17 اگست 2019
تازہ ترین

کوکناڈا کانگرس کوکناڈا کانگرس

(4 جنوری 1924ء کی تحریر)
جناب رئیس الاحرار کا خطبہ صدارت(3)
ہندوئوں اور مسلمانوںکے جھگڑوں میں حکومت کی افتراق انگیز حکمت عملی کے دخل کاذکر کرنے کے بعد مولانا نے ایک نہایت اچھی بات کہی ہے جسے اگر سب ہندو مسلمان سمجھ لیں تو فسادات کا امکان ہی باقی نہ رہے۔ آپ نے فرمایا کہ بدمعاشوں کی جماعت کسی خاص قوم سے تعلق نہیںرکھتی بلکہ ان کی قوم ہی الگ ہے۔ ممکن ہے کوئی مسلمان رات کے وقت کسی مندر میں گائے کا گوشت پھینک دے یاکوئی بت توڑ ڈالے۔ اسی طرح اس امرکا بھی امکان ہے کہ کوئی ہندو مسجد میں خنزیر کا گوشت پھینک دے یا قرآن مجید کی توہین کرے لیکن اس شخصی اشتعال انگیزی سے پوری قوم کو مجرم گرداننا سخت غلطی ہے۔ اس کے بعد مولانا نے ان لوگوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جو دعوائے ترک موالات کے باوجود پنجاب کے وزیر تعلیم کی حکمت عملی پر آپے سے باہر ہوئے جاتے ہیں اور پنجاب کے ہندوئوں اور مسلمانوں کو اس امرپر غیرت دلائی ہے کہ وہ ملازمتوں کیلئے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے ہیں۔
 سنگٹھن کے متعلق مولانا کے وہی خیالات ہیںجو ہم نے بارہا تفصیل سے ظاہر کئے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ہندو قوم میں اچھوتوں کو اپنے ساتھ ملانیکاجذبہ قابل تعریف ہے اور اس سے ہندوستان کی قومیت کو تقویت پہنچتی ہے لیکن واقعات مالابار اور ملتان کے پروپیگنڈا کے بعد اس تحریک کا پیدا ہونا، زور پکڑنا اور مسلمانوں کی مخالفت کے جذبہ کو برانگیختہ کرنا نہایت افسوسناک ہے۔ مولانا محمد علی فرماتے ہیں کہ اچھوت پن کے دور کرنے کے کام میں اگر ہم تشدد کا استعمال شروع کردیں تو یہ ہمارے اصول کے خلاف ہوگا اور ہمارے سردار مہاتما گاندھی کا دل اس سے دکھے گا۔
ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ قوم کی تربیت جسمانی اور شہروں کے امن و امان کی حفاظت کا کام کانگرس کے سپرد ہونا چاہئے جو ہندوئوں اور مسلمانوں کے متحدہ مشترک اکھاڑے اور شہری محافظ دستے مرتب کرے۔ یہ تجویز دہلی کانگرس کے موقع پر منظور بھی ہو گئی تھی۔ مولانا محمد علی صاحب نے کارکنان قومی کی توجہ کو اس طرف مبذول کرایا ہے کہ وہ فی الفور اس سلسلہ میں کام شروع کر دیں تاکہ فرقہ وار تنظیم سے جو بدمزگی پیدا ہو رہی ہے اس کاسدباب ہو جائے۔ شدھی کے متعلق بھی مولانا کے وہی خیالات ہیں جو مسلمانوں کے ذمہ دار اور مقتدر جراید بارہا ظاہر کر چکے ہیں یعنی تبلیغ مذہب کاحق سب کو حاصل ہے البتہ ناواجب ذرایع استعمال کرنے کاحق کسی کو بھی نہیں اور کانگرس کو چاہئے اس امرکاخیال رکھے کہ کوئی فرقہ جائز حقوق سے تجاوز نہ کرنے پائے۔ اسی سلسلہ میں مولانا نے پنجاب کے اخبارات کی حالت پر اظہار تاسف کیاہے کہ وہ نہایت طرف دارانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کاش مولانا سب اخباروںکے فائل اچھی طرح پڑھ لیتے اور اس طرح سب کو ایک لاٹھی سے نہ ہانکتے۔ اگر پنجاب کے اردو جراید کی جلدوںکو غور و خوض سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے ہندو بھائیوں کے جرایدنے قومی منافرت اور فرقہ وار معاندت ک یجذبات پھیلانے کاباقاعدہ پروپیگنڈا جاری کر رکھا ہے اور آزاد مسلمان اخبارات حتیٰ الوسع اس امر سے بچتے ہیں کہ تنظیم قوائے اسلامیہ اور تبلیغ اسلام و انسداد ارتداد کے فرایض کی بجاآوری میں معاندانہ رنگ پیدا نہ ہونے پائے۔ بہرحال مناسب ہے کہ کانگرس تمام اخباروں کے نام اس مطلب کا اعلان شایع کرے کہ وہ افتراق انگیز اطلاعات و مقالات شایع کرنے سے مجتنب رہیں اور جو اخبار اس اعلان کی خلاف ورزی کرے اس کو مقاطعہ کی سزا دی جائے۔ ہندوئوں کے دلوں میں اکثر یہ خدشہ پیدا ہو ا کرتا ہے کہ بیرونی ممالک کے مسلمان کسی نہ کسی دن ہندوستان پرحملہ کر دیں گے حالانکہ بارہا ہندوستان کے مسلمانوں نے بھی اپنے ہم وطنوں کو اس خدشہ کے مہمل ہونے کایقین دلایا ہے اور خود افغانستان کے اخبارات بھی اہل ہند کو یقین دلا چکے ہیں کہ انہیں یا کسی اور اسلامی حکومت کو ہندوستان پر حملہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اسلامی ممالک آزاد ہونا، آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ ترکوں کی یہ حالت ہے کہ جونہی انہوں نے عربوں کی آزادی کی خوہش کی اطلاع پائی اپنی قلمرو کے اس عظیم  الشان اوروسیع حصے کی حکومت سے دستبردار ہو گئے اور لوزان کانفرنس میں اس سوالکو بھی نہ اٹھایا کہ ترکی قلمرو کے عربی حصے بھی ترکوں کو ملنے چاہئیں۔ ایسی شریف قوموں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہندوستان پر حملہ کر دیں گی ایک صریح غلطی اور غلط فہمی ہے۔ مولانا نے نہایت دردمندی سے اس مسئلہ پر اظہار خیالات کیا ہے اور کوشش کی ہے کہ برادران وطن کے دلوں سے بے معنی خدشہ دور ہو جائے۔
مولانا نے اس امر پر بے انتہا زوردیا ہے کہ مسلمانان عالم کی بہتری، خلافت کے تحفظ اور ترکی کے تحفظ کا بہترین طریق یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمان اپنے آپ کو حریت ہند کیلئے وقف کر دیں۔ اگر ترکوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ ہم اپنے ہمسائیہ بھائیوں کے ساتھ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اختلاف کر کے ہندوستان کی آزادی کو بعید کر رہے ہیں تو وہ کبھی ہم پر خوش نہ ہوں گے۔    (جاری ہے)