10 دسمبر 2019
تازہ ترین

کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا

وہ معزز اور قابل صد احترام چیف جسٹس آف پاکستان جنہیں اخبارات کی شہ سرخیوں میں رہنے کا شوق ہی نہیں جنون تھا جنہوں نے ہمارے محبوب ترین رہنما کو ’’صادق اور امین‘‘ قرار دیا تھا بلکہ اس مجبور اور بے بس 22 کروڑ عوام کو صداقت اور امانت کے حوالے کرنے کا اپنا فرض منصبی استعمال کیا تھا، وہ آج کل کہاں ہیں۔ انہیں پاکستان میں سر چھپانے کیلئے کوئی جگہ میسر کیوں نہیں آئی۔ صادق اور امین حکومت نے پچاس لاکھ گھروں میں سے کوئی ایک گھر ’’اعزازیہ‘‘ میں شامل کیوں نہیں کیا؟ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ان کا تعلق لاہور کی سب سے بڑی برادری سے ہے۔ ان کا خاندانی پس منظر بھی ہے، اپنی رہائش گاہیں بھی ہیں۔ وہ حکومت یا ریاست کے کسی اعزازیئے کے محتاج بھی نہیں۔ پھر بھی یہ سوال ہمارے ذہن میں سانپ بن کر رینگ رہا ہے۔ وہ جو شہ سرخی سے کم میں بسیرا کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ شہ سرخی ہی انہیں راحت اور سکون فراہم کرتی تھی، وہ خاموشی میں کہاں پناہ گزین ہیں؟ ان کی دبنگ آواز کہیں سے بھی سنائی نہیں دیتی۔ ہم ایسے اخبار نویس ان کی مناسب جسم سے بڑی آواز سننے کو ترس گئے ہیں۔
کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا
ریٹائرمنٹ کے بعد کا مطلب یہ تو نہیں کہ فعالیت اور زندگی کا تحرک بھی ختم ہو جائے، یہ تو خود کو سفر کے بجائے دلدل میں دھکیلنے والی بات ہے۔ وہ جہاں رہیں خوش رہیں۔ ہم ایسے لوگوں کے پاس بھلا دعائوں کے سوا کیا ہے، یہی وہ میراث ہے جس کی ہم صدیوں سے حفاظت کرتے چلے آ رہے ہیں یہی ہماری پہچان ہے۔
بہرحال یہ انہی کا احسان تھا کہ پاکستان میں’’ڈیم تحریک‘‘ شروع ہوئی پھر اس کیلئے ’’ڈیم فنڈ‘‘ بھی قائم ہوا جس کی ذمہ داری بھی انہوں نے قبول کی، قوم کو اس کی صداقت اور امانت کا یقین بھی دلایا پھر بیرون ملک دورہ بھی کیا۔ دشمنوں نے یہ خبریں لگائیں کہ جس ہوٹل میں قیام ہوا ہے وہاں ایک رات قیام کا خرچہ پاکستان کے تین لاکھ روپے ہیں…ظاہر ہے جب بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی کرنسی کی قیمت ہی یہی ہے تو اس میں کسی اور کا کیا قصور ہے؟؟ پھر یہ بھی کہا گیا کہ ڈیم فنڈ اکٹھا کرنا محض ایک بہانہ تھا اصل مسئلہ بچوںکا داخلہ تھا۔ اب ظاہر ہے جہاں بچے ہوتے ہیں مشفق اور مہربان والدین بھی وہیں ہوتے ہیں، ان کی تربیت کا مسئلہ بھی ہوتا ہے۔ یوں بھی ’’مغربی سماج‘‘ میں بچوں کو تنہا چھوڑنا کسی بھی طرح مناسب نہیں اس لئے:
یہ سوال تو بہرحال موجود ہے کہ ڈیم فنڈ اب وزیراعظم فنڈ میں تبدیل کر دیا گیا ہے کہ پاکستان میں ان سے بہتر صادق اور امین کوئی نہیں لیکن ڈیم فنڈ کے حصول کیلئے صرف سابق چیف جسٹس نے ہی نہیں کچھ اور پیاروں نے بھی دنیا بھر کے ممالک میں فنڈ ریزنگ کیلئے دورے کئے تھے تاکہ پاکستانیوں کو حب الوطنی کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب دی جائے۔ ان دوروں سے کتنے ڈالرز حاصل ہوئے اور ان پر کتنے اخراجات ہوئے؟ کسی کی جرات ہے کہ وہ اس قسم کے سوالات کر کے ریاست مدینہ کے تصور اور صادق اور امین کی صداقت اور امانت کو مجروح کر سکے۔ پاکستانی میڈیا تو حکومت اور حکمرانوں کے فاشسٹ عزائم سے امیرالمومنین جنرل محمد ضیاء الحق شہید کے دور ابتلا کو بھی بھول گیا ہے، وہ تو اس دور کو اس سے چند قدم آگے دیکھ رہا ہے۔ وہ تو بس عوام کو یہ بتا رہا ہے کہ:
سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے پانچ سالہ دور میں 134 غیر ملکی دوروں پر 142 کروڑ روپے اور نوازشریف نے اپنے چار سالہ دور میں 92 دوروں پر 183 کروڑ روپے خرچ کئے تھے۔ سابق صدر 51 بار دبئی گئے 3227 افراد نے ان کے ساتھ سفر کیا جبکہ نوازشریف 24 بار لندن اور 12 دفعہ سعودی عرب کے دورے پر گئے۔ چونکہ آصف زرداری کی جائیدادیں اور رہائش گاہیں دبئی میں تھیں اس لئے ان کی اولین ترجیح دبئی تھی اسی طرح نوازشریف کے فلیٹس اور بچوں کا کاروبار لندن میں تھا اس لئے جب بھی ان کو موقع ملتا تھا وہ لندن جایا کرتے تھے۔ ان سب دوروں پر ہونے والے اخراجات کا حساب لیا جائے گا۔ جو تحفے تحائف اور ٹپس دی گئیں وہ قومی دولت تھی اس کی بھی پائی پائی وصول کی جائے گی۔ یہ امانت میں خیانت تھی جو ناقابل معافی جرم ہے اس پر سب کو بلاامتیاز کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔
بہرحال ہمارے صادق اور امین وزیراعظم امریکہ کے صدر ٹرمپ کی ’’خصوصی دعوت‘‘ پر مبینہ طور پر امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیں، اس دورے کی کہانی بھی سسپنس اور دلچسپی سے خالی نہیں۔ پاکستانی میڈیا نے یہ خبر جاری کر دی لیکن امریکی وزارت خارجہ اپنی بے علمی کا اظہار کرتے ہوئے وائٹ ہائوس کی تصدیق کا عندیہ دیتی رہی، جس کی وائٹ ہائوس نے بالآخر تصدیق کر دی۔ مگر یہ سوال اذہان میں گردش کرتا رہا کہ معروضی صورتحال میں امریکی صدر کی وہ کیا ضرورت اور مجبوری ہے کہ انہیں ہمارے وزیراعظم سے ملاقات اور مذاکرات کرنا پڑے ہیں۔
کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا
یہ ٹھیک ہے کہ میڈیا پر ’’ضیاء الحقی‘‘ سے بھی آگے عمرانیات کا سایہ ہے۔ کوئی بات مناسب نہیں رہی، کسی وقت بھی قدغن میں اضافہ ہو سکتا ہے، آصف علی زرداری کا نشر ہوتا انٹرویو رک سکتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر چلنے والی کہانیاں تو نہیں رک سکتیں۔ آصف علی زرداری لندن میں چلنے والے ایک کرپشن کیس کا ذکر کر رہے تھے جس میں صادق اور امین کے چہرے پر پڑے نقاب کے سرکنے کا ذکر تھا۔ بدقسمتی عارف نقوی نام کے شخص کی گرفت ہوئی تو اس نے سب سے پہلا رابطہ نمبر ہمارے صادق اور امین کا دیا۔ عارف نقوی نے ضمانت مانگی تو وزیراعظم سے رابطہ کی بنا پر وکیل نے واپس نہ آنے کا خدشہ ظاہر کیا۔
ایک کروڑ ڈالر کی مشترکہ سرمایہ کاری سے شروع ہونے والا کام جب 15 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تو سرکار کی نظر میں آ گیا۔ فراڈ کی اس کے خلاف 60 شکایات موصول ہوئیں تو ایک ارب ڈالر کا غبن ثابت ہو گیا۔ ستم بالائے ستم شکایت کنندگان میں امریکہ کے بل گیٹس اور بل کلنٹن ایسے طاقتور لوگ بھی شامل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیقات کیلئے امریکہ اور برطانیہ کا مشترکہ وفد پاکستان آنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف کو یورپ سے آنے والے فنڈ کا 60 فیصد عارف نقوی کی محبت کا نتیجہ تھا۔ ہمارے صادق اور امین پر تین ملین ڈالر فنڈ چوری اور اٹھارہ اکائونٹس چھپانے اکبر ایس احمد کا مقدمہ عدلیہ کی پائپ لائن میں ہے۔ یہ بڑے لوگوں کی محبت اور مہربانی کا نتیجہ ہے، ہم بھلا اس پر کیا کہہ سکتے ہیں۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ عارف نقوی کو امریکہ کے حوالے کرنا شاید ابھی ممکن نہیں، یہ کام برطانیہ کا ہے لیکن ہمارے صادق اور امین وزیراعظم کا قطعاً یہ مسئلہ نہیں۔ وہ تو صرف اور صرف قومی مفاد میں ٹرمپ سے ملنا چاہتے ہیں۔