18 اکتوبر 2019
تازہ ترین

 قرضے، ٹیکس اور مہنگائی قرضے، ٹیکس اور مہنگائی

اپنے گزشتہ کالم میں ہم نے قرضوں اور معیشت پر خیال آرائی کی تھی، جہاں پچھلے کالم کا اختتام ہوا تھا، اس تحریر میں وہیں سے سلسلے کو جوڑتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ چند حکومتی عہدیداروں کی نشان دہی کے باوجود، ان معاہدوں سے فیض یاب ہونے والوں کا احتساب نہیں ہورہا، بلکہ ریاستی مشینری کے بکاؤ اور بددیانت افسروں کی ملی بھگت سے ہونے والے نقصان کا ازالہ بھی نہیں کیا جارہا۔ واقفان حال کے مطابق ان معاہدوں کی ایسی من مانی تشریح کی جارہی ہے کہ جس کا فائدہ صرف ان ٹھیکیداروں کو ہوتا ہے۔ حکومتی بزرجمہروں کی خاموشی اس ضمن میں معنی خیز ہے کہ یہ ایسے ڈاکے ہیں، اگر ان کی روک تھام کرلی جائے، ڈکارے ہوئے پیسوں کو برآمد کرلیا جائے تو یقیناً عوام کو کافی حد تک آسانی مہیا کی جاسکتی ہے مگر افسوس کہ حکومتی مشینری کے ساتھ دیگر ایسے لٹیروں کی پشت پناہی کو سامنے آجاتے ہیں۔ کتنے ہی ایسے ٹھیکیدار ہیں، جو برسہا برس سے قومی خزانہ ڈکارے، ان رقوم کو نہ جانے کتنے گنا بڑھائے بیٹھے ہیں مگر حکومتی خزانے میں جمع کرانے کا نام تک نہیں لیتے۔ نہ جانے اس میں کیا مصلحت ہے یا حکومتی کمزوری ہے یا نااہلی، کسی بھی صورت اس کا دفاع ممکن نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومتی مفاد میں، ان معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لیا جاتا اور ان لٹیروں سے ملکی دولت واپس لے کر عوام کو ریلیف دیا جاتا مگر اس کے برعکس عوام کی کھال کھینچ کر ان لٹیروں کے معاہدوں کی رقوم پوری کی جارہی ہیں۔
اس بجٹ میں مشیر خزانہ اور ایف بی آر کے سربراہ کسی بھی نئے ٹیکس کی موجودگی سے انکار کرتے ہیں مگر اعدادوشمار کا گورکھ دھندا کچھ اور ہی کہانی سنارہا ہے۔ پہلے سے موجود ٹیکسز پر بھی دہرے ٹیکسوں کا نفاذ کردیا گیا اور اب بھی ارباب اختیار سمجھتے ہیں کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگا۔ آج کی دنیا میں، مواصلات یا ذرائع ابلاغ یا معلومات کے حصول میں، انٹرنیٹ ایک بنیادی ضرورت بن چکا، جس سے کسی بھی ملک کا کوئی بھی فرد کاروباری یا تعلیمی معلومات حاصل کرسکتا ہے، تسلیم کہ کوئی بھی سہولت مفت نہیں ملتی مگر یہ کیا کہ ایک ہی سہولت پر مختلف قسم کے ٹیکس لگاکر، اس کا حصول مشکل تر کردیا جائے۔ ادویہ پر ٹیکسوں کی شرح میں 75% اضافہ کیا جاچکا، یعنی اب 
غریب شہری صحت کی سہولت سے بھی محروم ہوتا نظر آتا ہے، آج بیماری میں سسکنا آسان نظر آتا ہے جب کہ دوا دارو کا حصول مشکل تر ہورہا ہے۔ پٹرولیم کی قیمتیں، جو پہلے ہی آسمان کو چھورہی تھیں، ان میں 25%اضافہ کردیا گیا جب کہ یہ زبان زدعام ہے کہ صرف پٹرول کی قیمت میں بڑھوتری ساری ضروریات زندگی کے نرخ میں اضافے کا موجب بنتی ہے۔ پی ٹی آئی ماضی میں جس طرح (ن) لیگ حکومت کو پٹرول کی قیمتوں میں لاگو ٹیکسز کے بارے میں لتاڑا کرتی تھی، لگتا ہے حکومت میں آنے کے بعد وہ سب ہتھکنڈے جائز قرار پاچکے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ریونیو کے حصول کی خاطر، دوسری بنیادی ضرورت، گیس پر پی ٹی آئی حکومت اب تک 145ارب کے نئے ٹیکسز لگاچکی ہے، اس کی کوشش ہے کہ گذشتہ حکومتوں کی طرح بیرونی قرضے حاصل کرتے ہوئے عوام کو سبسڈی کا جھانسہ دیے رکھے۔ 
بجلی کی قیمت بھی مسلسل آسمان کو چھوتی نظر آتی ہیں اور اس بجٹ میں بھی، بجلی کی قیمت میں اضافے کو آمدن بڑھانے کا ایک ذریعہ سمجھا گیا اور 190ارب روپے کے محصولات بجلی کی مد سے اکٹھے کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ افسوس کل تک وزیراعظم ہائیڈل منصوبوں سے سستی بجلی بنانے کے حامی تھے اور کے پی گورنمنٹ میں 
رہتے ہوئے تین سو ڈیمز بنانے کی نوید سنایا کرتے تھے مگر بدقسمتی سے اب تک ایک بھی ڈیم کا اعلان ہوا اور نہ افتتاح… الٹا سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے اعلان کردہ ڈیم فنڈز میں حاصل شدہ رقوم میں بھی کوئی خاطرخواہ اضافہ نہیں ہوا۔ واقفان حال کے علاوہ اپوزیشن الزام بھی لگاتی ہے کہ ڈیم فنڈ میں اتنا فنڈ اکٹھا نہیں ہوا جتنا خرچ اس کی تشہیری مہم پر آیا تھا، واللہ اعلم بالصواب۔ علاوہ ازیں مزید کئی روزمرہ کی اشیاء پر 516ارب کے نئے ٹیکسز لگائے گئے، جن میں ریلوے کرائے سمیت، سیمنٹ، کھاد، جوسز وغیرہ شامل ہیں۔ 
ایمنسٹی کی مد میں حاصل ہونے والے ریونیو کا مصرف جو ابھی تک سامنے آرہا ہے، وہ پھر براہ راست، ترقیاتی فنڈز کے نام پر، اراکین پارلیمنٹ کی جیبوں میں جاتا نظر آرہا ہے۔ جس سے کسی بھی صورت ملکی قرضوں کے حجم کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور نہ عوام کی بھلائی ممکن ہے۔ اگر ان افواہوں میں واقعی کوئی صداقت ہے تو پی ٹی آئی حکومت بالعموم اور عمران خان بالخصوص اپنی مقبولیت میں اپنے ہاتھوں کیل ٹھونکیں گے، کیونکہ عوام نے ان کو منتخب ہی اس لیے کیا تھا کہ ان کا طرز حکومت سابق حکومتوں سے مختلف ہوگا۔ اس طرح کی خبروں کا مطلب یہی ہوگا کہ بالخصوص عمران خان نمک میں خود بھی نمک بن چکے ہیں، جو کسی بھی طور ملک و قوم کے مفاد میں نہیں، دوسری طرف اگر معیشت اسی طرز پر چلنی ہے تو مہنگائی کا عفریت اس سے دوگنا بڑھتا جائے گا۔