19 اکتوبر 2019
تازہ ترین

لاہور :ٹریفک نظام میں بہتری کے آثار! لاہور :ٹریفک نظام میں بہتری کے آثار!

گزشتہ روز میرے قریبی عزیز نے بتایا کہ آج کل ٹریفک لائسنس بنوانا مشکل ہوگیا ہے۔ میں نے اپنے بھائیوں کے لائسنس بنوانے ہیں مگر ناکامی ہورہی ہے۔ ان میں سے ایک تو دبئی اور سعودی عرب کا لائسنس یافتہ اور ٹرینڈ ڈرائیور ہے، آپ کے سی ٹی او سے اچھے مراسم ہیں، سفارش کرادیجیے۔ میں نے کہا کہ جو کام صرف پانچ سو روپے میں ہوسکتا ہے، اس کے لیے اتنی بڑی سفارش کی کیا ضرورت۔ میری پرانی اطلاع کے مطابق لاہور میں ڈرائیونگ لائسنس کے لیے مختلف مقامات پر سینٹرز قائم ہیں، وہاں جاکر معمولی ٹیسٹ اور پانچ سو کا نوٹ وہاں ٹیسٹ لینے والوں کو دے کر لائسنس بن جاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آپ 500 کی بات کرتے ہیں، اب تو پانچ ہزار یا اس سے زائد دے کر بھی لائسنس نہیں بن سکتا۔ کوئی شخص ٹیسٹ پاس ہی نہیں کرسکتا۔ میں نے وعدہ کیا کہ میں معلومات حاصل کرکے تمہیں بتائوں گا۔ میں نے سی ٹی او سے معلوم کرنے کے بجائے اپنے دوست عرفان منظورپی ایچ ڈی ٹریفک انسپکٹر سے بات کی تو اس نے مجھے مزید حیران کردیا کہ اب پچاس ہزار دے کر بھی لائسنس نہیں بن سکتا۔ تجربہ کار ڈرائیوروں کو بھی جب تک اشاروں کی مکمل معلومات نہیں ہوتی، اُس وقت تک انہیں لائسنس دینا بند ہے۔ پہلی شرط ہی یہ ہے کہ لائسنس ہولڈرز کو اشارے معلوم ہونے چاہئیں، ڈرائیونگ دوسرے نمبر پر ہے۔  کئی پرانے ڈرائیورز گاڑیاں تو کئی برس سے چلارہے ہیں مگر انہیں اشاروں کا علم نہیں جو حادثات کا باعث ہوتا ہے۔ ٹریفک اتھارٹی تمام لرنر لائسنس ہولڈرز کو چھ ہفتے بعد پکا لائسنس بنانے کا اہل قراردیتی اور انہیں اشاروں کی کتاب بھی دیتی ہے کہ اس کو یاد کرکے آئیں گے تو لائسنس بنے گا۔ اس سے پہلے لوگ پانچ سو یا ہزار دے کر ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرلیتے تھے مگر موجودہ سی ٹی او ملک لیاقت علی اس پر کسی قسم کا سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں۔ اس باعث سفارش اور رشوت کے دروازے بند ہوچکے اور صرف میرٹ کو فوقیت ہے۔ ایم پی ایز، ایم این ایز بھی سفارش سے گریزاں ہیں۔ 
سی ٹی او نے لاہور میں حادثات اور ٹریفک میں روانی کے لیے جو اقدامات کیے، اس کی بدولت سڑکوں پر ہر شخص پُرسکون نظرآتا ہے۔ ٹریفک وارڈنز بھی اپنے سی ٹی او کو ’’بگ باس‘‘ کے بجائے اپنا سرپرست سمجھ کر فرائض انجام دیتے ہیں۔ لاہور کے بے ہنگم ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے لیے وزیراعلیٰ کی ہدایت پر موٹر سائیکلوں اور بسوں کے لیے بڑی سڑکوں پر مخصوص لین بنانے کا فیصلہ کیا گیا، جس پر ابتداً مال روڈ اور کینال روڈ پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ موٹر سائیکل سواروں اور بسوں کے لیے گرین لین بنائی جائے گی۔ یہ منصوبہ سیف سٹی اتھارٹی، ٹریفک پولیس، ٹیپا اور لوکل گورنمنٹ کے اشتراک سے شروع کیا جائے گا۔ گزشتہ روز مزنگ چونگی چوک کے قریب ایک نوسرباز نے ایک شہری کی گاڑی کے ڈیش بورڈ سے موبائل فون اٹھاکر فرار ہونے کی کوشش کی۔ شہری  کے شور مچانے پر پٹرولنگ آفیسر نے تعاقب کرکے ملزم کو پکڑلیا اور پولیس کے حوالے کرکے موبائل شہری کے سپرد کردیا۔ اس پر سی ٹی او ملک لیاقت نے پٹرولنگ افسر عمران اور فہد کو شاباش دی اور نقد انعام و تعریفی سند دینے کا بھی اعلان کیا۔
چند روز قبل جیل روڈ پر سروس ہسپتال کے سامنے تیز رفتار موٹر سائیکل سوار لفٹر سے ٹکراگیا تھا۔ ہیلمٹ نہ پہننے کے باعث موٹر سائیکل سوار شدید زخمی ہوگیا۔ حادثے کے بعد سی ٹی او، ایس پی ٹریفک منیر قریشی اور انچارج شادمان سروسز ہسپتال گئے، جہاں ملک لیاقت علی نے شہری کی عیادت کی اور اسے گلدستے کے ساتھ ایک لاکھ روپے بغرض علاج دیے، بعدازاں سی ٹی او نے ایس پی ٹریفک کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ذمے دار کا تعین کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اگر قصوروار ٹریفک اہلکار ہوا تو اس کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ لاہور میں ای چالان سسٹم نے بھی نتائج دینے شروع کردیے ہیں۔ اکتوبر 2018 سے ای چالان کا نظام متعارف کرایا گیا تھا اور اب تک پچیس کروڑ سے زائد رقم خزانے میں جمع کرائی جاچکی ہے۔ 
سی ٹی او ملک لیاقت علی کی اپنے محکمے سے گہری دلچسپی اور حب الوطنی کی بدولت سٹی ٹریفک پولیس میں پٹرول کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے کی چوری پکڑی گئی اور تاریخ میں پہلی بار محکمۂ خرانہ کی جانب سے حال ہی میں سٹی ٹریفک پولیس لاہور کو پٹرول کے لیے جاری کی گئی دو کروڑ 67 لاکھ کی گرانٹ کو محکمۂ خزانہ کو واپس کرنے کے بارے میں آئی جی پنجاب کو مراسلہ جاری کردیا۔ نو ماہ کے دوران سٹی ٹریفک پولیس نے 3 لاکھ 72 ہزار لیٹر سے زائد پٹرول بچاکر ایک کروڑ 67 لاکھ 62 ہزار روپے کی بچت کرکے نئی مثال قائم کردی۔ سٹی ٹریفک پولیس لاہور میں پٹرول کے ضمن میں سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جارہا تھا، جس میں ایم ٹی او برانچ اور دیگر افسران شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق ایسی گاڑیوں کو بھی کاغذوں میں پٹرول جاری کیا جاتا جو لائن میں یا سیکٹروں میں خراب حالت میں کھڑی تھیں، جس سے حکومت کو سالانہ کروڑوں کا نقصان پہنچایا جارہا تھا۔
سی ٹی او ملک لیاقت علی نے اس رقم کو واپس محکمۂ خزانہ کو بھجوانے کے لیے آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز کو مراسلہ بھیجا، جس میں انہیں آگاہ کیا گیا کہ جولائی 2017 سے مارچ 2018 تک سٹی ٹریفک پولیس میں 10 لاکھ 10 ہزار لیٹر پٹرول خرچ کیا جاتا تھا، جس کے لیے 8 کروڑ 32 لاکھ روپے خرچ کیے جاتے رہے ہیں جب کہ اب جولائی 2018 سے جون 2019 تک کرپشن کے خلاف بھرپور کارروائی کی گئی اور ایسے تمام راستے بند کردیے گئے، جن کی بنا پر پنجاب حکومت کو سالانہ کروڑوں کا نقصان پہنچایا جارہا تھا۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر لاہور کی تین اہم شاہراہوں سے سگنل فری سسٹم کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کا اہل لاہور کو شدت سے انتظار ہے۔ فی الحال یہ لاہور کی تین اہم شاہراہوں سے ختم کیے جائیں گے، جن میں گلبرگ روڈ، فیروزپور روڈ اور جیل روڈ شامل ہیں، اس کے بعد دوسری شاہراہوں سے بھی اس فضول سسٹم کا خاتمہ کرکے سگنلز لگائے جائیں گے۔ ان سگنل فری سڑکوں پر روڈ کا 40 فیصد حصہ ضائع کردیا گیا، جس سے تمام ٹریفک صرف 60 فیصد حصے پر چلتا ہے۔ پورے یورپ میں کہیں بھی سگنل فری سسٹم نہیں، نہ جانے پاکستان میں اس کی ضرورت کیوں سمجھی گئی اور ملکی دولت کے نقصان کے ساتھ ان سڑکوں پر مستقل ٹریفک جام بھی معمول ہے۔