18 ستمبر 2019
تازہ ترین

خلیفہ ہفتر اور طرابلس خلیفہ ہفتر اور طرابلس

حالیہ عرصہ میں لیبیا میں لڑائی شدت اختیار کرگئی ہے ۔وزیراعظم فیاض السراج کی حکومت کے خلاف صف آراخلیفہ ہفتر کی فوجیں دارلحکومت طرابلس میں داخل ہوچکی ہیں جس کیبعد شہر کی گلیوں میں گوریلا جنگ جاری ہے۔اس خونریزی کے باعث دنیاکے اکثر ممالک کا سفارتی عملہ طرابلس سے نکل گیا ہے اور شہری بھی محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں شہر چھوڑ کر جارہے ہیں ۔لڑائی کا مرکزشہر کا جنوبی علاقہ ہے جو سب سے زیادہ متاثر ہے اس لڑائی کے دوران خلیفہ ہفتر کی فوج نے دارلحکومت کے نواح میں واقع ایک چھوٹے شہر الغریان میں داخلے کی کوشش کی لیکن بین الاقوامی مسلمہ حکومت جس کی قیادت فیاض السراج کررہے ہیں ان کی فوجوںنے یہ کوشش ناکام بنادی۔لیبیاکی نیشنل آرمی جس کی قیادت خلیفہ ہفتر کررہے ہیں ،نے رواں سال جنوری اور فروری کے مہینوں میں ملک کے جنوبی علاقے پر قبضہ کرلیا جسے فیزان کہا جاتاہے ۔فیزان کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں ملک کی بڑی آئل فیلڈز ہیں اور ساتھ ساتھ کافی گنجان آباد علاقہ ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ خلیفہ ہفتر کی افواج کو یہاں خوش آمدید کہاگیا جس کی بنیادی وجہ عرب اسپرنگ کے بعد اس علاقے کو مسلسل نظر انداز کیاگیا اور یہ حقیقت ہے کہ 2011ء میںجب قذافی حکومت کا خاتمہ ہوا اس وقت یہ سب سے زیادہ بدامنی کا شکارعلاقہ تھا ۔فیزان کاعلاقہ شروع ہی سے لیبیا کی حکومت کے لئے درد سر بنا رہا ہے لیکن آج سے آٹھ سال قبل شروع ہونے والی خانہ جنگی کے بعد یہ علاقہ اغوابرائے تاوان،اسمگلنگ اور ہیومن ٹریفکنگ جیسے جرائم کا گڑھ بن گیا ۔
حالیہ لڑائی کا آغاز گزشتہ ماہ کے اوائل میں ہوا تھا جب خلیفہ ہفتر نے اعلان کیا تھا کہ وہ دارلحکومت اور ملک کے پورے مغربی علاقے کو اقوام متحدہ کی منظور شدہ حکومت Government of National Accord (GNA)سے آزاد کراوائیں گے ۔بہت سارے مبصرین کی نظر میں خلیفہ ہفتر 2104ء سے طرابلس پرقبضہ کرنے کی حکمت عملی ترتیب دے رہے تھے اور اس کے لئے انہوں نے سب سے پہلے قذافی کے جانے کے بعد سب سے پہلی منتخب جمہوری حکومت General National Congress (GNC)کواقتدار سے باہر کرنے کی بھرپور کوششیں کیں لیکن اس میں انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑاجس کے چند ماہ بعد انہوں نے ملک کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں Operation Dignityکا آغاز کردیا ۔محسوس یوں ہوتا ہے مشرق میں طاقت حاصل کرنے کے بعد آہستہ آہستہ جنوب اور مغرب میں اسے توسیع دینے کی پالیسی اس بات کاعندی دیتی ہے کہ وہ بالاخر طرابلس کا کنٹرول حاصل کرکے وہی آمرانہ کردار اداکرنے کے خواہش مند ہیں جیسا کہ سابق صدر معمر القذافی کی حیثیت تھی ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ خلیفہ ہفتر نے طرابلس پر چڑھائی کا اعلان اس وقت کیا جب اقوام متحدہ کے سپورٹ مشن کی جانب سے ایک امن کانفرنس کا انعقادالجزائر کی سرحد سے ملحق شہر Ghadames onمیں کیا جانا تھا ۔اس کانفرنس سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں کہ شاید کوئی بریک تھرو سامنے آئے گا اور سیاسی حل کی جانب پیش قدمی ہوگی جس میں بطور خاص نئے انتخابات کے حوالے سے پیش رفت ممکن تھی لیکن شاید ملک کے بحران کاسیاسی حل خلیفہ ہفتر کی خواہشوں پر پانی پھیر سکتا تھا چنانچہ اس کانفرنس کو سبوتاژ کردیا گیا اور اس سے پہلے بھی اگر خلیفہ ہفتر کے رویے کو ملاحظہ کیا جائے تو ہمیں کوئی حوصلہ افزا صورت حال نظر نہیں آتی،ماضی میں ہونے والی تمام عالمی کانفرنسوں بشمول پیرس،پالیمور،اور ابوظبی کے اس میں انہوں نے محض مزید وقت حاصل کرنے کے لئے شرکت کی ورنہ ان کے مقاصد کچھ اور تھے۔
خلیفہ ہفتر کو عرب امارات کی مالی اور سفارتی حمایت حاصل ہے جسے مغربی ممالک کی آشیر باد بھی حاصل ہے اب تقریبا ملک کے دوتہائی رقبے پر قابض ہیں لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دارلحکومت طرابلس پر ان کے مخالفین کی حکومت ہے۔2014ء سے ملک میں دو متوازی حکومتیں کام کررہی تھیں اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ا سلامی ملیشیاوں اور مصراتہ سے تعلق رکھنے والی ملیشیاوں نے دارلحکومت طرابلس پر قبضہ کرلیا جس کے بعد پہلے سے موجود حکومت نے اپنا سیٹ اپ مشرقی شہر طبرق منتقل کرلیا اوراس طرح ملک مشرق اور مغرب دو حصوں میں تقسیم ہوگیامشرقی علاقوں میںخلیفہ حفتر کی حمایت یافتہ جنرل نیشنل کانگریس یا GNC کا کنٹرول ہے جب کہ مغربی علاقوں میں اسلامی میلشیائیں غالب نظر آتی ہیں۔اقوام متحدہ اور کئی ممالک جن میں فرانس قابل ذکر ہے نے دونوں حکومتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے مذاکرات کے کئی دور مراکش اور تیونس میںمنعقد کروائے جس میں طبرق اور طرابلس قائم حکومتوں کے علاوہ دیگر دھڑوں کو بھی نمائندگی دی گئی تھی لیکن مسائل کا خاتمہ اب بھی نہیں ہوسکادونوں بڑے دھڑے ایک دوسرے پر الزمات عائد کررہے اور اعتماد کی فضا مفقود نظر آتی ہے۔حالیہ کامیابی پر خلیفہ ہفتر کافی خوش ہیں لیکن طرابلس پر کنٹرول حاصل کرنا فورا ممکن نہیں ہے اور شاید وہ فورا ایسا کرنا بھی نہیں چاہ رہے کیوں کہ وہ ان علاقوں میں اپنا قبضہ مستحکم کرنا چاہتے ہیں اور نیا محاذ کھولنا ان کے لئے مشکلات کا باعث بھی ہوسکتا ہے جس کے وہ متحمل نہیں ہوسکتے لہذا ممکنہ طور پ وہ مذاکرات کا ٓپشن بھی اختیار کرسکتے ہیں تاکہ بغیر خون خرابے کہ دارلحکومت پر کنٹرول حاصل کرلیا جائے ۔
(تلخیص وترجمہ:محمد احمد۔۔۔بشکریہ:الجزیرہ)