06 دسمبر 2019
تازہ ترین

کل بھوشن اور عالمی عدالت انصاف کل بھوشن اور عالمی عدالت انصاف

اگلے دو تین دن میں کل بھوشن یادیو سے متعلق عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ سامنے آنے والا ہے۔ یہ فیصلہ کیا ہو گا؟ اس سے متعلق کوئی رائے اس لیے بھی قائم نہیں کی جا سکتی کہ آج کی دنیا میں انصاف لفظ بے معنی ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ مفادات کی دنیا ہے، یہاں کی عدالتیں اپنے انصاف سے کس کو کس طرح فیض یاب کرتی ہیں اس کا دنیا کے ہر باشعور بندے کو بخوبی اندازہ ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تمام ’’فارمیلیٹیز‘‘ پوری کی جاتی ہیں، عدالت اپنے پورے کروفر کے ساتھ سجتی ہے، وکلا پیش ہوتے ہیں، مباحث ہوتے ہیں، ایک دوسرے پر جرح کی جاتی ہے، گویا تمام لوازمات پورے کیے جاتے ہیں لیکن فیصلے کہاں ہوتے ہیں؟ کون کون سی قوتیں اس پر کس کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں، یہ الگ باب ہے جس پر بحث کسی اور وقت کے لیے اٹھارکھتے ہیں۔
اصولی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کو اس کیس کی پیروی کا حکم ہی نہیں ماننا چاہیے تھا۔ یہ بات ساری دنیا جانتی ہے کہ جنیوا کنونشن جس کو بنیاد بنا کر بھارت یہ مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں لے کر گیا ہے، اس میں جاسوسی اور دہشت گردی کے ملزمان کو زیر بحث لایا ہی نہیں جا سکتا۔ اس طرح تو پھر گوانتاناموبے کے تمام ملزمان کا کیس یہاں ٹرائل ہونا چاہیے تھا۔ ان میں تو طالبان کی تسلیم شدہ حکومت کے اہلکار بھی شامل ہیں، بھارت کی جیلیں ان آزادی پسندوں سے بھری ہوئی ہیں جو اس کے نزدیک دہشت گرد ہیں۔
کل بھوشن یادیو کو جس پاسپورٹ اور شناخت پر گرفتار کیا گیا ہے، اس پر اس کا نام مبارک حسین پٹیل لکھا ہے۔ اس نے اپنی شناخت بھی اسی نام سے کرائی۔ وہ تو پاکستانی ایجنسیوں کا کمال ہے کہ انہوں نے اس کی اصلیت کو بے نقاب کیا اور اس نے خود تسلیم کیا کہ وہ بھارتی نیوی کا کمانڈر ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ مئی 2017ء تک انڈیا نے کل بھوشن کو اپنا شہری ہی تسلیم نہیں کیا۔ یہ تو کل بھوشن کے شور مچانے اور اپنی شناخت کو پریس کے سامنے بتانے کے بعد بھارت نے اس حقیقت کو تسلیم کیا۔ اب انڈیا اسی ایک بات کو بنیاد بنا کر عالمی عدالت انصاف میں گیا ہے کہ ملزم اس کے ملک کی فوج کا ایک اعلیٰ افسر ہے۔
پاکستانی وکیل نے اپنے دلائل میں اسی بات پر زور دیا ہے کہ وہ جو کوئی بھی ہے، اس پر جاسوسی اور دہشت گردی کے مقدمات قائم ہیں جن کا ملزم نے برملا اقرار کیا ہے۔ گزشتہ ساٹھ سال میں اس عدالت نے کسی دہشت گرد اور جاسوس کا کیس نہیں سنا، نہ ہی ان جرائم کے مرتکب کسی شخص تک اس کے ملک کے سفیر کو رسائی دی جاتی ہے جو انڈیا پاکستان سے مانگ رہا ہے۔ یہی پاکستان کا بنیادی سٹینڈ بھی ہے۔
بھارت کو ملٹری کورٹ کا فیصلہ بھی قبول نہیں، وہ چاہتا ہے کہ یہ مقدمہ پاکستان کی سول کورٹس میں چلایا جائے تاکہ وہ کسی نہ کسی مرحلہ پر کوئی ڈیل کر کے پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈال کر اپنا الو سیدھا کر لے۔ انڈیا کو یقیناً یہ امید بھی رہی ہو گی کہ اس کے پاکستانی میڈیا اور این جی اوز میں موجود تنخواہ یافتہ ایجنٹ اس کا ساتھ دے کر کم از کم اس مقدمے کو متنازع ہی بنا دیں گے۔ اگر آپ کا حافظہ میرے جیسا نہیں اور آپ کو ماضی قریب کی باتیں یاد رہتی ہیں تو سابقہ وزیر اطلاعات کا وہ بیان یاد کیجئے جو انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں دیا تھا۔ جب ان کے مزاج کے بالکل برعکس ان سے پوچھا گیا کہ وہ کل بھوشن کی دہشت گردی کے اعترافات کی وڈیو منظر عام پر آ جانے کے باوجود کوئی بیان اس حوالے سے کیوں نہیں دیتے تو انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی موجودگی میں کہا کہ ابھی تک عدالت نے فیصلہ نہیں کیا کہ وہ دہشت گرد ہے یا نہیں اس لیے وہ اسے دہشت گرد نہیں مانتے۔ اس پریس کانفرنس کے بعد ہی غالباً انہوں نے ڈان لیکس کا دھماکہ کیا تھا۔
انڈیا نے ان ہی وارداتوں کے بعد عالمی عدالت انصاف کا رخ کیا ہو گا۔ کیونکہ ہمارے ہاں بھارت کی دوستی کا دم بھرنے والے پاکستانی دانشوروں کے نزدیک تو یہ گرفتاری بھی غلط تھی اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کل بھوشن بے گناہ ہے۔ عالمی عدالت جو بھی فیصلہ دے اسے یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان نے بھارتی پائلٹ کو جو ہمارے بچوں پر بم گرانے آیا تھا، اس کا جہاز گرنے کے غالباً دو تین دن بعد رہا کر دیا تھا کیونکہ اس پر جینوا کنونشن لاگو ہوتا تھا۔ ہمارے ذمہ دار ادارے ان معاملات کو بخوبی سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آئے روز غلطی سے سرحد عبور کر کے پاکستان آنے والے بھارتی شہریوں کو پاکستان بھارت کے حوالے کر دیتا ہے۔ کل بھوشن پر فوجی عدالت میں مقدمہ پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے فوجی عدالتوں کو ملنے والے اختیارات کے تحت ہی چلایا گیا ہے اور یہ بھارت کی کوئی پہلی حرکت نہیں، اس سے پہلے بھی تین جاسوس اپنی قید کاٹ کر رہا ہو چکے ہیں۔ 
جہاں تک بھارت کا تعلق ہے، وہ اپنے ہمسایوں کے خلاف ہمیشہ سے جارحیت کرتا آیا ہے۔ دور کیا جائیے، سری لنکا کے خلاف حالیہ دھماکا سیریز اور ماضی میں ٹی ٹی پی کے ذریعے سری لنکا کو عذاب میں ڈالنے والا انڈیا ہی تھا۔ پاکستان کے خلاف تو اس کی جارحیت اور دہشت گردی کی ایک طویل تاریخ ہے، اب بھی وہ بلوچستان سندھ اور شمالی علاقہ جات میں کیا کیا نہیں کر رہا۔ کل بھوشن بھی بلوچستان اور سندھ میں یہی کچھ کرنے آیا تھا۔
بقیہ: نقارخانہ