09 اپریل 2020
تازہ ترین

لائل پور کی ہڑتال لائل پور کی ہڑتال

ملک کے تیسرے بڑے صنعتی شہر فیصل آباد میں صنعت کاروں، تاجروں نے 17 فیصد سیلز ٹیکس کو مسترد کردیا۔ پہلے انڈسٹری، ملیں، فیکٹریاں، ایمبرائیڈری یونٹ بند ہوئے، اب تاجروں کی تنظیموں نے اپنا لائحہ عمل طے کیا اور 2 روزہ ہڑتال کی کال دے دی۔ آل پاکستان انجمن تاجران ٹریڈرز الائنس سمیت تمام تنظیموں نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرکے حکومت کو 17 فیصد ٹیکس وصولی روکنے اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا، لیکن وزیراعظم عمران خان کے کچھ مشیر ورفقاء ابھی صبر کا دامن تھامنے کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کا ثبوت صنعتی شہر میں انڈسٹری کا بند اور مزدوروں کا بے روزگار ہونا ہے۔ اب تاجروں نے ہڑتال کا اعلان کیا تو حکومت بجائے مذاکرات کے ہڑتال کی طاقت آزمانے لگی ہے۔ حکومت کو شاید اندازہ نہیں کہ لائل پور کا پہیہ رک گیا تو ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ روزانہ اربوں روپے کا نقصان ہوگا۔ مزدور طبقہ بے روزگاری سے تنگ آکر چوریاں ڈاکے مارے گا۔ اگر اپوزیشن میں دم خم ہوتا، تو اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتی، مزدور طبقے کو سابقہ روایات کے ساتھ بریانی، قیمہ نان کھلا کر احتجاج اپنے حق میں کراتی لیکن ہاتھ پائوں بندھی مفلوج اپوزیشن اور ان کے رہنما بے بسی کے عالم میں رفوچکر ہیں، جو سامنے آتے ہیں جھلک دکھلاکر غائب  ہوجاتے ہیں۔
موجودہ گرمی نے ہر شخص کے کڑاکے نکال دیے ہیں، ارب اور کروڑ پتی تاجر، صنعت کار ٹھنڈے کمرے یا ہوٹل میں بیٹھ کر پریس کانفرنس تو کرسکتے ہیں عملاً گرمی کی شدت برداشت کرکے احتجاج میں شامل ہونے سے قاصر ہیں، وہ صرف بے روزگار مزدور طبقے کو آگے کرکے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہی حال اپوزیشن جماعتوں کا ہے، جس کا بخوبی اندازہ حکومت کو ہے۔ لہٰذا لائل پور کی ہڑتال جو درحقیقت بہت معنی بھی رکھتی ہے اور نہیں بھی کیونکہ ہڑتال کی کامیابی حکومت کو ہچکولے دے گی جب کہ تاجروں میں مکمل اتفاق نہ ہونے کے باعث اگر ہڑتال ناکام ہوگئی، تو گرمی حبس میں صرف پسینہ ہی بہائے گی۔ جس کا صنعت کاروں اور تاجروں کو ازالہ کرنا مشکل ہوگا جب کہ یکجہتی کی صورت میں مہنگائی کے سیلاب، ٹٰیکسوں کے بوجھ کو روکنا آسان ہوگا، جس کیلئے تاجروں کو صرف غریب عوام کے مفاد کیلئے کام کو ترجیح دینا ہوگی۔ 
شہر میں ایک دھڑا تو مسلم لیگ (ن) کے سابقہ صوبائی وزیر قانون کے حق میں احتجاج کے ساتھ کاروبار بند کرنے کا اعلان کررہا ہے، یعنی ایک ٹکٹ میں بیک وقت دو مزے لینے کی کوشش میں ہے۔ اُسے مزدوروں، چھوٹے تاجروں، دُکان داروں کی ہمدردیاں سمیٹنے میں کہیں جان کے لالے نہ پڑجائیں۔ لہٰذا غریبوں اور کاروبار کے ہمدرد 
سیاست سے دور رہ کر ہڑتال کریں تو یقیناً کامیاب ہوگی جب کہ بابا تاجر آل پاکستان نے بھی شہر میں ٹیکسوں کی بھرمار کے خلاف کمر کس لی ہے۔ گو منظرنامہ میں کم نظر آنے والے ’’پرانے‘‘ نئی چال کے ساتھ تاجروں کو ملاکر ہڑتال کرکے 17 فیصد ٹیکس کی واپسی کے لیے راہ ہموار کررہے ہیں۔ لیکن فون کال نہ سننے، سابقہ دور کی طرح ملاقاتیں نہ کرنے، تاجروں کے مسائل میں عدم دلچسپی رکھنے کے باعث پذیرائی کم مل رہی ہے۔ شاید بڑھاپا، بیماری یا پھر نجی مصروفیات نے دم خم ختم کردیا۔ ایسی صورت میں وہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے پاکستان کے تیسرے، پنجاب کے دوسرے بڑے صنعتی شہر، آٹھوں بازاروں کی تنظیموں کی حکمرانی کسی اور کے سپرد کرکے انہیں گائیڈ لائن دیتے تو شاید ایک آواز پر پورا شہر جام ہوجاتا۔ اور لوگ لائل پور کی ہڑتال کو سابقہ دور کی طرح سدا یاد رکھتے، حکومت بھی گھٹنے ٹیکتی۔
پی ٹی آئی کے منتخب ارکان اسمبلی سمیت رہنمائوں اور برساتی مینڈک کی طرح جگہ بدل کر نکلنے والے موقع پرستوں میں سے کچھ تو اپوزیشن کی ناکامیوں اور گرفتاریوں پر سیاست چمکا رہے ہیں اور بعض وقتی فوائد کے لیے مُردوں کو زندہ باد اور زندوں کو پائندہ باد کے نعروں کا نشہ دے کر ٹھمکے لگارہے ہیں، تبدیلی کی دعویدار حکومت اور نمائندوں نے یکدم ٹیکسوں کے بوجھ تلے عوام کو دباکر کچومر نکالنا شروع کررکھا ہے، جس کے باعث زندہ رہنے کے لیے دال روٹی تو مشکل ہو ہی گئی ہے، مر کر دفن ہونا بھی لواحقین کے لیے عذاب سے کم نہیں، کیوںکہ تجہیز و تکفین و دیگر اخراجات 2 لاکھ روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ اگر گرمی حبس میں ہڑتال کے ساتھ احتجاج ہوا تو مرنے والوں کے لیے 2 لاکھ کے بندوبست کا سن کر بہت سے صاحب حیثیت راہ فرار اختیار کرلیں گے۔