19 نومبر 2019
تازہ ترین

مہاتما گاندھی کی رہائی مہاتما گاندھی کی رہائی

(26 جنوری 1924ء کی تحریر)
اس کے علاوہ ملک کے مختلف مقامات میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان فساد برپا ہو گئے۔ غرض حکومت پریشان ہو رہی ہے کہ ان انواع و اقسام کی مصیبتوں کا کیا علاج کرے اور کونسی خاص حکمت عملی اختیار کرے کہ ملک میں امن چین ہو یا حکومت کیلئے کوئی خاص راہ عمل نکلے۔
سطور بالا سے ہمارا مدعا یہ ثابت کرنا ہے کہ حکومت اور ملک کے تمام طبقات مہاتما گاندھی کی اسیری کو بلائے عظیم سمجھتے ہیں اس لئے بہتر ہوگا کہ حکومت مہاتما جی کو فی الفور آزاد کر کے اپنی حرکت پر پشیمان ہو۔ اگر حکومت نے ایسا کیا تو ملک کے تمام حلقے بے انتہا اطمینان خاطر محسوس کریں گے اور حکومت اور اہل ہند دونوں کو اپنی اپنی راہ عمل تجویز کرنے میں آسانی رہے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکالی اور حکومت
حکومت نے اکالیوں پر جو جبر و تشدد شروع کیا ہے اس کے متعلق ان صفحات پر بارہا تذکرہ آتا رہا ہے۔ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کا رات کے وقت محاصرہ، زبردستی دفتر کے اندر داخل ہونا، سیوا داروں کو زد و کوب، دفتر کی تلاشی ، کاغذات کا صندوقوں میں بند کر کے اٹھا لے جانا یہ تمام واقعات قارئین کرام کو معلوم ہو چکے ہیں۔ یہ تو امرتسر کی حالت ہے۔ بھائی پھیرو میں گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ علاوہ ازیں گورو کے باغ کا تصفیہ پھر ایک نازک صورت اختیار کرتا نظر آتا ہے۔ پچھلے سال مہنت اور اکالیوں کے تنازعہ کا تصفیہ اس صورت میں ہوا تھا کہ سر گنگا رام نے گورو کے باغ کو ٹھیکہ پر لے لیا تھا۔ اب یہ اطلاع موصول ہوئی کہ مہنت نے دخل یابی کا دعویٰ دائر کر دیا ہے یا کرنے والا ہے۔ ان تمام واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت یا اس کے کارندے ہر طرح اکالیوں کو دق کرنے، ان کی روح حیات کو دبانے اور ان کی تنظیم کو توڑنے کے درپے ہیں اور حتیٰ الامکان شر انگیزی کے کسی سرچشمے کو بھی جوش میں لانے سے احتراز نہیں کرتے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ اس قسم کے ناکام تجربوں کو دہرانا کہاں کی عقل مندی، کہاں کا تدبر اور کہاں کی دور اندیشی ہے۔ اکالی زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔ انہیں اپنی زندگی کا صحیح احساس ہے۔ گزشتہ تین سال کی مسلسل و پیہم قربانیوں نے ان کے خون میں حریت و آزادی کی ایک غیر فانی حرارت پیدا کر دی ہے اور حکومت کی طرف سے جبر و تشدد کا ہر وار ان کیلئے زندگی، اولوالعزمی، استقلال اور قومی تنظیم کا ایک جدید پیغام ثابت ہوا ہے۔ پھر معلوم نہیں کہ حکومت ان نکمے اور ناکام ہتھیاروں کو کیوں بار بار استعمال کر رہی ہے جن کی بے اثری اور ناکامی کا وہ گزشتہ تین سال کی مدت میں بہ کرات و مرات تلخ تجربہ کر چکی ہے۔ ہمیں اپنے محترم، معزز اور عزیز اکالی بھائیوں کے ساتھ گہری ہمدردی ہے۔ ہماری دلی دعا ہے کہ خدا انہیں ان آزمایشوں میں صبر و استقلال کے ساتھ پورے اترنے کی توفیق دے۔ انہوں نے مہاتما جی کی تعلیمات عدم تشدد کا جو عدیم النظیر عملی نمونہ پیش کیا ہے اسے ہندوستان کی دوسری جماعتوںکیلئے دعوت عمل بنائے۔ ہر ہندوستانی کا فرض ہے کہ وہ اکالی بھائیوں کی ہر ممکن امداد و اعانت کرے۔ کانگرس کیلئے ضروری ہے کہ موجودہ حالات کی نزاکت کے پیش نظر وہ اکالیوں کی حمایت و امداد کے معاملہ میں سب سے زیادہ توجہ کرے اور عملاً بتلا دے کہ حکومت کا یہ وار محض سکھوں پر نہیں بلکہ ہر اس ہندوستانی پر ہے جس کے دل میں وطن کی محبت ہے، حق و صداقت کا عشق ہے، عدل و انصاف کی پاسداری ہے اور مذہب کی شیفتگی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صوبہ متوسط کے سوراجی
قارئین کرام کو معلوم ہو گا کہ صوبہ متوسط کے سوراجی ارکانِ کونسل نے اپنی نمایاں اکثریت کی بدولت سر فرینک سلائی کے مقررہ وزرا کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد منظور کر کے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان سے استعفے لے لے۔ ایسے مواقع پر عام دستور یہ ہے کہ مخالف جماعت وزارت کا قلم دان سنبھال لیتی ہے لیکن سوراجی ارکان یہ عہد کر چکے ہیں کہ جب تک ان کے مطالبات کی تکمیل نہیں ہوگی اس وقت تک وہ کسی سرکاری عہدے کو قبول نہیں کریں گے۔ سر فرینک سلائی گورنر صوبہ متوسط کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ سوراجی ارکان کے مطالبات کو پورا کر دے اور نہ کسی دوسرے صوبے کا گورنر ایسا کرنے کا مجاز ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سر فرینک سلائی کونسا طریق اختیار کریں گے۔ اگر انہوں نے وزرا کو بحال رکھا تو سوراجی ارکان کہتے ہیں کہ ہم صوبے کے طول و عرض میں دورے کریں گے، بلدیات کے ارکان کو اس بات پر آمادہ کریں گے کہ وہ وزرا کے احکام کی تعمیل سے انکار کر دیں اور عام طور پر صوبہ بھر سے احتجاج کا مطالبہ کرائیں گے کہ گورنر کو واپس بلا لیا جائے۔    (جاری ہے)