لالہ لاجپت رائے جی کا جواب لالہ لاجپت رائے جی کا جواب

(23 نومبر 1923ء کی تحریر)
ہندو اپنی قوم ہی کے نہیں بلکہ ملک کے ایک نامور بزرگ کی زبانی یہ سن لیتے کہ ان کا میاں فضل حسین کی حکمت عملی کیخلاف اس درجہ ہنگامہ آرائی کرنا ترک موالات کے اصول سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے اور موالات کے زاویہ نگاہ سے یہ مخالفت کہاں تک درست و جائز ہے۔
 لالہ جی نے اس معاملہ کے متعلق آیندہ طریق کار کے تجسس کا راستہ تو ہندو رہنمائوں، ہندو امیدواران کونسل اور ہندو رائے دہندوںکو بتلا دیا لیکن اگر اسی ضمن میں انہیں اصل معاملہ کی صحت اور عدم صحت، درستی و غلطی یا جواز و عدم جواز کی حقیقت بھی معلوم ہوتی تو کیا یہ اچھا نہ ہوتا اور کیا ایسے متنازعہ فی مبحث پر قلم اٹھاتے وقت احتیاط کا اقتضا یہ نہیں تھا کہ اس مسئلہ کا یہ پہلو بھی واضح کر دیا جاتا تاکہ ہندوئوںیا مسلمانوں کو اپنے اپنے اصرار کی درستی و نا درستی کا علم ہو جاتا؟
اب سب سے ضروری اور سب سے اہم سوال باقی رہ جاتا ہے یعنی یہ کہ سوراجیہ جماعت کے ارکان کونسلوں کے اندر جا کر کام کیا کریں گے۔ لالہ جی فرماتے ہیں کہ:
’’میری رائے میںکونسلوں میں جا کر ایک ہی کام کرنے کا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کونسلوں کی بیہودگی اس طرح ثابت ہو جائے جس سے ان کے قایم رکھنے کے بجائے ان کا توڑ دینا بہتر معلوم ہونے لگے‘‘۔
لیکن یہ سوال پھر باقی رہ جاتا ہے کہ اس بیہودگی کے اظہار و اثبات کی کیا صورت ہوگی؟ دیش بندھو اور سوراجیہ جماعت کے دوسرے محترم و ذمہ دار رہنما پنڈت موتی لال نہرو بارہا یہ فرما چکے ہیں کہ سوراجیہ جماعت کونسلوں کے اندر جا کر بلاتمیز نیک و بد اور بلاتفریق خیر و شر مزاحمت کی حکمت عملی پر کاربند ہوگی۔ وہ ان تمام تجاویز کی شد و مد سے مخالفت کرے گی جو کونسلوں کے ہالوں میں پیش ہوں گی حتیٰ کہ اگر حکومت کا کوئی کارندہ یا نمایندہ مہاتما جی کی رہائی کی تجویز بھی پیش کرے گا تو سوراجیہ جماعت کے ارکان اس کی شدت کے ساتھ مخالفت کریں گے اور اس قسم کی مزاحمتوں اور مخالفتوں سے ایک ایک بات اورمعاملہ کیلئے حکومت کو ’’اختیاراتِ خاص‘‘ کے استعمال پر مجبور کر دیں گے۔ ترک موالات کے حقیقی اصول کو پیش نظر رکھ کر یہی ایک صورت ہے جس پر کونسل کے ہال میں عمل کیا جا سکتا ہے۔ پھر کیا لالہ جی کے نامزد کردہ امیدواران کونسل بھی اسی مسلک کی پابندی کریں گے یا ان کا طریق عمل کوئی دوسرا ہوگا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمیندارؔ کے استفسارات
لالہ لاجپت رائے جی کا جواب(3)
(24 نومبر 1923ء کی تحریر)
لالہ جی نے جو فرمایا ہے کہ کونسلوں کے اندر جا کر کام صرف یہ ہے کہ ’’ان کونسلوں کی بیہودگی کو پورے طور پر ظاہر کر دیا جائے‘‘۔ اس ارشاد سے ہمارے سوال کا پورا جواب حاصل نہیں ہوا۔ یہ کونسلوں کے اندر جانے کا مقصد ہے لیکن ہم مقصد کے ساتھ اس کے حصول کے طریق و اسلوب کی وضاحت کے بھی مستدعی ہیں۔ اس وضاحت کی ضرورت اس لئے داعی ہوئی کہ اول ہمارے بعض سربرآوردہ ہندو کارکنان کانگرس جو اس وقت امیدوار کونسل بنے ہوئے ہیں، علانیہ اور کھلم کھلا سوراجیہ جماعت کے اس مسلمہ طریق کار سے کلی اختلاف کا اظہار کر چکے ہیں۔ دوسرے پنجاب کی سوراجیہ جماعت سے مسلمان اور سکھ اصحاب کی علیحدگی کی وجہ یہی بتلائی جاتی ہے کہ اس جماعت کے قریباً تمام ہندو ارکان عام موالاتیوں کی طرح چھوٹی چھوٹی باتوں اور ادنیٰ ادنیٰ حقوی کی خاطر دوسری جماعتوں کے نمایندوں کے ساتھ لڑنے کے حامی نظر آتے تھے یا کم از کم ان کے خیالات سے یہی مترشح ہوتا تھا۔ تیسرے ہر جماعت کی علیحدہ علیحدہ نامزدگیوں سے یہ اضطراب پیدا ہو رہا ہے کہ ہمارے نمایندے کونسل میں کوئی اطمینان بخش، نفع خیز اور حصول مقاصد کیلئے مفید و سودمند طریق عمل اختیار کرنے کیلئے شاید طیار نہ ہوں۔ سب سے آخری یعنی چوتھی وجہ پنجاب سوراجیہ جماعت یا بالفاظ صحیح تر ہندو جماعت کی وسیع المشربی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لالہ جی نے اس جماعت میں بہت سے ایسے اشخاص کو شامل کر لیا ہے جو گزشتہ تین چار سال کی مدت میں قومی تحریک سے بالکل علیحدہ رہے ہیں اور اب سوراج کو اپنا نصب العین بتلا کر انہوں نے لالہ جی ایسے محترم و معزز رہنما کی امداد و اعانت حاصل کر لی ہے لیکن ان کے دل ابھی تک کانگرس کے ساتھ نہیں ہیں یا کم از کم ان پر ٹھیک ٹھیک اعتماد نہیں ہو سکتا۔   (جاری ہے)