قسطوں میں جینا قسطوں میں مرنا قسطوں میں جینا قسطوں میں مرنا

سرگم کا کہنا ہے کہ سگریٹ اور شراب کا نشہ دوستوں کے ہاتھوں مفت میں لگتا ہے اور پھر ڈاکٹروں کے ہاتھوں بھاری قیمت ادا کر کے ختم ہوتا ہے۔ یعنی بندہ کچھ اس طرح قسطوں میں اپنی جان دیتا ہے کہ اسے اپنی قیمتی زندگی کے مہنگے ہونے کا احساس تک نہیں ہوتا۔ دیکھا جائے تو امریکا اور یورپ کی دیکھا دیکھی بلکہ ’’قسطہ قسطی‘‘ ہمارے ہاں بھی قسطوں پہ زندگی بسر کرنے کا رواج زور پکڑتا جا رہا ہے۔ بقول سرگم، ہم تو ویسے بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی قسطیں ادا کرنے کے اتنے عادی ہو گئے ہیں کہ ہمیں اب کوئی بھی مہنگی چیز اپنی پہنچ سے باہر نہیں لگتی۔ سلائی مشین، واشنگ مشین، ٹی وی، ریفریجریٹر، کار، زمین، مکان اور پلاٹ قسطوں میں دینے کے بعد اب سیانے کاروباریوں نے ہماری ’’قسط مزاجی‘‘ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہماری سالانہ قربانی کو قسطوں میں مہیا کرنے کے ’’سبز بکرے‘‘ دکھانے شروع کر دیے ہیں۔
قسطوں میں گاڑی تو ہم نے بھی لی ہوئی ہے مگر گاڑی کے ساتھ ساتھ پٹرول کی قیمتوں کے روزانہ حملوں سے پے در پہ شکست کھانے کے بعد ہم اب یہ سوچنے پہ مجبور ہو رہے ہیں کہ ہم اب اپنا روز مرہ کا سفر بھی قسطوں میں کنورٹ کرا لیں، اپنے اُس دوست کی طرح جو لندن میں رہتا ہے اور روزانہ صبح اپنی گاڑی نزدیکی ریلوے سٹیشن پہ کھڑی کر کے ٹرین پہ دفتر جاتا ہے اور قسطوار سفر میں زندگی گزار رہا ہے۔ سرگم کا یہ بھی کہنا ہے کہ آج کا سفید پوش قسطوں میں جیتا ہے اور قسطوں میں مرتا ہے۔ قسطوں میں ادائیگی کے ساتھ ساتھ قسطوں میں وصولی کے بھی ہم عادی ہوتے جا رہے ہیں، مثلاً جب نیا نیا ٹی وی آیا تو اسے خریدنے کی استطاعت نہ رکھنے والوں نے کہا کہ اب اس کے ذریعے گھر گھر فحاشی اور عریانیت پھیلے گی، پھر جب ٹی وی سیٹ قسطوں پہ ملنے لگا تو وہی فحاشی قسطوں میں وہ اپنے گھر لے ہی آئے۔
ٹیلیویژن کے عام ہونے کے بعد یہی سلوک ہم نے وی سی آر اور ڈش انٹینا سے روا رکھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے فحاشی پھیلانے والے ان آلات سے ہم اتنے مانوس ہو گئے کہ یہ جہیز کے لازمی آئٹمز بن گئے۔ اس کی ایک اور تازہ ترین مثال کیبل اور انٹرنیٹ کی دی جا سکتی ہے جس کے ذریعے ہم سیٹلائٹ کی ساری عریانیت اور نسوانیت صرف تین چار سو روپے ماہانہ میں گھر بیٹھے دیکھ لیتے ہیں۔ سرگم کے ایک محتاج اندازے کے مطابق اب وہ وقت جلد ہی آنے والا ہے جب ایک عام پاکستانی کا کھانا پینا، آنا جانا اور شادی کرنا بھی قسطوں کے بغیر ناممکن ہو جائے گا۔ ممکن ہے آپ عنقریب کوئی ایسا اشتہار اخبار میں دیکھیں جس کی عبارت کچھ یوں ہو ’’مہنگائی اور شہنائی کا قسطوار مقابلہ کیجئے، منگنی سے شادی ہونے تک جہیز بھی آسان قسطوں میں ادا کیجیے۔ منگنی سے شادی کی پانچ سالہ مدت میں جہیز کی ماہانہ پانچ برابر قسطیں ادا کر کے آسان قسطوں میں مشکل سے مشکل شادی کرائیے۔ نوٹ: بر وقت قسط ادا نہ کرنے پہ لڑکے والے یک طرفہ طور پہ منگنی توڑنے اور کسی دوسری پارٹی سے معاملہ طے کرنے کے ساتھ ساتھ ادا شدہ قسطیں ضبط کرنے کے مجاز ہوں گے۔ یہ اور بات ہے کہ ایسی سکیموں کا عوام پہ اعتماد بحال کرنا پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے اعتماد کو بحال کرنے کے مترادف ہو گا۔
بات ہو رہی تھی قسطوں پہ زندگی بسر کرنے کی اور اس میں اب ایک اور ایڈیشن دیکھنے کو ملتی ہے جسے کمپیوٹر کہتے ہیں۔ اس ایجاد نے جہاں ساری دنیا کو آپس میں ملا کر رکھ دیا وہاں نوجوانوں کو اپنا ایسا گرویدہ بنا لیا کہ اب نوجوان بال سنوارے گلی محلے میں چکر لگانے کے بجائے اس نئی ایجاد کے سامنے گھنٹوں بیٹھے ’’چیٹ‘‘ کرتے نظر آتے ہیں۔ کمپیوٹر کے آنے سے اب رشتے تلاش کرنے والی مائیاں رخصت ہو رہی ہیں کہ انکا کام کمپیوٹر سر انجام دے رہا ہے۔ کمپیوٹر کے بعد موبائل فون نے نوجوانوں کے ہاتھ لگ کر انہیں بالکل ہی ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا۔ اب رات کو یا دوپہر کے وقت چپکے سے مکان کی چھت پہ جا کر کسی سے چوری چھپے بات کرنے کی تکلیف بھی موبائل فون نے رفع کر دی ہے۔ موبائل فون کی آمد سے ہماری تہذیب و اخلاق ہم سے ناراض ہو کر رخصت ہو چکا ہے۔
اب ہماری قسطوں کی زندگی کا فائدہ ہر حکومت بھی اٹھاتی رہی ہے کہ وہ بھی مہنگائی کو ایک دم نہیں بڑھاتی بلکہ قسطوں میں ہی بڑھاتی ہے جس کی ایک چلتی مثال پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتیں ہیں جن کے بغیر ہمارا گزارا نہیں ہوتا اور جن کی قیمت بڑھائے بغیر حکومت کا گزارا نہیں ہوتا۔ تو جناب تیار رہیے کہ ہمارے ہاں مہنگائی کا موسم پھر سے آ چکا جسے ہم رمضان شریف اور کاروباری حضرات رمضان المبارک کہتے ہیں جو یقیناً کاروباری حضرات کیلئے انتہائی مبارک ثابت ہوتا ہے۔ اسلئے نہیں وہ اس ماہ میں خوب عبادت کرتے ہیں بلکہ اس لیے کہ چیزیں مہنگے داموں فروخت کر کے وہ خوب منافع کماتے ہیں۔
ہر حکومت گیس، پانی،بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں ہر بار اضافے کے اعلان کے ساتھ ساتھ یہ بیان داغ دیتی ہے کہ قیمتوں میں اضافہ سے 
غریب آدمی پہ کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ حکومت کی طرف سے دی جانے والی اس مفسلانہ مراعات سے غریب آدمی سجدہ شکر ادا کرتا ہے کہ وہ غریب ہے اور اگر خدا نخواستہ وہ امیر یا مڈل کلاسیہ ہوتا تو بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کیا منہ دکھاتا؟ غریب آدمی کو حکومت کی طرف سے ملنے والی اس سہولت سے حاسد قسم کا مڈل کلاس طبقہ بھی غریب ہونے کی سرتوڑ کوشش میں مصروف ہے کہ وہ جلد از جلد غریب بن کے ’’مہنگائی کے اثرات‘‘ سے محفوظ ہو سکے۔ بات قسطوں پہ زندگی بسر کرنے اور قسطوں پہ بجنے والی مہنگائی کی شہنائی سے شروع ہوئی تھی اور قسط کی نشانی یہی ہوتی ہے کہ ادائیگی یک مشت نہیں کرنا پڑتی اس طرح مہنگائی ختم ہوتی ہے اور نہ ہی قسطیں۔
بقیہ: پتلی تماشا