ان کے آئیڈیلز نے جو طریقہ کار اپنایا تھا، اسی کو نقش قدم بنا کر آگے بڑھتے۔
جنرل ایوب خان نے عوام میں موجود اس وقت کی سیاسی قوتوں کو ساتھ ملا کر ایک اپنی مسلم لیگ بنائی تھی، انہیں اقتدار میں ’’شراکت دار‘‘ بنا کر اپنے مقاصد کی تکمیل کی۔ اپنا آئین بھی بنایا اور پھر دس سال تک حکومت بھی کی۔ جنرل ضیاء الحق نے بھی پی این اے کی جماعتوں کو شراکت دار بنایا، پھر سیاسی قوتوں کو مجلس شوریٰ میں شامل کیا جس کے سربراہ خواجہ آصف کے والد محترم خواجہ صفدر تھے اور پھر جب انہیں بین الاقوامی دباؤ کے تحت جمہوریت بحال کرنا پڑی تو غیر جماعتی انتخابات کرائے گئے۔ اس غیر جماعتی اسمبلی سے مارشل لا ہٹانے کی شرط پر 85ء کا وہ آئین منظور کرایا گیا جس میں چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر صدر بھی بنا اور تاحیات آرمی چیف بھی رہا۔ ایوان صدر اختیارات کا مرکز بنا، آٹھویں ترمیم کے تحت حکومتوں کا آنا جانا ہوتا رہا اور پھر جنرل مشرف کی آمد ہوئی۔ انہوں نے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے بجائے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ اپنے لیے تجویز کیا۔ لیکن عوام سے سیاسی حمایت حاصل کرنے کے بعد انتخابات کرائے، یہ الگ بات کہ ان کو اپنے غیر آئینی اقدامات کو تحفظ دینے کیلئے ایک نئی آئینی ترمیم کی ضرورت پڑی تو اس کیلئے انہوں نے قاف لیگ کی سرپرستی بھی کی، پیپلز پارٹی سے ’’محب وطن‘‘ بھی تلاش کیے اور متحدہ مجلس عمل کا تعاون بھی حاصل کیا جو اس زہر خورانی میں براہ راست شامل تو نہیں ہوئی لیکن صدارتی انتخاب میں پختونخوا اسمبلی میں ’’الیکٹورل کالج‘‘ کو تعاون فراہم کیا۔ جنرل مشرف باوردی صدر منتخب ہو گئے لیکن افسوس کہ بینظیر بھٹو کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت انہیں شکستہ دلی سے وردی اتارنا پڑی، رہی سہی کسر 2008ء کی اسمبلی میں ممکنہ اور مجوزہ تحریک عدم اعتماد کے خوف نے اس کمانڈو کی تمام جرأت اور بہادری کو ہتھیار پھینکنے پر مجبور کر دیا۔ وہ تمام تر اعزاز کے ساتھ باعزت رخصتی کے بعد اسلام آباد میں اپنی ذاتی رہائش گاہ بادل نخواستہ منتقل ہو گئے۔
یہ وہ جنگ تھی جو مبینہ طور پر جمہوریت اور آمریت کے درمیان براہ راست ہوئی اور جمہوریت بہترین انتقام بن کر سامنے آئی۔ رہی سہی کسر اٹھارہویں ترمیم کی منظوری نے پوری کر دی۔ یہی وہ ترمیم ہے جو تمام سٹیک ہولڈرز کیلئے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ موجودہ حکومت کے قیام کو بھی اسی پریشانی کے ازالے کا مقصد بھی قرار دیا جاتا ہے، وزیروں مشیروں نے اس کی واضح نشاندہی بھی کی حتیٰ کہ جس کو حکومت کی قیادت کیلئے منتخب کیا گیا تھا، اس نے بھی واضح طور پر کہا کہ اس ترمیم کے باعث وفاق دیوالیہ ہو گیا ہے، صوبوں کو ملنے والے فنڈز پر نظرثانی ہونی چاہیے جس پر چھوٹے صوبوں کی طرف سے صدائے احتجاج بھی بلند ہوئی۔ لیکن افسوس جب یہ معلوم تھا کہ ترامیم جب کثرت رائے سے آئین کا حصہ بن جاتی ہیں تو پھر ان پر نظرثانی کیلئے جو بھی ترمیم کرنا ہے اس کیلئے دوتہائی اکثریت لازم ہو جاتی ہے۔ ستم بالائے ستم کہ وہ ماحول تخلیق کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی، مصالحت و مفاہمت کے بجائے نفرت اور تعصب کا غبار اڑایا گیا۔ وہ جو کچھ امید تھی وہ بھی معدوم کر دی گئی۔
یہی پس منظر ہے جس میں حسن انتخاب سوالیہ نشان بنا ہوا ہے، مایوسی کی گرد میں افواہیں اڑتی رہی ہیں جو نئے انتخابات سے شروع ہوئیں تو کبھی براہ راست مداخلت کا تذکرہ ہوا جو بین الاقوامی اور علاقائی حالات میں ہی نہیں، داخلی انتشار کے باعث نامناسب اور ناقابل قبول بھی قرار دیا گیا اور نقصان دہ بھی۔ اور جب انتخابات کی بات ہوئی ان کے نتائج بھی سوالیہ نشان ثابت ہوئے۔ ان کے غیر جانبدار
 ہونے پر اعتماد حاصل کرنا اور ایک سوال کا باعث بھی بنا۔ اس اعتماد کو سیاستدانوں نے کچھ یوں زخمی کر دیا ہے کہ ان کا اندمال مشکل ہے۔ چنانچہ ان ہاؤس تبدیلی ہی مناسب سمجھی جا رہی ہے۔ جو کچھ بھی ہو گا اس ماہ کے آخر تک واضح ہو جائے گا۔ بجٹ پر اسمبلی میں ارکان کی رائے بھی سامنے آ جائے گی اور اپوزیشن کی اے پی سی کے فیصلے بھی واضح ہو جائیں گے۔ لیکن ہمارے سامنے یہ سوال نمایاں ہے کہ جو بھی ہو گا اس کا ذمہ دار کون ہو گا، اس کا مجرم کون ٹھہرایا جائے گا؟ کوئی ایک سیاستدان یا مختلف سیاسی جماعتیں۔ نااہلی یا حب الوطنی؟؟