23 جولائی 2019
تازہ ترین

معاشی و اقتصادی اشاریے معاشی و اقتصادی اشاریے

بُل فائٹ سپین کی پہچان ہے جو کہنے کو کھیل لیکن درحقیقت جان لیوا ’’شوق‘‘ ہے۔ کہتے ہیں کہ شوق دا کوئی مُل نہیں، بُل فائٹ کو سپین میں وہی مقام حاصل ہے جو ہمارے یہاں کرکٹ کو ہے، وہاں بُل فائٹ فیسٹیول بھی منایا جاتا ہے، جس میں بیل کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کے لیے عوام کو فری ہینڈ ہوتا ہے، بُلز فیسٹیول میں لوگ گلیوں، سڑکوں، بازاروں حتیٰ کہ ہر راہگزر سے بھاگتے بیل کے ساتھ اپنے اپنے انداز میں نمٹنے کے دوران زندگیوں سے ہاتھ دھونے سمیت ناصرف زخمی بلکہ عمر بھر کے لیے معذور بھی ہوجاتے ہیں، لیکن جاننے کے باوجودہر سال باقاعدگی سے یہ خونی کھیل کھیلا جاتا ہے۔
بُل فائٹ کے دوران کھلاڑی اپنے جسم کو حرکت دیے بغیر سُرخ کپڑے سے بپھرے بیل کو غچہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، اس دوران جوں ہی بیل کھلاڑی کے قریب سے گزرتا ہے تو موقع پاتے ہی وہ انتہائی سرعت سے اپنی تلوار بیل کی گردن میں پیوست کردیتا ہے، بیل بار بار غصے میں بپھرا پلٹ کر آتا ہے اور۔۔۔ کھیل جاری رہتا، حتیٰ کہ ’’بیل اپنی گردن پر مہرِ تصدیق بار بار ثبت کراتے ہوئے جان دے دیتا ہے‘‘، لیکن لازم نہیں کہ ہر بار بُل فائٹ کا انجام بپھرے بیل کی موت پر ہو۔ کبھی کبھار ماہر کھلاڑی بھی بیل کے سینگوں کا نشانہ بن جاتے ہیں، لیکن میڈیا متذکرہ کھیل کے قواعد و ضوابط کے مطابق کھلاڑی یا بیل کی فتح کا تجزیہ کرتے ہیں، آیا کہ ’’کھلاڑی نے بیل کے سامنے کہیں قواعد و ضوابط کے خلاف اپنے جسم کو حرکت دے کر دھوکا تو نہیں دیا۔۔۔؟‘‘
ہمارے ملکی حالات بھی آج کل کچھ ایسے ہی ہیں، جہاں جون شروع ہوتے ہی حکومت اور اپوزیشن میں آئندہ مالی سال کی بابت حکومتی تخمینوں کی منظوری پر مار دھاڑ، وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد دیگر ہم نصابی سرگرمیوں ’’گرفتاریوں‘‘ کے جاری مون سون کی جانب واپس منتقل ہوچکی ہے، اس بابت وزیراعظم نے بارہا گذشتہ حکومتوں کے مالی و معاشی اشاریے عالمی و ملکی سطح پر اور عالمی قرضہ جات کی بابت لین دین کے مشکوک معاملات عوام کے سامنے رکھتے ہوئے بتایاکہ ’’قیام پاکستان سے اگست 2008 مشرف حکومت کی رخصتی تک پاکستان پر کُل عالمی قرضہ جات چھ ہزار ارب روپے تھے، جو 2013 میں پیپلز پارٹی حکومت کے جانے تک بڑھ کر پندرہ ہزار ارب روپے جبکہ 2018 میں مسلم لیگ (ن) حکومت کی رخصتی پر مزید پندرہ ہزار ارب بڑھ کر تیس ہزار ارب روپے کے لگ بھگ ہوچکے تھے۔ 
معاشی و اقتصادی خراب صورت حال کے باعث وفاقی بجٹ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے یکسر مسترد کرکے حکومت کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مشترکہ محاذ کھڑا کردیا اور ’’سیاسی پوائنٹ سکورنگ‘‘ کے لیے میثاقِ معیشت طے کرنے کی پیشکش کردی، جس پر وزیراعظم نے اسے اپوزیشن کی سنجیدہ کوشش سمجھتے ہوئے پاکستان کی خاطر میثاق معیشت طے کرنے کی منظوری بھی دے ڈالی، جس پر پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے مشترکہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی جانب سے وزیراعظم کے خود رابطہ کرنے کی شرط عائد کی گئی، لیکن مریم نواز کی جانب سے مذاق معیشت قرار دینے کے بعد سارا معاملہ ہی سردخانے کی نذر ہوگیا۔ حکومت اس سیاسی درفطنی سے بروقت آگاہ ہونے کے باعث کسی بڑی ناگہانی سے دوچار ہونے سے بچ گئی۔
قابل ذکر امر کہ گذشتہ دس سال میں قرضہ جات کی انتہائی خطرناک حدیں عبور کرنے سے پاکستان کی معاشی و اقتصادی صورت حال انتہائی دگر گوں ہوچکی ہے، اس بابت اقدامات کرنے اور مقامی و غیر ممالک میں پاکستانی شہریوں کے اثاثہ جات کی چھان پھٹک کے علاوہ قومی معیشت کو سہارا دینے کی خاطر وفاق کی جانب سے گذشتہ حکومتوں کی طرز پر ایمنسٹی سکیم کے اجراء اورگذشتہ دس سال کے دوران عالمی منڈی سے لیے گئے بے تحاشا قرضہ جات اور ان کے مصرف کی بابت فرانزک بنیادوں پر تحقیقات کے لیے حکومت نے ’’قرضہ تحقیقاتی کمیشن‘‘ قائم کردیا ہے، جو چھ ماہ میں حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کرے گا۔ بلاول قرض تحقیقاتی کمیشن کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس ضمن میں سنسرشپ کی قبولیت سے ہی انکاری نظر آتے ہیں۔
قارئین، اگر کبھی سٹاک ایکسچینج جانے کا اتفاق ہو تو آپ کا ’’بُل اور بیئر‘‘ صورت حال سے واسطہ پڑے گا، جی سٹاک ایکسچینج کی منافع بخش اصطلاح میں معاشی و اقتصادی استحکام کو ’’بُل‘‘ جبکہ نقصان کو ’’بیئر‘‘ سے تشبیہہ دی جاتی ہے جب کہ اس ناچیز نے اسی صورتحال کو شروع میں کھیل اور کھلاڑی یعنی سٹاک اور حکومت سے تشبیہہ دی، جہاں کسی بھی حکومتی غلطی سے ملکی سٹاک ایکسچینج بیئرِش یعنی ہماری صنعتی روزمرہ ضروریات پوری کرنے والوں کو جھٹکا لگتا ہے جبکہ کبھی کبھار پُراسرار حالات میں حکومت و اپوزیشن کے باہمی میل جول سے عنانِ حکومت چلانے سے سٹاک ایکسچینج بُلِش یعنی فائدہ مند رُخ اختیار کرجاتی ہے۔
گذشتہ حکومت کے دورانیے میں پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے گرے لسٹ میں کیونکر شامل کیا۔۔؟ اس کی اصل وجوہ بھی منظرعام پر آنا لازمی ہیں۔ جس کی علامتی وجوہ کے طور پر ہم فقط ایک ہی سوال اٹھائیں گے کہ دولت مشترکہ کے اجلاس میں پاکستانی وزیراعظم کو کیونکر سٹیج پر آنے سے روک دیا گیا تھا۔۔۔؟، شاید شہزادی نوجوانوں کے امور نمٹاتے نمٹاتے اپنی 67 ارب کی مالیتی سیاسی بصیرت کے باعث جواب دے دیں۔ کالعدم تنظیموں کو ویسے ہی بدنام کیا جارہا تھا، گذشتہ دس سال پر محیط معاشی و اقتصادی منفی اشاریوں کے مدنظر حالات و واقعات کا بغور تجزیہ کیا جائے تو صورت حال کچھ حوصلہ افزا نہیں۔ میثاق معیشت کے نام پر بھی قوم سے فقط دھوکے بازی تماشا ہے تماشا۔۔ عوام کو دھوکہ دینے کے لیے دن رات بپھرے ہوئے عالمی مالی معاملات کے بیل کو فقط سرخ کپڑا دکھا کر اندرونی معاشی و اقتصادی صورت حال درست ثابت نہیں کی جاسکتی۔ ہماری حکومت وقت سے اپیل ہے کہ ایف بی آر میں اصلاحات سے قبل، ملکی سیاست میں منفی کرداروں کے سدباب کے لیے فقط قومی اسمبلی میں پروڈکشن آرڈرز ہی نہیں بلکہ سیاسی اصلاحات کا بِل بھی اسمبلی میں لایا جائے۔
متذکرہ بالا تمام تر ملکی اقتصادی و معاشی گمبھیر صورت حال میں اپوزیشن کی جانب سے مسلسل جھوٹ اور منفی کردار کے ذریعے ملکی معاشی و اقتصادی معاملات کو مثبت ڈگر پر چلانے کے لیے میثاق معیشت کی خاطر حکومتی کردار کو ہم غالب کی سادگی سے ہی تشبیہہ دے سکتے ہیں۔