06 دسمبر 2019
تازہ ترین

لیکن انہیں کیا لیکن انہیں کیا

ہڑتال یعنی ہر جگہ تالہ۔۔۔ اس رخنہ اندازی کا نام ہے جو بعض تاجر تنظیموں کی جانب سے ہفتہ (سنیچر) کے روز ملک کے مختلف شہروں میں کاروبار بند کر کے وزیراعظم عمران خان کی ان کوششوں کو ناکام بنانے کے طور پر کی گئی جن کا مقصد پاکستان کو معاشی لحاظ سے مستحکم اور بیرونی امداد کے بجائے خود انحصاری کے راستے پر گامزن کرنا ہے۔ تاجروں نے وفاقی بجٹ کے ٹیکسوں کو بنیاد بنا کر شٹر ڈاؤن کیے، مارکیٹیں بند رکھیں اور دھمکی دی کہ امسال انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے جائیں گے اور مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو اسلام آباد کی طرف تاجر مارچ، ایف بی آر کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے دھرنا اور غیر معینہ مدت کے لیے شٹر ڈاؤن کی کال بھی دی جائے گی۔ ہڑتال کوئی نئی بات نہیں۔ دنیا کی سب سے پہلی ہڑتال، کم اجرتیں دینے پر فرعون مصر رعمسیس سوم کے خلاف 14 نومبر 1152 قبل مسیح کو دیر المدینہ کے شاہی قبرستان کے مزدوروں نے کی جبکہ جدید دور کی بیشتر ہڑتالوں کے پس پردہ مقاصد سیاسی تھے اور یہ سلسلہ انیسویں صدی کے وسط سے آج تک جاری ہے۔ ہفتہ 13 جولائی کو ہونے والی ہڑتال کے مقاصد بھی سیاسی ہی تھے چنانچہ تاجر برادری کی اکثریت نے بعض سیاسی جماعتوں کا آلہ کار بننے کے بجائے ہڑتال سے لاتعلق رہ کر ثابت کر دیا کہ وہ ملک میں معاشی و تجارتی سرگرمیوں کا فروغ چاہتے ہیں۔ حکومت ورثے میں ملنے والی بیمار معیشت کی بحالی کے لیے مشکل فیصلے کرنے پر مجبور ہوئی ہے تاہم ان مشکل فیصلوں سے آنے والے وقت میں عوام کو فائدہ ہو گا۔ کچھ سیاسی جماعتوں کے چند آلہ کاروں نے معاشی و تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوئے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حکومت نے تاجروں کے تمام جائز مسائل حل کیے ہیں اور انہیں کاروبار کے لیے ہر ممکن سہولتیں اور تحفظ دیا ہے جس کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دیگر ملکوں کی طرح پاکستان کا نظام بھی ٹیکسوں پر چلتا ہے۔ رجسٹریشن کے عمل سے صرف انہی لوگوں کو پریشانی ہو رہی ہے جنہوں نے کبھی ٹیکس نہیں دیا اور نہ ہی وہ ٹیکس کے نظام میں آنا چاہتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ چھوٹے دکانداروں پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا بلکہ صرف بڑے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت اب بھی تاجر برادری سے مذاکرات کی خواہشمند ہے تاکہ ان کے جائز مطالبات حل کرے کیونکہ اس وقت ملک کسی قسم کی انارکی، تصادم یا عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس سے بھی انکار نہیں کہ حکومت ماں کی طرح ہوتی ہے، اس لیے تاجروں سے شفقت کا سلوک جاری رہے گا اور خریدار کے قومی شناختی کارڈ کی شرط، فائنل ٹیکس ریجیم اور زیرو ریٹنگ سہولت کے خاتمے سمیت تمام مسائل کا بھی کوئی نہ کوئی حل ضرور نکل آئے گا لیکن اس کا راستہ ہڑتال ہرگز نہیں کیونکہ ملک تب تک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا جب تک حکومت اور تاجر برادری مل کر نہ چلیں۔ جن عاقبت نااندیشوں نے اپنے ذاتی یا سیاسی مقاصد کے لیے ہڑتال کا راستہ اپنایا، انہیں علم ہونا چاہیے کہ ہڑتال سے اربوں کا نہیں بلکہ کھربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق حالیہ ایک روزہ ہڑتال سے صرف لاہور میں پچیس ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ لیکن اس سے بھی بڑا نقصان یہ تھا کہ شٹر ڈاؤن کے باعث روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں مزدور روزگار نہ ملنے کے باعث مایوس ہو کر خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ گئے۔ کاش کروڑوں کا کاروبار کر کے اپنی تجوریاں بھرنے کے باوجود مختلف شہروں کی سڑکوں پر کھڑے ہو کر حکومت مخالف نعرے لگانے والوں نے یہ بھی سوچا ہوتا کہ ان کی ہڑتال کے باعث آج کتنی مائیں اپنے جگر گوشوں کو بھوکے پیٹ سلانے پر مجبور ہوئی ہوں گی۔۔۔ لیکن انہیں کیا۔۔۔ سچ ہی تو کہا ہے کسی نے
بھوک پھرتی ہے میرے ملک میں ننگے پاؤں
رزق ظالم کی تجوری میں چھپا بیٹھا ہے