10 دسمبر 2019
تازہ ترین

لالہ لاجپت رائے اور مخالفتِ میثاق بنگال لالہ لاجپت رائے اور مخالفتِ میثاق بنگال

(27 جنوری 1924ء کی تحریر)
ہمارا یہی ہندو معاصر جو آج مجلس خلافت، مولوی شفاعت اللہ خاں صاحب اور مولانا اسماعیل صاحب غز نوی پر طعنہ زن ہے دیش بندو داس ایسی بلند پایہ شخصیت پر بہ اصطلاحِ برادران ہنود ’’کیا کچھ کیچڑ نہیں پھینک چکا‘‘ اور کس قدر بیہودہ سرائی نہیں کر چکا۔ یہاں تک کہ آج اس کے ایڈیٹوریل مضامین میں دیش بندھو داس ’’مسٹر داس‘‘ بن گئے ہیں۔ یہ تو ان بھائیوں کی اپنی حالت ہے اور مولوی شفاعت اللہ خاں کی زبان سے لالہ جی کی مخالفت میثاق بنگال کے متعلق ’’ناعاقبت اندیشی‘‘کا جملہ سن کر آپے سے باہر ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انگلستان کی حکومت میں انقلاب
مزدور کی حکمرانی
(28 جنوری 1924ء کی تحریر)
آخر قدامت پسندوں کی حکومت کا طلسم ٹوٹ ہی گیا اور مسٹر رامزے میکڈانلڈ وزیراعظم انگلستان ہو ہی گئے لیکن عدم اعتماد کی قرارداد 256 آرا کے مقابلہ میں 328 آرا سے منظور ہوئی ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگر کسی مسئلہ پر لبرلوں اور حزب العمال کے درمیان ذرا بھی اختلاف ہو گیا اور قدامت پسندوں کو ذرا سی بھی حمایت کا سہارا مل گیا تو مزدور کی حکومت کا قصر ایک دم منہدم ہو جائے گا۔ لیکن مسٹر رامزے میکڈانلڈ اور مسٹر ایسکویتھ کے تدبر سے یہ امید نہیں کہ ایسی صورت حالات جلد پیدا ہو جائے۔ اس میں شک نہیں کہ قدامت پسندوں میں بہت پرانے پرانے ماہرین سیاست اور شہنشاہی مقاصد کے سرگرم حامی موجود ہیں جن کا کاٹا پانی نہیں مانگتا لیکن چونکہ مزدوروں کو بھی ایک مدت کے انتظار کے بعد کہیں اب اقتدار حاصل ہوا ے اس لئے وہ بھی بہت چوکنے رہیں گے۔
ہم نے اشاعت گزشتہ میںلکھا تھا کہ حکومت برطانیہ کی سب سے بڑی ضرورت خارجہ حکمت عملی کی اصلاح ہے۔ مسٹر رامزے میکڈانلڈ نے گزشتہ حکومت کی خارجہ حکمت عملی پر شدید اعتراضات کئے ہیں اور مسٹر بالڈون نے پارلیمنٹ میں آخری تقریر کرتے ہوئے اپنی حکمت عملی کو حق بجانب قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ آپ نے کہا کہ ہم نے امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی، فرانس کے ساتھ اتحاد قایم رکھا، ترکی سے صلح کی اور طنجہ کی مشکلات کو حل کر دیا۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ امریکہ و فرانس کے ساتھ تعلقات رکھنے سے کہیں زیادہ ضروری جرمنی کی حمایت تھی جو عملاً مسٹر بالڈون نہیں کر سکے۔ ترکی کے ساتھ صلح کرنے کو مسٹر بالڈون اپنا کارنامہ بتاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر مسٹر لائیڈ جارج بھی وزارت عظمیٰ پر موجود ہوتے تو ایسے حالات میں انہیں بھی صلح کے بغیر چارہ نہ تھا۔ انگلستان نے یونان کو اپنا پٹھو بنا کر اسے ترکی پر حملہ آور کر دیا لیکن یونانی بے انتہا نامرد اور بزدل نکلے۔ ترکوں کی بے پناہ شجاعت نے اپنا سارا علاقہ خالی کرا لیا اور عصمت پاشا مجلس مفاہمت لوزان میں ایسے اڑے کہ لارڈ کرزن جیسے جہاندیدہ مدبر کو اپنا پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا۔ ایسی حالت میں حکومت برطانیہ صلح نہ کرتی تو اور کیا کرتی۔ طنجہ کے مسئلہ کا جو کچھ حل ہوا وہ مسٹر بالڈون کیلئے فخر کا مقام نہیں بلکہ اس پر انہیں شرم آنی چاہئے۔ اگر حق و انصاف کے رو سے اس مسئلہ کو دیکھا جائے تو انگلستان نے مسلمانوں کے ایک علاقے کو بین الاقوامی بنانے کے جرم کا ارتکاب کر کے اپنی بدنامی میں اضافہ کیا ہے اور اگر شہنشاہانہ مقاصد مدنظر رکھے جائیں  جب بھی اس مسئلہ میں انگلستان اپنے دوسرے ساتھیوں سے پیچھے رہا کیونکہ طنجہ پر غالب اقتدار تو فرانس کا رہے گا۔ اس میں برطانیہ کیلئے خوشی سے پھول جانے کا کونسا موقعہ ہے؟ مسٹر بالڈون نے یہ بھی کہاکہ ہم برابر دو پشتوں سے اصول پر قایم ہیں۔ ہمارے مقاصد یہ ہیں کہ ملک کے نظام کو قایم رکھیں، اپنی قلمرو کی توسیع کی حفاظت کریں اور لوگوں کی حالت درست کر کرتے جائیں۔ لیکن مسٹر بالڈون اتنے بڑے دانش مند مدبر ہو کر غالباً اس حقیقت سے تجاہل عارفانہ کر رہے ہیں کہ قلمرو کی توسیع، قیام نظام ملک اور اصلاح حالاتِ عوام کے مقاصد ِ سہ گانہ کا جو تجربہ حکومت برطانیہ نے کیا اس میں کس قدر شدید ناکامی ہوئی۔ جو حکومت عراق، عرب کے رگستانوں میں اور عرب کے شیوخ کا پیٹ بھرنے کیلئے کروڑوں پونڈ کی رقم ضایع کرتی رہے اور ہر وقت مشرق سے لے کر مغرب تک ہر ملک پر اپنا اقتدار جمانے کی کوشش کرے وہ اپنے ملک کے نظام کو کماحقہ قایم نہیں رکھ سکتی نہ عوام کی حالت کو بہتر بنا سکتی ہے۔ کاش حکومت برطانیہ اس تلخ تجربہ سے عبرت حاصل کرے۔
ایک لبرل کپتان گیٹ نے پارلیمنٹ میں کہاکہ میں حزب العمال کی ترمیم کی حمایت محض تحفظ تجارت کے مسئلہ کو ناکام رکھنے کیلئے کر رہا ہوں، دوسری باتوں میں ہمیں اشتراکیت کے خلاف اظہار خیال کا موقع ملنا چاہئے۔اس اعلان سے صاف ظاہر ہے کہ لبرل ہر معاملہ میں حزب العمال کا ساتھ دیں گے اور اگر مسٹر میکڈانلڈ کو اپنی حکومت کا تحفظ منظور ہے تو انہیں ہر بال میں لبرل جماعت کے رہنمائوں سے مشورہ لینا اور پھونک پھونک کے قدم رکھنا پڑے گا۔    (جاری ہے)