25 اگست 2019
تازہ ترین

کل بھوشن کیس: فیصلہ بھارت کے حق میں ہوگا؟ کل بھوشن کیس: فیصلہ بھارت کے حق میں ہوگا؟

ماضیٔ قریب میں بھارت کے دو فوجی افسر پاکستان میں پکڑے گئے، ایک کو چائے کا کپ پلاکر اس لیے چھوڑ دیا گیا کہ وہ جنگی قیدی تھا، اُسے پوری عزت دی گئی، پاک فضائیہ کے میس میں رکھا گیا وغیرہ۔ جو دوسرا افسر پکڑا گیا وہ تاجر کے روپ میں مبارک حسین پٹیل کے نام سے آیاجبکہ اُس کا نام کلبھوشن یادیو تھا اور وہ بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر تھا اور پاکستان میں جاسوسی اور تخریب کاری کرنے آیا تھا، لہٰذا اُس کو جاسوس ہی کا درجہ دیا گیا۔ یہ اور بات کہ پاکستان نے اپنی اعلیٰ روایات کی پاسداری کی اور اُسے افسر کی ہی درجہ بندی کے مطابق رکھا گیا جب تک کہ اُس کا جُرم ثابت نہ ہوا۔ پاکستانی اداروں نے پکڑا تو اُس نے باقی کی کہانی خود سنائی، اُس نے بتایا کہ وہ کون ہے، کیسے ایران کی بندرگاہ چاہ بہار پر تاجر کے روپ میں کام کرنا شروع کیا اور بلوچستان اور وہاں سے کراچی آنے جانے لگا، اُس نے متعدد تخریبی کارروائیوں کا اعتراف کیا۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں اور شرپسندوں سے رابطے استوار کیے اور اعترافی بیانات میں اُن کے نام بھی بتائے اور انہی اعترافی بیانات اور ثبوتوں کی بنیاد پر اُسے پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ چونکہ وہ فوجی افسر تھا لہٰذا اُس پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ 
اس سارے عمل میں کوئی نکتہ کوئی مرحلہ ایسا نہ تھاجسے مروجہ عالمی اصولوں کے خلاف کہا جاسکے۔ بھارت انکاری تھا کہ کلبھوشن اس کی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے، جس کی خدمات ’’را‘‘ نے حاصل کی ہوئی ہیں، لیکن جب اُسے سزا سنائی گئی تو بھارت نے احتجاج کیا اور عالمی عدالت انصاف کی طرف دوڑ پڑا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ بھارت ہمسایہ ممالک میں جاسوسی، تخریب کاری، دہشت گردی اور بغاوتوں میں ملوث ہو اور پھر جھوٹ اور فریب کے ذریعے ان پر پردہ نہ ڈالے۔ بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ، سرجیت سنگھ، کشمیر سنگھ اور روندرا کاوشک پاکستان سے پکڑے گئے۔ بہرحال بھارت کلبھوشن کا کیس لے کر عالمی عدالت انصاف پہنچا اور ایک جاسوس کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دائر کردی، یاد رہے کہ کلبھوشن صرف جاسوس ہی نہیں بلکہ دہشت گردی کے کئی واقعات کا ماسٹر مائنڈ بھی ہے اور بھارت عالمی عدالت انصاف کی ساٹھ سالہ تاریخ میں پہلا ملک ہے جو ایسے شخص کے لیے قونصلر رسائی چاہ رہا ہے جبکہ پاکستانی وکیل اس کے خلاف تمام ثبوت مہیا کرچکے ہیں، لیکن پھر بھی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ بھارت کو یہ رسائی دے دی جائے گی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان 1982 اور 2008 کو ہونے والے معاہدوں کی رو سے یہ طے پایا تھا کہ ایک دوسرے کے شہری قیدیوں کو قونصلر رسائی جُرم کی نوعیت دیکھ کر دی جائے گی تو اگر بالفرض ویانا کنونشن جس کی رو  سے کسی بھی ملک کو دوسرے ملک میں اپنے شہریوں تک رسائی کا حق دیا گیا ہے، یہ ممکن بھی ہو تو کیا دونوںفریق ممالک کے درمیان معاہدے کی حیثیت ختم کردی جائے گی اورکیا ایسا پھر دنیا کے کسی بھی ملک کے بارے میں کیا جائے گا یا یہ صرف پاکستان کے بارے میں ہوگا کیونکہ عالمی عدالت انصاف پر بھارتی دبائو ہے اور اس عدالت کے پندرہ رکنی بینچ میں ایک بھارتی جج کی موجودگی اس کی وجہ ہوسکتی ہے۔ عالمی عدالت انصاف مقدمے کی سماعت مکمل کرچکی اور 17 جولائی کو اس مقدمے کا فیصلہ سنایا جانا ہے اور خدشہ موجود ہے کہ فیصلہ بھارت کی مرضی کے کافی حد تک مطابق ہوگا اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ پاکستانی وکیل خاور قریشی کے دلائل وزن دار نہیں بلکہ بھارت کی مکرو فریب میں مہارت ہے۔ بھارت نے پہلے پہل تو اس جاسوس کو اپنا نیوی افسر ماننے سے انکار کیا جبکہ وہ اس کا اقرار کرچکا تھا لیکن جب دنیا کے سامنے حقیقت پورے ثبوتوں کے ساتھ آ گئی تو پھر وہ متحرک ہوگیا اور شسما سوراج نے اُسے بھارت کا بیٹا قرار دے کر عالمی عدالت انصاف کا رُخ کیا۔ اب آج اس مقدمے کا جو بھی فیصلہ آئے اور اگر بھارت کے حق میں بھی ہو تو یاد رہے کہ پاکستان اس فیصلے پر عمل درآمد کا پابند نہیں اور وہ بھی خاص کر دونوں ملکوں کے درمیان موجود معاہدے کی صورت میں، جس کی رو سے گرفتار کرنے والا ملک جُرم کی نوعیت کے مطابق خود طے کرے گا کہ قونصلر رسائی دی جائے یا نہیں۔ اگرچہ ویانا کنونشن اس کی اجازت دے بھی دے۔ بھارت نے اس کنونشن کے آرٹیکل 36 کے مطابق رسائی مانگی جس میں کہا گیا کہ بھیجنے والی ریاست کا قونصلر اُس کے گرفتار شدہ شہریوں کو مل سکتا ہے تو کیا یادیو کے تمام اقبالی بیانات کے بعد بھارت مان رہا ہے کہ اس کو بھارت نے بھیجا تھا اور جبکہ وہ اعتراف کرچکا ہے کہ اُس نے دہشت گردی اور سبوتاژ کی  کارروائیاں کی ہیں، کرائی ہیں، یا اُن میں حصہ لیا ہے تو کیا یوں پورے بھارت کو ہی دہشت گرد ملک قرار نہیں دیا جانا چاہیے اور کیا عالمی عدالت انصاف ایسا کرنے کی ہمت رکھتی ہے جبکہ دوسرا نکتہ اس میں یہ ہے کہ یہ آرٹیکل جاسوس اور خاص کر دہشت گرد کے لیے نہیں اور آج کل جس طرح دہشت گردی نے دنیا کو مصیبت میں ڈالا ہوا ہے، کیا میڈیا پر پوری دنیا کے سامنے اعترافِ جُرم کرنے والے دہشت گرد کو ایک پُرامن شہری سمجھ کر اُسے وہ سہولتیں دی جائیں جو ایک عام شہری کو دی جاتی ہیں اور کیا پاکستان نے کلبھوشن کی والدہ اور بیوی کو اُس سے ملاقات کی اجازت دے کر کچھ زیادہ ہی انسانی ہمدردی اور شرافت کا ثبوت نہیں دیا۔ 
بھارت کا پاکستانی قیدیوں کے ساتھ سلوک ہمیشہ انسانیت سے گرا ہوا ہی رہا ہے، چاہے وہ جنگی قیدی ہی کیوں نہیں تھے بلکہ 1971 کے جنگی قیدیوں کو تو فرار کی کوشش میں چند انچ کے فاصلے سے بھی گولی ماری گئی۔ یہاں میں ایک بار پھر سپاہی مقبول حسین کا حوالہ دوں گی جو 1965کی جنگ کا قیدی تھا اور چالیس سال تک قید رکھا گیا، زبان کاٹی گئی۔ ابھی نندن کی رہائی کے بعد پاکستانی قیدی شاکر اللہ کی لاش بھیجی گئی تو یہ ہے بھارت کا رویہ جنگی اور عام قیدیوں کے ساتھ، لیکن وہ اپنے جاسوس ہی نہیں دہشت گرد قیدی کے لیے قونصلر رسائی اور معافی چاہ رہا ہے، یہ حیرت انگیز خواہش ہے، جس پر عالمی عدالت کو غور کرنا ہوگا۔ ایک توقع یہ بھی ہے کہ عالمی عدالت انصاف یہ فیصلہ دے کہ کلبھوشن کا مقدمہ سول عدالت میں لڑا جائے، اگرچہ یہ بھی پاکستان کی ہی عدالت ہوگی، تاہم اس طرح بھارت مزید وقت حاصل کرلے گا  اور دوسرا اعتراض اس فیصلے پر یہ ہے کہ فوجی عدالت کا فیصلہ بھی مکمل ثبوتوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے لہٰذا اس پر کسی شک کی وجہ ہے نہ گنجائش۔ عالمی عدالت انصاف واقعی انصاف پر مبنی فیصلہ کرتی ہے یا بھارت کے دبائو میں آجاتی ہے۔ بہرحال پاکستان کو کسی بھی صورتِ حال کے لیے مکمل تیاری کرلینی چاہیے، تاکہ حالات کو اپنے مطابق قابو کیا جاسکے۔