15 ستمبر 2019
تازہ ترین

قول و فعل میں اتنا تضاد …! قول و فعل میں اتنا تضاد …!

بلھے شاہ کی طرح ’’بلھیا اسیں مرناں ناہیں، گور پیا کوئی ہور‘‘ جیسا دلکش کلمہ تو ہر دانشور اپنی پیشانی پر لکھوائے پھرتا ہے، لیکن اپنی ’’میں‘‘ مار کر ’’بلھے نوں سمجھاون آئیاں، پہناں تے بھرجائیاں‘‘ کا جگ ہنسائی والا نعرہ مستانہ لگانے کو کوئی تیار نہیں ہوتا۔ اپنی تحریروں میں بلھے شاہ کو آئیڈیل ماننے والے بڑے بڑے لبرل دانشور خود سے چھوٹے ’’شاہ عنایتوں‘‘ کو اپنا پیر و مرشد تو کجا، اپنے جیسا انسان تسلیم کرنے کو بھی تیار نظر نہیں آتے، اس کے باوجود بڑی خوش الحانی میں گاتے پھرتے ہیں کہ ’’بلھیا اسیں مرناں ناہیں، گور پیا کوئی ہو۔‘‘
اقبالؒ کا کلام قوال گائیں تو بار بار کی جگالی کے باوجود اُن کے حلق سے نیچے نہیں اُترتا یا شاید وہ جان بوجھ کر نہیں اتارتے۔ قائداعظمؒ کے فرمودات پڑھ بھی لیے جاتے ہیں اور دوسروں کو سنا بھی دیے جاتے ہیں، لیکن ترقی اور خوشحالی کے لیے ’’کام، کام اور صرف کام‘‘ اور ’’ایمان، اتحاد، تنظیم‘‘ جیسے فارمولوں پر خود عمل کرنے کا خیال آتے ہی اکثریت کو پتا نہیں غشی کے دورے کیوں پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ آج کے بچوں پر اس حوالے سے زیادہ زور دیں تو فوراً جواب دیتے ہیں کہ ’’جسے دیکھو قائدؒ کی مثال دیتا ہے، ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا‘‘؟
ہمارے کامریڈ فیض احمد فیض کی نظمیں پڑھتے ہیں، گیت گنگناتے ہیں اور ہر کسی کو یقین دلانے کی کوشش میں رہتے ہیں کہ ’’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘۔ اِنہیں کبھی کبھار ’’زنداں نامہ‘‘ پڑھنے کی فرصت بھی مل جاتی ہے، لیکن جیسے ہی خود ’’زنداں نامہ‘‘ لکھنے کا ’’خدشہ‘‘ پیدا ہوجائے تو ’’سلطانیٔ جمہور‘‘ کا بے گوروکفن لاشہ ویرانے میں پھینک کر چپکے سے سلطانی گواہ بننے کی ہامی بھر کر مچھروں سے بچنے کی راہ نکال لیتے ہیں۔ یہاں فیض کو بڑا انقلابی اور سوشلسٹ شاعر تو ہر کوئی مانتا ہے، لیکن ’’نقش فریادی‘‘ کو اپنا نشان منزل بنانے کے خیال سے ہی زیادہ تر کے پاؤں پر چھالے اور ہونٹوں پر تالے پڑجاتے ہیں۔
یوں گانے کو تو حبیب جالبؔ کے لہجے میں لہک لہک کر ’’میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا‘‘ تمام ’’چھوٹے‘‘ گا بھی لیتے ہیں اور سر دھن کر تمام ’’بڑے‘‘ سن بھی لیتے ہیں، لیکن یہی چھوٹے اور بڑے ماضی میں ’’ظلمت کو ضیاء اور صرصر کو صبا‘‘ کی مالا جپنے پر عوام سے معافی مانگنے کی اخلاقی جرأت بھی نہیں رکھتے۔ اور تو اور جالبؔ کو اپنا قرار دینے والے ’’لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو‘‘ جیسی نظموں کو سرے سے جالب کا کلام ہی نہیں مانتے۔ 
دنیا کو تبدیل کرنے کا جذبہ تو یہاں ہر کسی کے اندر ایسے ٹھاٹھیں مارتا ہے کہ جیسے انہیں دنیا کو تبدیل کرنے کے لیے کسی قسم کی زور زبردستی سے کام لینا پڑا تو یہ اُس میں بھی عار محسوس نہیں کریں گے، لیکن جب اِنہیں دوسروں کے سامنے مثال بننے کے لیے اپنے اندر تبدیلی لانی پڑے تو یہ سماعتوں کے قفل پر ’’نوانٹری‘‘ کے بورڈ آویزاں کرکے خواب خرگوش سے بھی اگلی منزل یعنی طویل ’’ہائبرنیشن‘‘ میں چلے جاتے ہیں۔ 
یہاں مرنے پر ایدھی جیسی تکریم حاصل کرنے کا دل تو ہر کسی کا کرتا ہے، لیکن ایدھی جیسی زندگی گزارنے کا من کسی کا نہیں ہوتا۔ یہاں تعیشات کی دلدل میں دھنس کر سادگی کی رسّی پکڑنے کا دل کسی کا نہیں کرتا۔ یہاں عیش و عشرت کے پیراگراف میں حرفِ انکار کہنے کا حوصلہ کوئی نہیں کرتا۔ لوگ ایدھی کے ساتھ بنائی جانے والی تصاویر کو سوشل میڈیا پر بڑے فخر سے اپ لوڈ کرتے ہیں۔ یہ لوگ ایدھی کو لیجنڈ اور ان کی زندگی کو قابل تقلید بھی قرار دیتے ہیں، لیکن جب اِن کے بچے دل کا خیال زبان پر لاتے ہیں کہ ’’پاپا! بڑا ہوکر میں بھی ایدھی بنوںگا‘‘ تو ایدھی کے یہی فینز زناٹے دار تھپڑجڑ کر اپنے لعل کے گال لال کردیتے ہیں، ’’ٹھہرو ذرا! میں ابھی بناتا ہوں تمہیں ایدھی‘‘۔ اور مستقبل میں ایدھی بننے کی حسرت کے لیے بچہ اپنی گال سہلاتا ہوا سوچتا  ہے کہ ’’ایدھی بننے کے لیے تھپڑکھانے کی شرط کیوں ضروری ہے‘‘؟
باپ سے تھپڑ کھانے والا ذرا بڑا ہوتا ہے تو سوچتا ہے کہ اگر ہم کوئی اچھی سی اور ’’نئی نکور‘‘ اصل نہیں بناسکتے تھے تو پرانی والی ’’اچھیوں‘‘ کی کاپی پیسٹ کرنے میں کیا مضائقہ ہے؟ یہ ایک آدھ کامیاب پائلٹ پروجیکٹ تیار کرنے کے بعد بڑے لوگوں کی مزید ’’پیداوار‘‘ شروع کرتے ہوئے ہمیں موت کیوں پڑجاتی ہے؟ ہم محمد علی جناحؒ، اقبالؒ، بلھے شاہ، فیض احمد فیض، حبیب جالب اور عبدالستار ایدھی جیسے سپرمینوں کے ’’سپیسی مین‘‘ بناکر سانچے کیوں توڑ دیتے ہیں؟