17 نومبر 2019
تازہ ترین

ڈیل قبول کرنے کے قابل ہی نہ تھی ڈیل قبول کرنے کے قابل ہی نہ تھی

صدر ٹرمپ کی عربوں کی تیل کی رقوم استعمال کرکے فلسطینیوں کو بروکلن پل فروخت کرنے کی کوشش ابھی تک ناکام دکھائی دے رہی ہے؛ اور اس ناکامی پر کسی کو حیرت نہیں ہوئی۔ نام نہاد ’’ ڈیل آف دی سنچری‘‘ فریب کی ایک گھٹیا کوشش ثابت ہوئی ہے۔ ٹرمپ کا دامادجیرڈ کشنر پالتو عرب فرمانروائوں اور دیگر خوشامدیوں سے بحرین میں جس طرح خطاب کر رہا تھا، وہ کالج کا ایک طالب علم دکھائی دیا جوکہ زبانی امتحان کا سامنا کر رہا ہو۔تقریب میں کوئی فلسطینی یا اسرائیلی شریک نہ تھا۔ البتہ اسرائیل کے بااثر امریکی حامی سائیڈ لائنز پر بیٹھے اپنی تیار کردہ ڈیل کے خاکہ پیش ہونے کا مظاہرہ دیکھتے رہے۔ 
ٹرمپ کی پیشکش کا رنگ خالصتاً نیویارک کے پراپرٹی ڈیلروں جیسا تھا۔فلسطینی اتھارٹی کو امداد اور قرضوں کی شکل میں مختلف مالی ترغیبات کی مدد میں لگ بھگ 60ارب ڈالر کی ادائیگیوں کیلئے امیر کبیر خلیجی ریاستوں کو اکٹھا کیا گیا تھا جوکہ امریکا کی زیرنگرانی ہیں؛ جمہوری طریقے سے غزہ کی منتخب حماس حکومت کو کوئی پیشکش نہ کی گئی، جوکہ دنیا کے وسیع و عریض قید خانے میں مقیم 20لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی نمائندہ ہے۔  60ارب ڈالر کی ادائیگی صرف امریکی تابع فرمان محمود عباس کی قیادت کیلئے ہیں جوکہ ایک امریکی مہرہ ہے، مگر انہیں بھی ادائیگی اس صورت میں ہو گی کہ وہ مغربی کنارے کے بڑے حصے پر حق جتانا چھوڑ دیں، تاکہ اس علاقے کا اسرائیل کیساتھ الحاق ہو سکے، جس کا وعدہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اپنے لوگوں سے کر چکے ہیں۔ اس کے بعد شام کی گولان کی پہاڑیوں کا الحاق ہو گا، پھر پورے یروشلم پر اسرائیل کا دعویٰ تسلیم کیا جائیگا۔ 
سادہ الفاظ میں بات کی جائے تو اسرائیل کو امید ہے کہ مغربی کنارے اور یروشلم کا تمام یا زیادہ تر علاقہ خلیجی ریاستوں و سعودی عرب کی رقوم  بطور رشوت استعمال کرکے اسے دیدیا جائیگا۔ امریکا اور اسرائیل کم و بیش وسطی مشرق وسطیٰ کو مزید تقسیم کر دیں گے۔ رواں ہفتے اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ان کی ایجنسی نے امیر عرب ریاستوں اور اسرائیل کو قریب لانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ مصر جوکہ عرب دنیا کی سب سے بڑی فوجی قوت ہے، اسے سعودی رقوم اور امریکی تحفظ سے خریدا جا چکا ہے۔ قاہرہ پر براجمان فوجی آمریت دراصل غزہ کے وسیع و عریض قید خانے کی معاون جیلر کا کردار ادا کر رہی ہے۔ 
ترکی جوکہ ایک عرصہ سے فلسطینیوں کے حقوق کاحامی رہا ہے، امریکی پشت پناہی میں ہونیوالی فوجی بغاوت اور واشنگٹن کیساتھ معاشی کشمکش کی وجہ سے غیر مستحکم اور کمزور پڑ چکا ہے۔ اگر مضحکہ خیز حد تک المناک ’’ ڈیل آف دی سنچری کو کامیابی مل جاتی تب فلسطینیوں کو کیا بنتا ؟ جن کا سودا کرنے میں ان کے اپنے عرب بھائی پیش پیش ہوتے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ابھی تک ڈیل کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ غیر جانبداری کی توقع کی جائے تو 20فلسطینیوں کو غزہ کی قید خانے میں رہنے دیا جائیگا، جیسے ایک طرف سے اسرائیل، دوسری جانب سے مصر نے بند کر رکھا ہے۔ تیس لاکھ سے زائد فلسطینی مغربی کنارے میں مقیم ہیں ، جس پر اسرائیل نے نظریں گاڑ رکھی ہیں۔ ان فلسطینیوں کو نامہربان ہمسایہ عرب ملکوں میں بھاگنے پر مجبور یا پھر ہمسایہ ملک اردن دھکیل دیا جائیگا، جس کی 60فیصد آبادی پہلے سے فلسطینی نژاد ہے۔ اسرائیل کے انتہا پسند حلقے پہلے سے ایسی باتوں کو خوب اچھال رہے ہیں کہ حقیقی فلسطینی ریاست دراصل اردن ہے۔ 
اسرائیل کے ہمسایہ عرب ممالک جن میں لبنان، شام ، عراق اور اردن شامل ہیں، وہاں فلسطینیوں پناہ گزین کثیر تعداد میں پہلے سے موجود ہیں، وہ مزید فلسطینیوں کو قبول نہیں کریں گے۔ کویت پہلے ہی 2001ء اور 2003ء کی لڑائیوں کے وجہ سے چار لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں کو ملک سے نکال چکا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل جوکہ فلسطینیوں کو اپنے آبائی وطن سے بے دخل کر چکا ہے، اس بات پر مصر ہے کہ وہ عربوں کو کبھی واپس نہیں لے گا۔ دوسری جانب ، واشنگٹن سے چند غداروں اور ہاں میں ہاں ملانے والوں کے علاوہ ابھی تک فلسطینی قیادت کیساتھ بات کرنے تکلیف نہیں کی۔ فلسطینی ٹرمپ اور کشنر کی تجویز مکمل طور پر مسترد کر چکے ہیں، انہوں نے سعودیوں اور خلیجی ریاستوں کو ہمیشہ سے غداروں اور پیچھے سے وار کرنے والوں کے طور پر دیکھا۔ نوجوان کشنر نے ابھی تک ان پیچیدگیوں کو سمجھنا شروع نہیں کیا۔  
ٹرمپ کی امن ڈیل اسرائیل کی توسیع پسندی اور مزید نسلی کشی کو چھپانے کی ایک آڑ سے زیادہ کچھ نہیں۔اعتدال پسند اسرائیلی حلقے پہلے سے اپنی انتہا پسند حکومت کے توسیع پسندانہ منصوبوں سے سخت بددل ہیں، ان کی نظر میں اس کا نتیجہ مزید مشکلات اور تشدد سے علاوہ کچھ نہیں نکلے گا۔ دوسری جانب ٹرمپ جس دنیا سے تعلق رکھتے ہیں ، اس کا ایمان ہے کہ پیسے سے ہر چیز خریدی جا سکتی ہے۔ جو چیز ٹرمپ براہ راست نہیں کر سکتا، اس کا گرو ایڈلسن خرید لیتا ہے جوکہ جوئے خانوں کا کھرب پتی مالک ہے ۔ مشرق وسطیٰ میں گریٹر اسرائیل کے منصوبے کا اصل منصوبہ ساز یہی ایڈلسن ہے، ٹرمپ یا کشنر نہیں۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: ہف پوسٹ)