10 اپریل 2020
تازہ ترین

کشتی حادثہ اور چیئرلفٹس کے بے یارومددگار کشتی حادثہ اور چیئرلفٹس کے بے یارومددگار

انسانی جان کی حرمت، تکریم اور حفاظت سے عاری معاشرے یا حکومتیں انسانی سماج یا ملک کہلانے کے مستحق نہیں۔ پاکستان کے تمام شعبے، ادارے سرکاری ہوں یا پرائیویٹ، انسانی جان کی حرمت، تکریم اور اسے بچانے کے حوالے سے کوئی قابل قدر مثال نہیں رکھتے، یہاں انسانی جان کی قدر کے حوالے سے  بھی کوئی خاطرخواہ اقدامات ہوتے نظر نہیں آتے۔ انسان کی توہین و تذلیل تو روز کا معمول ہے، لیکن انسانی جان کی ارزانی بھی اب معمول بنتی جارہی ہے، جس کی اتنی زیادہ مثالیں موجود ہیں کہ انہیں یہاں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ تھانے سے لے کر ہسپتال تک، سکولوں سے لے کر مدرسوں تک، سڑکوں سے لے کر ریلوے، پی آئی اے وغیرہ غرض کوئی ایسا ادارہ نہیں جہاں انسان کی توہین نہ ہوتی ہو۔ کیا اسے مہذب معاشرہ کہتے ہیں؟
انسان کی غفلتوں، کوتاہیوں اور نااہلیوں کے باعث روزانہ تھانوں میں تشدد سے لے کر، ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی غفلت اور سڑکوں پر حادثات کی صورت روزانہ کتنی قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں، جنہیں ہم قدرتی حادثات کا نام یا قانون کو چکمہ دے کر خود کو بچا جاتے ہیں، لیکن یاد رکھنا ہوگا، ناحق انسانی جان کے ضیاع کا باعث بننے والے بھی کبھی خوش اور مطمئن زندگی نہیں گزار سکتے، آزماکر دیکھ لیں، سزا ان کا بھی مقدر ہوتی اور ضرور  ہوتی ہے، یہ الگ بات کہ  وہ اسے سزا نہیں سمجھتے۔
گزشتہ دنوں تربیلا میں ایک کشتی الٹنے سے کم از کم چار افراد ہلاک اور  21 لاپتا ہوگئے، جن  کی تلاش جاری ہے، اس کو بھی قدرتی حادثہ قرار دے کر اس کی وجوہ کی کھوج پر مٹی ڈال دی گئی، حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ ہر حادثے کی وجوہ کا پتا لگاکر حادثے کے مرتکبین کو سزا دینے اور ان وجوہ کو ختم کرنے جیسے اقدامات کیے جاتے، تاکہ آئندہ ایسے حادثات کی روک تھام ہوپاتی، لیکن ایسا کون کرے۔  
کشتی  حادثے کے بدنصیب چند روپے بچانے کے لیے اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے، خیبرپختونخوا کے مقامی افراد اس وجہ سے کشتیوں میں سفر کرتے ہیں، کیوںکہ سڑکوں کی حالت خراب ہے اور بحری سفر سے وقت اور پیسے کی بچت ہوجاتی ہے، اگر سڑکوں کی حالت خراب ہے اور کشتیوں کے سفر کے لیے حفاظتی اقدامات نہیں کیے جاتے اور چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھا جاتا تو اس کی ذمے دار کیا حکومت نہیں؟ غفلت اور کوتاہی کے مرتکب افراد کو سزا نہیں ملنی چاہیے؟ اس حادثے کے بعد گونگلوں سے مٹی جھاڑتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے تربیلا جھیل میں مسافراور سامان بردار کشتیوں سمیت سیروتفریح کے لیے استعمال ہونے والی تمام کشتیوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی، ایسا کرنے سے کیا حادثات میں کمی واقع ہوجائے گی جب کہ حادثات کی وجوہ اپنی جگہ موجود ہیں۔
ایک اور واقعہ مری میں چند روز پہلے رونما ہوا، پٹریاٹہ چیئر لفٹس میں 90  افراد خواتین و بچوں سمیت دس بارہ گھنٹے سے زائد پھنسے رہے۔ تفصیل کے مطابق پٹریاٹہ چیئر لفٹ کی بارہ کیبل کاروں میں سوار سیاح خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہورہے تھے کہ قریباً شام پانچ بجے اچانک تیز آندھی شروع ہوگئی اور کیبل کار کا رسّہ پلی سے اتر گیا۔ بارہ کی بارہ کیبل کاریں فضا میں جھولنے لگیں، آندھی اور بارش رکنے کے بعد سیاحوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو عمل شروع کیا گیا جو رات 3 بجے تک جاری رہا۔ ریسکیو اہلکاروں نے مینوئل طریقے سے ایک ایک کیبل کار کو چلاکر سیاحوں کو نکالا اور 90 افراد کو بحفاظت ریسکیو کیا گیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کیبل سروس معطل کردی گئی ہے، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ گرمیوں میں سکولوں کی چھٹیوں کے موسم میں جب ملک بھر سے سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں کا رُخ کرتی ہے تو کیبل کار سروس کی مناسب دیکھ بھال کیوں نہیں کی جارہی۔ گو چیئرلفٹس میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکال تو لیا گیا لیکن  ان دس بارہ  گھنٹوں میں ان پر کیا بیتی ہوگی، کیا کوئی تصور کرسکتا ہے۔ 
اگر ایسا واقعہ کسی مہذب ملک میں ہوتا تو پورا ملک سراپا احتجاج ہوتا۔ لیکن ہمارے دُکھ، تکلیفیں اور حادثات صرف اپنے اپنے ہیں اجتماعی نہیں، ہم دوسرے کے ساتھ ہونے والے کسی بھی حادثے کو صرف دوسرے کے ساتھ بیتنے والا روزمرّہ کا واقعہ ہی سمجھتے ہیں، اسی لیے یہاں ہر آدمی ’’سرکاری اہلکاروں‘‘ کے ہاتھوں مر بھی رہا ہے، جوتے بھی کھارہا اور رُسوا بھی ہورہا ہے۔
کچھ عرصہ پیشتر مری کے علاقے چھرہ پانی اور ایبٹ آباد کے گاؤں بنواڑی کے درمیان لگائی جانے والی نجی چیئرلفٹ ٹوٹنے سے ایک خاتون اور بچّے سمیت 12 افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا تھا، مرنے والوں میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی  تھی جو کرکٹ کھیلنے کے لیے بنواڑی جارہے تھے، یہ حادثہ اُس وقت پیش آیا جب مقامی افراد اس لفٹ کے ذریعے دریا کو عبور کررہے تھے۔ پاکستان میں چیئر لفٹ گرنے کے حادثات عام ہیں، جہاں پہاڑی علاقوں میں رہنے والے افراد عموماً دریاؤں کو عبور کرنے کے لیے ان کا استعمال کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں بھی گذشتہ سال چیئر لفٹ ٹوٹنے سے چار افراد ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے۔ اُس وقت کے وزیراعلیٰ نے بھی صوبہ بھر میں نجی طور پر چلائی جانے والی ڈولی لفٹس کو فوری بند کرنے کا حکم دے کر مسئلہ ’’حل‘‘ کردیا تھا۔ اس طرح کے تمام حادثات میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر جتنا بھی افسوس کیا جائے، کم ہے، لیکن ایسے حادثات نہ ہوں، اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے کسی بھی حادثے کے بعد نجی طور پر چلائی جانے والی لفٹس کو بند کرنے کے احکامات جاری کردیے جاتے ہیں۔ کیا اس اقدام سے تمام معاملات درست ہوجاتے ہیں، اگر یہ لفٹس غیر معیاری اور مروجہ اصولوں کے برخلاف ہیں تو انہیں نصب کرنے کیوں دیا  جاتا ہے؟ ان انتظامی افسران کے خلاف بھی انضباطی کارروائی روبہ عمل کیوں نہیں لائی جاتی، جن کا  ان معاملات سے صرف نظر کرنے کا رویہ بگاڑ کا باعث بن رہا ہے۔ 
اسی طرح آئے دن ہونے والے ٹریفک حادثات بھی خراب گاڑیوں اور ڈرائیورز کی لاپروائی اور خستہ سڑکوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، مگر انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ کمپنی مالکان نے انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بننے والے معاملات کو درست کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ حد تو یہ ہے کہ ملک میں طیاروں کے حادثات بھی ہوئے ہیں، لیکن ان کوتاہیوں کو دُور کرنے کی کوشش نہیں کی گئی، جن کی وجہ سے حادثات ہوتے ہیں۔ حکومت ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں کے بجائے اگر معاملات مستقل بنیادوں پر درست کرنے کی جانب توجہ دے تو مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جاسکتا ہے۔ ہمارے ہاں حکومتی سطح پر یہ رویہ فروغ پاچکا کہ جب تک کوئی حادثہ رونما نہ ہوجائے، معاملات کی درستی پر توجہ نہیں دی جاتی۔ آخر میں سیاحت کو فروغ دینے کے بیانات جاری کرنے والوں سے سوال، کیا اس طرح سیاحت کا فروغ ممکن ہے؟