07 جولائی 2020

قومی میثاق قومی میثاق

(25 جنوری 1924ء کی تحریر)
 ہم ہر طبقے اور ہر جماعت کے ذمہ دار اصحاب سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بہ حالات موجودہ ملک کے اس سب سے ضروری اور اہم مسئلہ کے حل کرنے میں امداد دیں۔ لالہ لاجپت رائے اور ڈاکٹر انصاری کا مجوزہ قومی میثاق زمیندارؔ میں شایع ہو چکاہے۔ علاوہ ازیں میثاق بنگال اور ایک سربرآوردہ مسلمان کی تجاویز بھی قارئین کرام کے سامنے پیش کی جا چکی ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ قومی میثاق کے تمام اطراف بحث کو صاف کر دیا گیاہے۔ اب ہر شخص کیلئے ملک کی حالت، ضرورت، مختلف جماعتوں کے مطالبات اور زاویہ ہائے نگاہ کو مدنظر رکھتے ہوئے رائے پیش کرنا نہایت آسان ہے۔ ہم میثاق کے متعلق تمام مضامین کو شایع کرنے کیلئے طیار ہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ مضامین نہایت مختصر و مجمل ہوں بلاضرورت انہیں لمبا نہ کیا جائے۔ ہر شخص قومی میثاق کی ہر دفعہ کے متعلق مخالف یا واقعی دلائل کو اختصار کے ساتھ مرتب کر دے اور تحریر میں مصالحت و مفاہمت کے انداز کہ بہ طورِ خاص ملحوظ رکھا جائے۔ امید واثق ہے کہ پنجاب کے تمام بڑے بڑے مسلمان خواہ وہ کسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، خواہ ان کا طریق کار کیا ہو، اس ضروری معاملے پر خاص توجہ فرمائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور میں طاعون
طاعون کے متعلق بلدیہ لاہور کی صیغہ حفظان صحت کی طرف سے جو رودادیں شایع ہوئی ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ مرض روزانہ ترقی پر ہے اور اس وقت شاید ہی کوئی حلق ایسا ہو جو اس کے اثر سے پاک ہو۔ سول اسٹیشن میں بھی مرض پہنچ چکا ہے۔ اگر اس کے دفعیہ اور انسداد کیلئے موثر تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو خدانخواستہ اس کے آیندہ اپریل میں خطرناک صورت اختیار کر لینے کا سخت اندیشہ ہے۔ افسر محکمہ حفظان صحت نے انسدادی تدابیر کے متعلق چند ہدایت شایع کی ہیں اور ٹیکہ کا بھی انتظام ہوا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ تدابیر زیادہ موثر اور زبردست ہوں مثلاً یہ ضروری ہے کہ جن حلقوں میں صفائی وغیرہ کا انتظام اچھا نہیں ہے ان پر خاص توجہ کی جائے یا جو مکان سورج کی روشنی سے قریب قریب کلیتاً محروم ہیں ان میں خاص انسدادی تدابیر اختیار کی جائیں۔ محکمہ حفظان صحت کے انسپکٹروں کو چاہئے کہ وہ اپنے حلقوں کا روزانہ دورہ کریں اوراس امر کا خاص خیال رکھیں کہ کوئی طاغونی واردات مخفی نہ رکھی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہاتما گاندھی کی رہائی
ملک اور حکومت دونوں کیلئے بہتر ہے
(26 جنوری 1924ء کی تحریر)
شعرا اور فلسفی ہر زمانہ میں پیدا ہوئے، سیاسی رہنما سے کوئی عہد خالی نہیں رہا۔ آج بھی ہر ملک میں شاعر، فلسفی اور رہنمائے وطنی موجود ہیں لیکن ایسے لوگ تقریباً نایاب ہیں جو ہندوستان کے قائداعظم کی طرح اپنے اصول، اپنے اعمال اور اپنے اقوال سے ساری دنیا کو خراج تحسین ادا کرنے پر مجبور کر دیں اور دنیا کے خیالات و عقاید میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کر دینے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ مہاتما گاندھی دور حاضر کے بے نظیر انسان ہیں۔ وہ پیغمبر نہیں ہیں، الہام الٰہی سے بہرہ ور نہیں ہیں، اولیا اللہ میں سے نہیں ہیں، شاعر نہیں ہیں، ہاں ایک ایسے انسان ہیں جن کے قول و عمل میں پوری مطابقت ہے اور جو اپنے مطمع نظر اور نصب العین کو حاصل کرنے کی کوشش میں جان قربان کر دینا بالکل ہیچ اور معمولی بات سمجھتے ہیں۔ آپ کی طفلانہ معصومیت، آپ کی پاکیزہ سادگی، آپ کا آہنی عزم، آپ کا رسوخ اعتقاد آج دنیا میں اپنی مثال نہیں رکھتا۔ مصر میں زاغلول پاشا، آئر لینڈ میں ڈی ولیرا، اطالیہ میں مسولینی، ٹرکی میں مصطفیٰ کمال پاشا موجود ہیں اور ان جلیل القدر ہستیوں کے کارناموں پر دنیا عش عش کر رہی ہے لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان شخصیتوں کا سامان قوتِ پیکار اور سیاسی دانش مندی ہے۔  ان کے پاس سامان جنگ ہے، قتل و خونریزی کے اسباب مہیا ہیں، جان پر کھیل جانے والے پیرو موجود ہیں اور یہ لوگ دستور و آئینِ سیاسی کی ایک ایک دفعہ کی پابندی سے اپنے حریف کو زچ کر دیتے ہیں لیکن مہاتما گاندھی کی بے سر و سامانی کو دیکھوں اور براعظم ہندوستان کے طول و عرض پر نگاہ ڈالو پھر یہ بھی سمجھ رکھو کہ مہاتما کی تمام تحریک آج کل کی سیاسی عیاریوں اور مدبرانہ چالاکیوں سے یکسر خالی ہے۔