23 جولائی 2019
تازہ ترین

مہاتما گاندھی کی رہائی مہاتما گاندھی کی رہائی

(26 جنوری 1924ء کی تحریر)
 وہ ایک سیدھی سی بات جانتے ہیں کہ حکومت سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھو۔ حق و صداقت کیلئے خود تکلیف اٹھائو کسی کو تکلیف نہ دو۔ بس ان چند الفاظ کے اندر ساری تحریک ترک موالات اور خلاف ورزی قانون پوشیدہ ہے۔ آپ نے اپنی تحریک کے دوران میں جس حق پرستی اور صداقت شعاری کا ثبوت دیا اس کا اثر یہ ہے کہ آج دوست اور فداکار معتقدین تو ایک طرف رہے، مخالفین تک اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ مہاتما گاندھی عہد حاضر کا بزرت ترین انسان ہے۔
دنیا کی تاریخ میں تم کو اس امر کی مثال ڈھونڈے سے نہ ملے گی کہ خود جج کسی مجرم کی شرافت اور علوئے مرتبت کا اعتراف کرے۔ مہاتما گاندھی کو جس جج نے سزا دی اس نے دوران مقدمہ اور فیصلے میں مہاتما گاندھی کیلئے بہترین الفاظ لکھے۔ سر جارج لائیڈ گورنر صوبہ بمبئی نے مہاتما جی کی گرفتاری کا حکم دیا تھا لیکن آج وہ بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے عمر بھر اپنے کسی فعل سے اتنی نفرت نہیں ہوئی جتنی مہاتما گاندھی کو گرفتار کرنے سے ہوئی۔ مجھے جب کبھی اپنی اس حرکت کا خیال آتاہے شرمندہ ہو جاتا ہوں۔ کیا اس کے بعد مہاتما کی بے گناہی اور آپ کے تقدس کے مزید ثبوت کی کوئی ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ ان کو گرفتار کرنے کا حکم دینے والا اور ان کو سزا دینے والا دونوں اس عظیم الشان ’’مجرم‘‘ کے خلاف کارروائی کرنے سے خجل و شرمندہ ہیں اور محض حکومت کی انتقامی مصلحتوں نے ان کو اس شدید گناہ کے ارتکاب پر مجبور کیا۔
آج مہاتما جی کی طبیعت (نصیب دشمناں) ناساز ہے۔ سارے ہندوستان کا دل دھڑ رہا ہے۔ ہندوستانیوں میں سے تو شاید ہی کوئی سیاہ باطن شقی القلب ہو گاجو مہاتما گاندھی کی صحت اور رہائی کا آرزو مند نہ ہو۔ تارکین موالات، حامیان موالات، اعتدال پسند، خطاب یافتہ، وفادار سب اتفاق رائے سے پکار رہے ہیں کہ مہاتما جی کو فی الفور رہا کر دینا چاہئے۔ یہاں تک کہ اب تو بعض اینگو انڈین جراید بھی جن کو مہاتمام سے ہمیشہ عداوت رہی ہیغ نہایت زور و شور سے آپ کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
معلوم ہوتا ہے کہ مہاتما گاندھی کی حقیقی قدر و قیمت ملک کو اس وقت معلوم ہوئی ہے جب آپ زندان بلا میں محبوس کر دیئے گء۔ آپ کے قید ہوتے ہی تحریک آزادی کی رفتار سست پڑنے لگی، اختلافات کا بازام گرم ہو گیا، شرارت پسند طبایع نے چھوٹے چھوٹے مذہبی اور ملی جھگڑوں کی آگ مشتعل کر کے عوام کی توجہ کو آزادی وطن جیسے مقصد سے غافل بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ تارک موالات اور قومیت پرست ہندوئوں اور مسلمانوںکو معلوم ہو گیا کہ وہ اپنے رہنمائے اعظم کی رہبری و قیادت کے بغیر لاشہ محض ہیں اور ان کے متعدد رہنمائوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کی آواز پر سارا ملک لبیک کہہ سکے۔ اعتدال پسند اور خطاب یافتہ اور وفاداران سرکار کو معلوم ہو گیا کہ جب تک ملک میںدفتری حکومت کے خلاف شورش و ہیجان کی آگ نہ بھڑک رہی ہو ان کی اعتدال پسندی اور وفاداری حکومت کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی۔ جہاں تحریک آزادی کی رفتار ذرا سست ہوئی وہیں دفتری حکومت والوں نے اپنے وفاداران ازلی اور عقیدت کیشان سرمدی سے طوطے کی طرح دیدے بدل لئے۔
نیک نیت حامیان موالات کو بھی اس امر کا احساس ہو گیا کہ جب تک ملک کی اکثریت آزادی کامل طلب نہ کرے حکومت ملک کو مزید اصلاحات عطا کرنے پر رضامند نہیں ہو سکتی۔ مسلمانوں کو اچھی طرح معلوم ہو یا کہ جب تک ملک کے سر پر مہاتما گاندھی جیسے بے نفس و بے تعصب رہنما کا سایہ عاطفت نہ ہو شدھی اور سنگٹھن جیسی تحریکات برپا کرنے والے پنڈت اور سوامی اپنی اختلاف انگیز حرکات سے باز نہیں رکھے جا سکتے۔ حکومت بھی غالباً اس امر کو سمجھ گئی ہوگی کہ مہاتما گاندھی کو تحریک ترک موالات میں مصروف رہنے دینا ملک کی موجودہ حالت سے زیادہ باعث تشویش نہ تھا۔ مہاتما گاندھی کی آزادی کے زمانہ میں تو حکومت کو صرف یہ مصروفیت تھی کہ اس تحریک کو ہر جگہ تشدد سے دباتی رہے لیکن آپ کی اسیری کے بعد تو بیسیوں مصیبتیں پیدا ہو گئیں۔ ایک طرف سکھ خلاف ورزی قانون کر رہے ہیں دوسری طرف ببراکالی قتل و خونریزی پر کمر باندھے ہوئے ہیں۔ ایک جگہ کانگرس تعمیری نظام عمل کی تصدیق و توثیق کے علاوہ برطانی مال کے مقاطعہ کی قرارداد منظور کرتی ہے دوسری جگہ دیش بندھو داس کی جماعت کونسلوں کے اندر جا کر وہ طوفان برپا کر دیتی ہے جس کو سر فرینک سلائی (Frank Sly) گورنر صوبجات متوسط ہی بہتر جانتے ہیں او رآیندہ دیکھئے کس کس کونسل میں کیا طوفان اٹھتے ہیں۔   (جاری ہے)