25 مئی 2019
تازہ ترین

مبارک سلامت تاقیامت مبارک سلامت تاقیامت

وزیراعظم پاکستان سے لے کر تمام وزیر، مشیر اور سفیر اپنے اپنے فرائض منصبی تو ادا کرتے ہیں، اس کے علاوہ وہ حکومت کے مارکیٹنگ منیجر بھی ہوتے ہیں، وہ اپنے شعبے کے ساتھ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ غیرممالک میں پاکستانی مصنوعات کی کب، کہاں، کیسے جگہ بناسکتے ہیں، اس  کے علاوہ بیرون ممالک سے اپنے ملک کے لیے کیا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں، روایتی وزیر، مشیر، سفیر زیادہ عرصہ اپنی جگہ برقرار نہیں رکھ سکتے، انہیں بہرحال گھر جانا ہوتا ہے۔
وزیراعظم کہیں دبے کہیں کھلے لفظوں میں بجٹ کے بعد وفاقی وصوبائی حکومتوں میں ٹیم ارکان تبدیل کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں، اس تبدیلی کی وجہ صرف ناقص کارکردگی نہیں بلکہ کرپشن اور مال بنائو پالیسی پر عمل کرکے روپیہ کمانا، ملک سے باہر بھیجنا اور جائیدادیں خریدنا بھی ہے۔ بجٹ کی تیاریاں شروع ہیں، نیا فنانس منیجر چارج سنبھالنے کے فوراً بعد کاروبار کے مالک کو مشورہ دیتا ہے کہ کمپنی نے مختلف بینکوں سے جو قرض لے رکھا ہے، اس پر سود کی شرح مناسب نہیں، لہٰذا پہلی فرصت میں ہمیں یہ قرض واپس کردینا چاہیے، تاکہ سود کی مد میں ادا کی جانے والی رقم کی بچت ہوسکے اور یہ بچت منافع میں اضافے کا سبب بنے، مالک کو یہ نکتہ پسند آتا ہے، وہ فوراً اس پر عمل کرتاہے اور خوشی سے پھولا نہیں سماتا۔
نوکری کے پہلے برس میں یہ فنانس منیجر ہر شعبے میں کفایت شعاری کرنے کا درس دیتا ہے اور ریزرو اکائونٹ خالی کرنے کے ساتھ ایک آدھ قیمتی جائیداد کو فروخت کرنے کے بعد کمپنی کے بینک سے لیے گئے قرض واپس کراکر سکھ کا سانس لیتا ہے کہ ایک اہم مرحلہ مکمل ہوا اور اس کی اصل واردات کے لیے میدان صاف ہوا۔
نوکری کے دوسرے برس اس کار مختار کو خیال آتا ہے کہ مارکیٹ میں نئی مشینری آئی ہے، جس کی استعداد کار مثالی ہونے کے ساتھ یہ کم خرچ بھی ہے، کمپنی کے مالک کو اس کی افادیت بیان کی جاتی ہے، مشین بنانے والی کمپنی کے نمائندوں سے رابطہ کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام ہوتا ہے، انہیں فیکٹری وزٹ کی دعوت دی جاتی ہے، جس کے بعد بورڈمیٹنگ میں وہ کمپنی مالکان و ڈائریکٹر انہیں بتاتے ہیں کہ آپ کی مشین اپنی عمر پوری کرچکی ہے، اسے رکھنا اور اس سے مزید کام لینا اب گھاٹے کے سودے کے سوا کچھ نہیں۔
کمپنی کے مالکان اور کرتا دھرتا  سب خوش ہوتے ہیں کہ انہیں بروقت آنے والے بڑے خطرے کا احساس ہوگیا، اس خدمت کے صلے میں فنانس منیجر کی تنخواہ میں زبردست اضافہ ہوجاتا اور اسے کہا جاتا ہے کہ اس ناکارہ مشینری کو فوراً بیچو اور نئی مشینری کا بندوبست کرو، یاد رہے کہ اس منصوبے میں انجینئرز اور پروڈکشن منیجر سب اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور صلۂ خدمت پاتے ہیں۔
چند روز بعد ہونے والی میٹنگ میں علم ہوتاہے کہ مشینری فروخت کرنے کے بعد نئی مشینری خریدنے کے لیے مزید کئی کروڑ روپے درکار ہوں گے، مالکان سر پکڑکر بیٹھ جاتے ہیں، فنانس منیجر انہیںدلاسہ دیتا اورکہتا ہے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں میں ہوں نا، پھر وہ ایک اور بینک سے کئی کروڑ کا قرضہ منظور کرادیتا ہے، نئی مشینری خرید لی جاتی ہے، ایک نئے جوش و ولولے سے فیکٹری میں کام شروع ہوجاتا ہے، ورکرز کو بتایا جاتا ہے کہ کروڑوں روپے نئے یونٹ پر خرچ ہوگئے ہیں، مالکان کے پاس جوکچھ تھا وہ خرچ ہوگیا، اس سال یا تو پرانی مشینری سے چلنے والا یونٹ بند کرتے اور سب ملازمین کو گھر بھیجنے یا نئی مشینیں خرید کر فیکٹری چلاتے، مزدور کی محبت میں نئی مشینری خریدنے اور فیکٹری چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے لہٰذا اس سال ورکرز کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ نہیں کیاجاسکتا، مزید برآں اوورٹائم بھی ڈبل کے بجائے سنگل ہی ملے گا، جو کام کرنا چاہتا ہے کرے جو نہیں کرنا چاہتا وہ گھر جائے، یہ سن کر مزدور رہنما خاموش رہتے اور مزدوروں سے کہتے ہیں کہ شکر کرو فیکٹری چل رہی ہے ورنہ تو پھر فاقے اور لمبے ہی فاقے تھے، مزدور چپ رہنے پر مجبور ہوجاتاہے، فیکٹری مالکان وڈائریکٹران نئی مشینیں اور اس کی پروڈکشن دیکھ کر ایک روز حساب کرنے بیٹھتے ہیں تو علم ہوتا ہے کہ نئی مشین کی استعداد کار اتنی نہیں جتنی بتائی گئی تھی، منافع میں بھی اس قدر اضافہ نہیں ہوا جتنا بتایا گیا تھا۔
فنانس منیجر اور پروڈکشن منیجر کے ساتھ مزید میٹنگز میں ایک سال گزر جاتا ہے، تلخیاں بڑھتی ہیں اورپھر اچانک فنانس اور پروڈکشن منیجرز استعفیٰ دے کر چلے جاتے ہیں، مالکان ان کی شکل دیکھتے ہیں، ان کے پلے کچھ نہیں پڑتا جبکہ نیا قرض لے کر دینے والا اور نئی مشینری خرید کر دینے والی ٹیم  نہال ہوچکی ہوتی ہے، سب یک جان دوقالب ہوکر ایک خلیجی ریاست کے دورے پر نکل جاتے اور پندرہ روز کے بعد سیرسپاٹے کے بعد فریش ہوکر نئی نوکری کی تلاش شروع کرتے ہیں جو انہیں جلدہی مل جاتی ہے، اس کی وجہ ان کا ٹیکنوکریٹ ہونا بتایا جاتا ہے، یاد رہے کہ خلیجی دورے کی سپانسر وہی کمپنی ہوتی ہے جس کی جدید ترین مشینیں خرید کرفیکٹری کو نئی ٹیکنالوجی سے ہمکنار کیا جاتا ہے، اس واردات میں سب سے زیادہ کمائی اس شخص کی ہوتی ہے جو بینک سے بھاری بھر کم قرضہ لے کردیتا ہے یعنی فنانس منیجر، یہ واردات اسی طرح پھر دہرائی جاتی ہے پر عام آدمی، ورکر، مزدور کے حالات نہیں بدلتے۔
آئی ایم ایف سے آنے والے فنانس منیجرز کا کردار بھی یہی ہے، اس کا کام کسی بھی ملک کی یا اس کے بسنے والوں کی حالت سدھارنا نہیں بلکہ اپنی سخت ترین شرائط پر ضرورت مند کو قرض لے کردینا ہے اور حلق پر انگوٹھا رکھ کر واپس لینا ہے، وہ قرض دینے سے قبل اثاثے گروی رکھنا نہیں بھولتا اور وقت آنے پر آنکھیں ماتھے پر رکھنا بھی، اگر کوئی ادارہ، کوئی ایجنسی ان بین الاقوامی فنانس منیجروں کے اثاثے دیکھے تو حیرت سے دنگ رہ جائے، ایک قرضہ لے کر دینے کے 
بعد ان کے بینک اکائونٹ میں کئی ملین ڈالر کا بونس منتقل ہوتا ہے، تنخواہ حسب سابق جاری رہتی ہے۔ سمجھ دار فنانس منیجر ڈالرز ٹھکانے لگانے کے لیے غیرملکی بیوی کا انتظام کرنا نہیں بھولتے، یہ سبق بھی انہیں ٹریننگ کے ابتدائی مراحل میں پڑھا دیا جاتا ہے اور اس کی افادیت بھی سمجھا دی جاتی ہے، غیرملکی شہریت کی حامل بیوی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کرپشن اور کمیشن سے کمائی گئی دولت اس اکائونٹ میں محفوظ رہتی ہے، کوئی اس پر میلی نظر نہیں ڈال سکتا خواہ وہ دوتہائی اکثریت سے آیا وزیراعظم ہو یا مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، سب کی پرواز ایک حد تک ہوتی ہے، حد عبور کریں تو ان کے پر جل جائیں، اب یہ کوئی راز نہیں کہ دو دو اور تین تین غیرملکی شہریت کی حامل بیویاںکیوں پالی جاتی ہیں، اربوں کی جائیداد ان کے نام سے خرید کر پاور آن اٹارنی اپنے اہل خانہ کے نام رکھنے کا رواج بہت پرانا ہے، مگر ہر دور میں نیا ہی رہتاہے، اہل پاکستان کو آئی ایم ایف کی طرف سے تین قسطوں میں چھ ارب ڈالر مبارک، ساتھ نیا فنانس منیجر مبارک، سب سلامت رہیں تاقیامت۔
بقیہ: صورتحال