09 اپریل 2020
تازہ ترین

کروڑ پتی عوامی نمائندے… کروڑ پتی عوامی نمائندے…

پاکستان میں تاجر، بزنس مین، سرکاری افسران اور پرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والے سب پریشان ہیں کہ یہاں ترقیٔ معکوس کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ کہیں بھی ترقی اور خوش حالی کا پہیہ چلتا ہوا محسوس نہیں ہورہا۔ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور یوٹیلٹی بلوں کی بڑھتی ہوئی شرح سے پریشان ہیں۔ جس ادارے، مارکیٹ، بازار، شاپنگ مال یا فیکٹری میں جائو، ایک ہی جواب ملتا ہے کہ ’’کاروباری مندی‘‘ چل رہی ہے۔ حالیہ بجٹ نے بھی عوام کے کس بل نکال دیے ہیں۔ کروڑوں پاکستانی دو وقت کی روٹی کے حصول میں بھی پریشان نظر آتے ہیں، ایسے حالات میں بھی ملک کا ایک طبقہ مسلسل ترقی کررہا ہے۔ ان کی جائیدادیں کروڑوں اور اربوں روپے تک پہنچ چکی ہیں۔ یہ طبقہ ہمارے ملک کے اراکین پارلیمان پر مشتمل ہے۔ ان کا تعلق حکومت سے ہو یا اپوزیشن جماعتوں سے، ان کے اثاثے ملک پر بڑھتے ہوئے قرضوں کی’’شرح‘‘ کی طرح مسلسل بڑھتے ہی جاتے ہیں۔ مزے کی بات کہ تمام اراکین پارلیمنٹ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ قانون سازی کے لیے ایوان کا حصہ بنے ہیں اور کسی قسم کا کاروبار نہیں کرتے، لیکن ان کے پاس پتا نہیں وہ کون سی گیدڑ سنگھی ہوتی ہے جو ان کی جائیداد اور اثاثوں کو عروج دیتی ہے۔
سب سے پہلے حکومتی ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کا ذکر ہوجائے، یاد رہے کہ یہ وہ اثاثے ہیں جو ظاہر کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی رپورٹ 2018.19 کے مطابق ہمارے صادق اور امین وزیراعظم عمران خان دس کروڑ 82 لاکھ اور 36 ہزار روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں، انہوں نے بنی گالا کی ر ہائش اور اراضی کو تحفے کے طور پر ظاہر کیا ہے۔ یہ تحفہ انہیں سابق اہلیہ جمائما کی طرف سے ملا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے تسلیم کیا کہ ان کے ڈالر، پاؤنڈ اسٹرلنگ اور یورو اکاؤنٹس موجود ہیں۔ وہ دو لاکھ روپے کی چار بکریوں، 6.2 مربع زرعی اور کمرشل اراضی کے بھی مالک ہیں۔ وزیراعظم کے اثاثوں کی تفصیلات کے مطابق ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے نام بنی گالا میں تین کنال کا گھر، پاک پتن میں 431 کنال اراضی اور اوکاڑہ میں 266 کنال اراضی ہے۔ تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی ایک ارب 85 کروڑ 61 لاکھ کے اثاثے ظاہر کرکے امیر ترین سینیٹر بن گئے۔ پی ٹی آئی کے ایم این اے سمیع الحسن گیلانی ایک  ارب سے زائد اثاثوں کے مالک نکلے۔ سینیٹ میں قائد ایوان تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز 23کروڑ کے اثاثے رکھتے ہیں۔ کے پی کے سابق وزیراعلیٰ اور موجودہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے 13 کروڑ 95 لاکھ کے اثاثے اور ڈھائی کروڑ روپے کا بینک بیلنس ظاہر کیا ہے۔ پرویز خٹک نے پلاٹس، اپارٹمنٹس، کمرشل بلڈنگز، زرعی زمین، شاپنگ پلازوں میں حصہ داری کے طور پر بھاری سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔ علامہ اقبال کے پوتے اور سینیٹر ولید اقبال کے پاس تیرہ کروڑ کی جائیداد ہے۔ وفاقی وزیرعلی زیدی تین کروڑکے مالک ہیں۔
پاکستان میں اپوزیشن کے اراکین بھی کروڑوں اور اربوں کی جائیدادیں بناچکے ہیں۔الیکشن کمیشن میں اپوزیشن کے اراکین سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اثاثوں کا جائزہ لینے کے دوران پتا چلاکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری امیر ترین ارکان قومی اسمبلی میں شامل ہیں، ان کے اثاثوں کی مالیت ایک ارب 54 کروڑ روپے ہے۔ وہ دبئی کے دو ولاز میں حصہ دار بھی ہیں۔ والد زرداری اپنے بیٹے سے کم امیر ہیں، ان کی جائیداد 66 کروڑ روپے کی ہے جبکہ ان کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں۔ آصف زرداری اور بلاول نے دبئی کے اقامہ ہولڈر ہونے کا بھی اعتراف کیا ہے۔ مزے کی بات کہ سابق صدر زرداری کے پاس ایک کروڑ مالیت کے گھوڑ ے اور دیگر جانور ہیں۔ زرداری اسلحہ رکھنے کے بھی بہت شوقین ہیں، انہوں نے اپنے پاس ایک کروڑ 66 لاکھ کا اسلحہ بھی محفوظ رکھا ہوا ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے 25 کروڑ روپے کے اثاثے ظاہر کیے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے 26 کروڑکی جائیداد ظاہر کی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ
مراد علی شاہ نے 36 کروڑ 24 لاکھ کے اثاثے ظاہر کیے اور اپنے والد کی طرف سے ساڑھے تین کروڑ کی زرعی زمین ملنے کا بھی اقرار کیا، ان کے پاس سو تولہ سونا بھی ہے۔ خورشید شاہ چھ کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ پی پی کے رحمان ملک آٹھ کروڑ، مصطفیٰ نوازکھوکھر سترہ کروڑ 47 لاکھ، فاروق ایچ نائیک نو کروڑ اور رضاربانی 12 کروڑ 32 لاکھ کی جائیداد رکھتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی بھی کروڑ پتی ہونے کا اقرار کرچکے ہیں۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی  60 کروڑ کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف 18 کروڑ 96 لاکھ، ان کی اہلیہ نصرت شہباز کے نام 23 کروڑ اور دوسری اہلیہ تہمینہ درانی کے 57 لاکھ 65 ہزار روپے کے اثاثے ہیں۔ شہباز شریف کے بیرون ملک 14 کروڑ کے اثاثے اور لندن میں فلیٹ بھی ہے۔ شہباز نے شریف پولٹری فارم، شریف ڈیری فارمز، کوالٹی چکن اور رمضان شوگر ملز میں حصہ داری اور سرمایہ کاری کا بھی اقرار کیا۔ حمزہ شہباز کے اثاثوں کی کل مالیت 41 کروڑ پندرہ لاکھ ہے۔ ان کی غیر زرعی اراضی کی مالیت تیرہ کروڑ 64 لاکھ اور 
زرعی زمین کی مالیت تین کروڑ سے زائد ہے۔ (ن) لیگ کے رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ چھ کروڑ 60 لاکھ کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری 37کروڑ 80 لاکھ، سینیٹر طلحہ محمود 33کروڑ چھبیس لاکھ، سینیٹر راجہ ظفرالحق چار کروڑ، سینیٹر آصف کرمانی چار کروڑ، برجیس طاہر دو کروڑ 78لاکھ، سینیٹر مشاہداللہ تین کروڑ کی جائیداد کے مالک ہیں۔ پرویز رشید غریب ترین سینیٹر ہیں جن کی جائیداد صرف 23لاکھ ہے۔
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے دس کروڑ روپے کے اثاثے اور جماعت اسلامی کے امیر نے 31لاکھ روپے کے اثاثے ظاہر کیے ہیں۔ سینیٹر تاج آفریدی کے ایک ارب 30 کروڑ کے اثاثے سامنے آئے۔ اعداد وشمار سے پتا چلتا ہے کہ چند اراکین پارلیمنٹ کو چھوڑ کر باقی سب کروڑ پتی ہیں۔ تبھی ان کو عوام کی مشکلات کا اندازہ بھی نہیں۔ کاش یہاں عام پاکستانی پارلیمنٹ کے رکن بن سکیں، تاکہ حقیقی مسائل پر توجہ دی جاسکے۔ کاش ہماری نسل ایسا ہوتے دیکھ سکے!
بقیہ: نیا سراغ