’’میڈ اِن پاکستان‘‘ ’’میڈ اِن پاکستان‘‘

گلوکار وارث بیگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں گلوکاروں کی فلمی گلو کاری نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ جبکہ انکل سرگم کا کہنا ہے کہ جب پاکستان میں فلمسازی ہی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہو تو فلمی گانے کیسے پیدا ہونگے؟ آج کل اخبارات میں ہر طرف یہی پڑھنے کو مل رہا ہے کہ فلاں فنکار یا فلاں مشہور ایکٹر نے فلم انڈسٹری کی ڈوبتی ناؤ کو بچانے کی خاطر اچھی اور معیاری فلم بنانے کا مشورہ دیا ہے۔ بندہ پوچھے کہ کوئی خراب اور گھٹیا فلم بنانے کا بھی مشورہ دیتا ہے؟ مگر ان اخباری بیانات میں ہمیں کسی کاروباری شخصیت یا بزنس مین کا اعلان نظر نہیں آتا، جس کا مطلب ہے کہ ہمارے ہاں فلم اب کوئی منافع بخش کاروبار نہیں رہا، ورنہ اس بزنس میں سب سے پہلے ہمارا پڑوسی اور عظیم بزنس کنگ چین کود پڑتا۔ بقول انکل سرگم اگر چین ہماری فلم انڈسٹری کی گرتی ہوئی تعداد کو سنبھال لیتا تو ہمارے ہاں ایک سال میں فلموں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی جتنی کرپٹ افسران کی بھی نہیں ہے۔ ہماری فلموں میں کہانی تو شاید نہ ہوتی، جو اب بھی ضروری نہیں سمجھی جاتی، البتہ جوڈو کراٹے اور کنگ فو جیسی فائٹس کی بھرمار سے فلم شروع ہونے اور ختم ہونے کا پتا ہی نہیں چلنا تھا۔ فلموں کی بھرمار اور شارٹ ٹرم کاروبار کے شارٹ ٹرم منافع کی بدولت ہمارے ہاں گلی گلی، گاؤں گاؤں، کوچے کوچے، محلے محلے، شہر شہر حتیٰ کہ ہر نکڑ پہ ایک چھوٹا سا سینما ہال دیکھنے کو ملنا تھا، جو اب بھی جنسی فلمیں دکھانے کو مل جاتا ہے، اس میں چین کی بنی ہوئی پاکستانی صورتوں میں فلمیں دیکھنے کو مل جاتیں۔ بوؔنگے کا کہنا ہے کہ چین کی بنی ہوئی فلموں میں پاکستانی ایکٹر کیسے سمانے تھے؟ جس پہ سرگم نے جواب دیا ویسے ہی جیسے پاکستان میں ہونے والے پاکستان آئیڈل میں بھارتی فلموں کے گانے سمائے ہوئے ہوتے تھے۔ ہم نے مانا کہ چین نے ساری دنیا کو سستے، تیز رفتار اور دیدہ زیب بزنس سے فتح کر لیا ہے، جس کی ایک مثال ہم نے امریکا میں بھی دیکھی جہاں عرصہ دراز سے ڈالر سٹورز چل رہے ہیں۔ 
ان میں ہر شئے ایک ڈالر کی ملتی ہے جبکہ وہاں ڈالر سٹوروں میں چینی اشیأ زیادہ ہوتی ہیں یا ان میں چین کا بنا ہوا مال ہوتا ہے۔
ہمیں حیرت اس بات پہ ہوتی ہے کہ اگر اتنی مہنگائی میں ڈالر شاپ کی ہر چیز ایک ڈالر میں مل رہی ہے تو اس کی اصل قیمت کیا ہو گی؟ چنانچہ پچھلے سال جب ہم امریکا میں تھے تو ہمارا بیٹا ہمیں شہر سے باہر ایک ایسے سٹور میں لے گیا جہاں چین میں بنا ہوا ہر مال صرف ساٹھ پینس میںمل رہا تھا۔ ہم نے سوچا کہ چین میں اسکی قیمت بیس روپے ہو گی۔ پھر جب ہم چین گئے تو پتا چلا کہ چین میں ایسی چیزوں کی قیمت کہیں زیادہ اور چین دنیا میں اپنی ساکھ قائم رکھنے کیلئے اپنی چیزوں کو سستی اور وافر مقدار میں بنا کر زیادہ سے زیادہ لوگوں میں پھیلانا چاہتا ہے۔ سستا روئے بار بار اور مہنگا روئے ایک بارکی مثال کو چین نے رد کرتے ہوئے یہ فارمولہ دیا ہے کہ مہنگا خریدے ایک بار اور سستا خریدے بار بار۔ گویا چین نے غریب عوام کو ان چیزوں کا مالک بنا دیا جن چیزوں کو عوام امیر کے قبضے میں کبھی حسرت سے دیکھا کرتے تھے۔
وقت نے ثابت کر دیا کہ دنیا میںآبادی بڑھنے سے کھانے پینے کے ساتھ ساتھ روز مرہ کے استعمال کی چیزوں کی طلب میں اضافہ ہو گا، جسے پورا کرنے کیلئے سستا اور آسان طریقہ دریافت کرنا ہو گا۔ چین نے گملوں میں پھل اور گندم اُگا کر اور امریکا، برطانیہ اور جاپان کی ٹیکنالوجی کو آسان سستی اور بازیاب بنا کر انکے بزنس کی مت مار کے رکھ دی۔ چین کی اس حیرت انگیز کاروباری ترقی نے انہی بڑے ملکوں میں اپنی اجارہ داری قائم کر کے ثابت کر دیا کہ اب دنیا میں تیزی ہو گی۔ سیٹلائٹ اور انٹر نیٹ کے زمانے میں اب برق رفتاری دکھانا پڑے گی۔ چین کی اس تیزی نے پوری دنیا پہ بھی اثر ڈالا اور اب ہمارے ملک کے دیہات میں بھی موٹر سائیکل اور موبائل فون اتنی ہی تیزی سے چل رہا ہے جتنی تیزی سے معاشرے میں دو نمبر کاروبار چل رہا ہے۔ اب تو چین کی سستی اور تیز رفتاری ہماری گفتگو میں سما گئی ہے۔ اُس دن ایک شادی دفتر میں ایک صاحب کسی سے کہہ رہے تھے کہ اگر میڈ ان جاپان رشتہ کرانا ہے تو اسکے لیے انتظار کرنا پڑے گا اور اگر میڈ ان چائنا کرانا ہے تو وہ نا صرف دستیا ب ہے بلکہ انکی رینج میں بھی ہے۔ کسی نے پوچھا کہ میڈ ان چائنا ریلیشن سے انکی کی مراد کیا ہے تو وہ بولے، شادی کا ایک ایسا رشتہ جس کے بنتے بھی دیر نہ لگے اور ٹوٹتے بھی دیر نہ لگے۔ ہمیں یہ بات کچھ ٹھیک نہ لگی کہ حال ہی میں پاکستانی لڑکیوں کی چینی لڑکوں سے شادیاں ہوتی تو دیکھیں مگر ابھی تک ٹوٹتی نہیں دیکھیں۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ چینی سے شادی کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ چینی چینی (کھنڈ شکر) کی طرح گھل مل جاتا ہے۔ ’’پاکستانی بنو اور پاکستانی چیز استعمال کرو‘‘ کے نعرے کیساتھ بات ہو رہی تھی پاکستان فلم انڈسٹری کے بچانے کی، جسے چین کی مدد کے بغیر بھی بچایا جا سکتا ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری فلمیں ہمارے آج کل کے معاشرے کی صحیح عکاسی کر سکیں گی؟ اگر نہیں کر یں گی تو کامیاب کیسے ہونگی؟ اور اگر کریں گی تو ہم دنیا کو دکھلائیں گے کیا؟ انہیں کیسے یقین دلائیں گے کہ ہم ایک دیانت دار معاشرہ ہیں، ہمارے اندر بھی سچائی موجود ہے۔ بقول سرگم ہماری فلمیں معاشرے کی صحیح عکاسی اس لیے نہیں کرتیں کہ ہمارے معاشرے کی ساٹھ ستر سالہ خرابیاں دو ڈھائی گھنٹے کی فلم میں دکھانا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟