10 اپریل 2020
تازہ ترین

قومی تعلیمی نصاب۔ یکجہتی کا تقاضا قومی تعلیمی نصاب۔ یکجہتی کا تقاضا

کسی بھی ملک کا قومی تعلیمی نصاب اس ملک کے تشخص، قومی مقاصد اور عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس ملک کے اہل علم و دانش قومی تعلیمی نظام اور نصاب کو ان مقاصد اور اہداف سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے کمر بستہ اور بیدار رہتے ہیں۔ مگر پاکستان میں معاملہ قدرے اس کے برعکس ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد قومی تعلیمی نصاب جن چیلنجوں سے دوچار ہوا ان سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اہل علم کی طرف سے کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آئی۔ ہاں گاہے گاہے سیاسی اور سماجی رہنما ان خطرات کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں جو اس تبدیلی سے بتدریج سامنے آ رہے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے یہ کہہ کر کہ صوبوں کو تعلیمی نصاب بنانے کا اختیار دینے کے اسلام، پاکستان اور فوج دشمن نتائج سامنے آنے لگے ہیں، اس مسئلے کو پھر اجاگر کیا ہے۔ ان کا یہ کہنا ہوش ربا انکشاف ہے کہ عید میلادالنبیؐ، شہید کربلا، نشان حیدر اور فرموداتِ قائداعظم جیسے باب ختم کر کے آٹھویں کی کتاب میں اہم تہوار، خون کا بدلہ، موسم اور ریل کہانی وغیرہ شامل کر دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے وقت میں نے یہ اختیارات وفاق کے پاس رکھنے پر زور دیا تھا، ورنہ کوئی وزیراعلیٰ قائداعظم کی جگہ اپنی تصویر بھی لگا دے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 2019-20 کیلئے حکومت کی جانب سے آٹھویں جماعت کیلئے اردو کی جو کتاب مفت تقسیم کی جا رہی ہے، اس میں پرانے تعلیمی نصاب میں موجود عید میلادالنبیؐ، شہید کربلاؓ، حضرت بلالؓ، فرمودات قائداعظم، نشان حیدر، تحریک پاکستان میں خواتین کا حصہ جیسے تمام باب ختم کر کے موجودہ تعلیمی نصاب میں پاکستان کے چند اہم تہوار، خون کا بدلہ، شہری دفاع، ہاکی، پاکستان کے موسم، ادب کی اہمیت، تفریح کی اہمیت اور ریل کہانی جیسے باب شامل کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ ثابت ہو رہا ہے کہ ملک دشمن قوتیں افواج پاکستان کو کمزور کرنے کی بین الاقوامی سازش کے تحت افواج پاکستان کی قربانیوں کو آئندہ نسلوں سے اوجھل کرنا چاہتی ہیں اور اسلامی تاریخ کی سنہری شخصیات اور واقعات کو نصابی کتابوں سے نکال کر نظریہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔
چودھری شجاعت نے کہا کہ دوسرے صوبوں سے ابتدا سے ہی من مرضی کی ایسی تبدیلیوں کی اطلاعات آ رہی تھیں لیکن پنجاب میں ایسی افسوسناک تبدیلی انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں آج بھی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ نصاب بنانے کا اختیار وفاق کے پاس ہونا چاہیے جس سے اس قسم کی گھناؤنی سازشیں دفن ہو کر رہ جائیں گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 
اس قسم کی تبدیلی والی کتاب کو فوری طور پر تلف کر دیا جائے۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد سے ہی نصاب میں شامل علامہ اقبال کی مشہور دعائیہ نظم ’’یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے‘‘ اب غائب کر دی گئی ہے جبکہ اسلامی تاریخ کے سنہری باب اور دنیا کی تاریخ میں قربانی کی سب سے بڑی مثال شہید کربلاؓ کے باب کو بھی ختم کر دیا گیا ہے، تحریک پاکستان میں خواتین کے کردار جیسے اہم واقعات کی جگہ پاکستان کے موسم، تفریح کی اہمیت جیسے مضامین ڈال دیے گئے ہیں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ اٹھارویں ترمیم کی مخالفت جن وجوہات کی بنا پر کی گئی ان میں ایک نمایاں وجہ تعلیم کے شعبے کو مکمل طور پر صوبوں کی تحویل میں دینا ہے۔ تعلیم کا شعبہ جو وفاق کے کنٹرول میں تھا، اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کے سپرد کر دیا گیا جس سے نصاب کا شعبہ بھی صوبوں کے حوالہ کرنے کا مسئلہ سب سے زیادہ تنازع کا باعث بنا۔ کیونکہ تعلیم کا شعبہ صوبوں کو دینے 
کے بعد جو اقدامات سامنے آئے وہ عوامی امنگوں کے نمائندہ اقدامات نہیں بلکہ بغیر کسی مجاز اتھارٹی کی منظوری کے صوبوں کے تعلیمی نصاب میں قومی وحدت کے منافی اور سیکولر موضوعات شامل کرنا ملک کے اسلامی تشخص اور نظریہ پاکستان کو ختم کرنے کی خاموش مہم کا آغاز ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان جو پہلے ہی کئی دہائیوں سے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں نبرد آزما ہے اب سیکولر اور لادین انہتا پسندی کے نشانے پر ہے۔ یہ ذہن ایک اور نوعیت کی ملائیت کو فروغ دے رہا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں رائج نظام تعلیم میں وہ ممالک اپنے تمام طلبا کو ایک ہی نظام اور ایک ہی نصاب کے تحت تعلیم دیتے ہیں۔ وہاں طلبہ میں ادنیٰ و اعلیٰ طبقے کا امتیاز نہیں ہوتا۔ جبکہ پاکستان کا نظام تعلیم اس لحاظ سے نظر ثانی کا متقاضی ہے کہ پورے ملک میں بلا کسی منصوبہ بندی کے بیک وقت تین قسم کے نظام تعلیم رائج ہیں، ایک میٹرک سسٹم، دوسرا مدرسہ سسٹم اور تیسرا کیمبرج سسٹم۔ ان تینوں نظاموں کے تحت ہم معاشرے میں مختلف النوع تعلیم حاصل کرنے والے تین ذہن پیدا کر رہے ہیں۔ ان تینوں ذہنوں کے رویے بھی عملی زندگی میں مختلف ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قومی یکجہتی اتفاق رائے اور یکساں انداز فکر سے ہی جنم لے سکتی ہے۔ کسی قوم کا انداز فکر و عمل بنانے میں اس کا نظام تعلیم اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لہٰذا یکساں نظام تعلیم اگر پورے ملک و معاشرے میں رائج ہو تو کم و بیش پوری قوم کی ترجیحات بھی ایک سی ہوتی ہیں۔ خاص کر ملکی ترقی، ملکی اداروں کی کارکردگی، ملکی دفاع، معیشت اور افراد معاشرہ کی فلاح و بہبود پر پوری قوم ایک ہی نقطہ نظر رکھتی ہے۔
بطور شہری ہر فرد کی بنیادی ضروریات اور حقوق کا یکساں ہونا ہمارے انداز فکر پر منحصر ہے۔ جس ملک میں طبقاتی معاشرہ ہو اور ہر طبقہ دوسرے طبقے کے حقوق اور ضروریات کو نظر انداز کر کے صرف اور صرف اپنے ذاتی مفاد کے بارے میں سوچتا ہو تو وہاں ملکی ترقی میں تمام افراد کا شامل ہونا ایک امر محال ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے قومی معاملات میں اجتماعی فیصلوں سے قومی یکجہتی پیدا کرنے والے بنیادی عناصر 
کو ہی قومی انتشار کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ یعنی بجائے اس کے کہ پارلیمان میں ایسا فیصلہ کیا جاتا کہ قوم کو تعلیم کے ذریعے تین طبقات میں تقسیم کرنے والے نظام کو یکساں اور ایک قومی تعلیمی نظام میں بدلا جاتا ہم نے اس کے مزید تقسیم تقسیم ہونے کے دروازے کھول دیے ہیں۔
اٹھارویں ترمیم کے تحت تعلیم کو صوبوں کے سپرد کیے رکھنے کے حامیوں کا موقف یہ ہے کہ نصاب میں انگریزی سامراج اور اس سے قبل مغل حکمرانوں کے خلاف آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے قومی ہیروز کا ذکر نہیں ہے حالانکہ صرف مسلم لیگ نے تو سامراج سے آزادی کی جنگ نہیں لڑی تھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ تحریک آزادی کے دوران جدوجہد کرنے والوں کی جدوجہد کا انکار کس نے کیا ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ تاریخ کو بیان کرتے ہوئے تاریخ کا قتل یا تاریخ کو مسخ نہ کیا جائے بلکہ پوری تاریخ بیان کی جائے۔ اور ظاہر ہے کہ مخصوص سوچ کے تحت بیان کی جانے والی تاریخ میں پورے حقائق نہیں بیان کیے جاتے۔ ہمیں بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والوں کی کج بحثیوں میں الجھنے کے بجائے اس نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کی طرف پیش قدمی کرنی چاہیے جو نسل نو میں دلیل کی دیانت اور قومی وحدت و یکجہتی کا احساس پیدا کرے۔
بقیہ: سوز سخن