14 دسمبر 2019
تازہ ترین

معاشرتی تقسیم میں ایک لمحہ معاشرتی تقسیم میں ایک لمحہ

قوموں کی ترقی اور بقا کیلئے سمت کا تعین انتہائی اہم ہوتا ہے یہ ذمہ داری قائد اور قیادت کی ہوتی ہے اور پھر یہ ذمہ داری بانی پاکستان محمد علی جناح نے قائداعظمؒ کی حیثیت سے قانون اسمبلی سے 11 اگست 1947ء کی تقریر میں پوری کر دی اور عمائدین کو بتا دیا پاکستان کی بقا، سلامتی اور تحفظ کا راستہ جمہوریت اور رواداری اور برداشت والے سماج میں ہے، اس کے بغیر کوئی راستہ نہیں۔ افسوس ہم نے سیاسی اور فکری سانجھ کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ اس کو خارزار قرار دے کر نظر انداز کر دیا۔ اسے قدم قدم صاف کرنے کے بجائے ایسی راہ کو اپنے لیے منتخب کیا جو کھائیوں اور گڑھوں سے بھری ہوئی تھی۔ اس سفر کی کٹھنائی کا پہلا موڑ ایک بازو توڑ گیا۔ لیکن افسوس ہم نے اس راہ سے علیحدگی اختیار نہیں کی بلکہ اسی کو سلامتی اور تحفظ کی ضمانت بنا کر پیش کیا۔ اس کیلئے استدلال بھی تلاش کیے اور جواز بھی پیش کیے۔ یہ الگ بات کہ ستر سال گزرنے کے باوجود ابھی تک سلامتی خطرات کی زد میں ہے، وقت اور حالات کا جبر ہر گزرتے دن اسے مزید گہرا کرتا چلا جاتا ہے۔ مگر ہم ہیں کہ اپنا راستہ تبدیل کرنے، نئی سمت کا تعین کرنے کو تیار نہیں، چہرے بدل کر سمجھتے ہیں ’’نیا پاکستان‘‘ بن جائے گا۔
حالانکہ نیا پاکستان بنانے اور سمت کا تعین کرنے کیلئے میک اپ زدہ، گھسے پٹے چہروں کو ہیرو بنا کر پیش کرنے سے نہیں نئی فکر، نئی سوچ اور نئی بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے کا خاتمہ ہو رہا ہے نئے حالات اور نئے تقاضے سینہ تان کر سامنے کھڑے ہیں اور ہم حلوے کی تیاری کا حکم دے رہے ہیں، ماضی کی زنجیریں پہن کر تبدیلی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ کون نہیں جانتا کٹھ پتلیوںکی طرح انگلیوں کے اشارے پر ناچنے والے صرف اور صرف ’’حکم حاکم مرگ مفاجات‘‘ سے زیادہ کچھ نہیں ہوتے۔ اندھیرا ختم ہوتا ہے پردہ اٹھتا ہے تو کھیل بھی ختم ہو جاتا ہے اور تماشائی اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ پھر کیا ہو گا، ہم کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔
لیکن کیا کریں۔ فرد کی حیثیت سے اس سے علیحدہ رہ سکتے ہیں نہ معروض کو نظرانداز کر سکتے ہیں۔ اس شہر خرابات کی بنیادوں میں ہمارے آبا کا خون بھی شامل تھا اور پھر اس کی تعمیر میں ہماری محنت اور مشقت کا استحصال بھی شامل کیا گیا۔ یہ الگ بات کہ اس شہر کے کسی دروازے، کسی سڑک، کسی گلی پر ’’میرا نام‘‘ نہیں لکھا۔ سب کچھ ان کے نام ہے جن کا تعمیر سے کوئی تعلق تھا نہ ہے۔ وہ آئے اور قابض ہو گئے یا پھر دیرینہ وفاداریوں کا صلہ پانے والے رہبر و رہنما ٹھہرے۔ ستم بالائے ستم کہ ان مہاجروں، غاصبوں اور قابضوں نے ’’معاشرتی تقسیم‘‘ کو اپنی بقا اور تحفظ کیلئے ضروری سمجھا، اس کی تعلیم و تدریس کا بندوبست بھی کیا، ریاستی اور حکومتی وسائل بھی فراہم کیے، دست شفقت سے بھی نوازا۔ ہندو ازم نے تو سماج اور اس میں آباد انسان کو اونچ نیچ اور ذات پات میں تقسیم کیا تھا یہاں تو بات اس سے بھی دو ہاتھ آگے چلی گئی۔ مومن اور کافر، ہندو اور مسلمان، سکھ، عیسائی۔۔۔ اور اس پر فخر، تکبر اور مان، برتری اور بالادستی کا زعم۔ ’’قرارداد مقاصد‘‘ خالصتاً سیاسی مقاصد کیلئے تھی۔ اس نے اس تقسیم کو مزید گہرا کر دیا۔ اسی سے ہی دو قومی نظریہ اور نظریہ پاکستان کشید ہوا جس کی شاخیں پاکستان کے سماج میں غیر محسوس انداز میں پھیلتی چلی گئیں۔ ان سارے نظریوں میں حکمرانوں کے اپنے سیاسی مقاصد کا تحفظ تو تھا لیکن مجبور اور بے بس عوام کیلئے کچھ نہیں تھا۔ وہ جو بچی کھچی دائیں اور بائیں بازو کی عالمی تحریکوں کے ساتھ جڑت تھی وہ بھی ختم ہو گئی۔ جب ذوالفقار علی بھٹو آئے تو بائیں بازو کو تنکے کا سہارا تو ملا مگر کچھ دیر بعد احساس ہوا کہ ذوالفقار علی بھٹو بھی تبدیلی کی علامت ضرور تھے مگر وہ ’’سٹیٹس کو‘‘ میں سے راستہ تلاش کرتے ہوئے بالآخر ’’سٹیٹس کو‘‘ کی چیرہ دستی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ خود بھی مایوس ہوئے اور عوام کو بھی بدظن کر گئے، ان کی قربانیں رائیگاں ہوئیں۔ پھر جنرل ضیاء الحق کا وہ دور آیا جس میں مذہب کی بنیادوں پر ہونے والی تقسیم فرقہ وارانہ تضادات تک پھیلی گئی۔ حکومت اور حاکمیت کے 
نئے اصول و قواعد وضع ہوئے، ریاست اور سیاست کا نیا کردار تشکیل دیا گیا۔ امارت جائز اور جمہوریت کفر ٹھہری۔ معاشرہ فکری اور نظریاتی تقسیم کے ساتھ عملی اور سیاسی جدوجہد میں تقسیم بھی ہوا اور بیگانہ بھی ہوا۔ جمہوری ادارے بے معنی اور غیر ضروری ہو گئے۔ اقتدار و اختیار ہی حرف آخر ٹھہرا تو عوام کی سیاسی عمل سے بے رخی کھل کر سامنے آ گئی۔ انتخابات کاغذی حیثیت اختیار کر گئے، پسند اور ناپسند کے ساتھ سلیکشن کو اہمیت اور افادیت حاصل ہو گئی۔ اسی تسلسل میں ہی موجودہ قیادت کو نئے چہرے کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ چہرہ خوبصورت، دلکش اور پسندیدہ تو تھا مگر فہم و فراست، سیاسی جہاں بینی سے عاری۔ اس نے نفرت، تعصب اور انتقام کو ہی سیاست اور حکومت کی اولین ترجیح بنا دیا۔ مارو یا مر جاؤ، دشمن کو دیوار سے لگاؤ اور آگے بڑھو۔ سب چور، ڈاکو اور لٹیرے ہیں اگر کوئی صادق اور امین ہے تو وہ اپنی ذات ہے۔
یہی گزشتہ ایک سال کی سیاست کا عکس ہے، بس ایک ہی روش سامنے ہے۔ مارو اور دشمن کو کچل دو، یہی فتح ہے اور اسی کا نام سیاست ہے حالانکہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔ وقت اور حالات کے جبر سے ابھرنے والے واقعات کے ادراک سے آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ آج کچھ اور کل کچھ اور ہو سکتا ہے، اہداف بھی تبدیل ہوتے ہیں اور منزل کے راستے بھی۔ سیاست میں فتوحات اسی طرز عمل میں ہوتی ہیں لیکن پتا نہیں کہ یہ احساس کیوں نہیں ہو رہا کہ امیدوں میں جکڑے ہوئے نوجوان مایوسی کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ تبدیلی کی خواہشیں، نامرادی میں تبدیل ہو کر نئے راستے تلاش کر رہی ہیں۔ مایوس اور نامراد نوجوانوں کا یہ طبقہ ایک اور نئی معاشرتی تقسیم کاحصہ بنتا جا رہا ہے۔ بیزاری اکتاہٹ میں تبدیل ہو رہی ہے۔ تبدیلی پر چار حرف بھیجنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ ہم تو اس وقت سے ڈرتے ہیں جب یہ چار حرف کچھ اور حرفوں سے مل کر کسی نئے لفظ کو ایجاد کریں گے اور پھر ضرورت ایجاد کی ماں بن جائے گی۔ ہم تو خوفزدہ ہیں اس ایجاد اور اس کی ضرورت سے، کہ ہم نے تو یہیں رہنا ہے، یہی ہماری پناہ گاہ ہے اس کی زمین ہمیں رزق دیتی ہے تو اس کا آسمان ہم کو زندگی کی کڑی دھوپ میں تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہی ہماری ضرورت ہے یہی ہمارا تحفظ۔ اس لیے لڑائی کو اس حد تک نہ لے جاؤ کہ کسی کے ہاتھ کچھ بھی نہ رہے۔ مت بھولیے معاشرتی تقسیم اس کا ایک لمحہ بھی برداشت نہیں کر سکتی۔