17 اگست 2019
تازہ ترین

خبروں پر تڑکے خبروں پر تڑکے

٭وزارتوں میں سرکاری چائے پانی بند
قومی بجٹ کی قدر وہی ہوتی ہے جب یہ عوام پر خرچ کیا جائے۔ جب حکومتیں اللوں تللوں پر خرچ کرتی ہیں تو قرضوں کے انبار لگ جاتے ہیں۔ موجودہ حکومت اپنے اخراجات کا رخ عوام کی طرف موڑنے اور خود پر خرچ کرنے سے کنی کترا رہی ہے۔ وقت کی اہم ترین ضرورت یہی ہے کہ حکومت اپنے اخراجات نہ ہونے کے برابر کرلے، اس لیے وزارتوں میں چائے پانی کے اخراجات بھی روک دیے گئے ہیں۔ کرپشن کی روک تھام اور سرکاری اخراجات میں کمی سے ہی ملک میں بہتری آسکے گی۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ سرکار کے دانت ہی نہیں ہونے چاہئیں کہ وہ اپنے کھانے پینے پر خرچ کرتی رہے۔ 
٭(ن) لیگ جاتے ہوئے حکومت کے لیے بارودی سرنگیں بچھاگئی، عمر ایوب
وزراء کو آسان گفتگو کرنی چاہیے۔ اب بچے اس کا مطلب کچھ اور بھی لے سکتے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں بارودی سرنگوں سے مراد بارودی سرنگیں ہی ہوگا جو دشمن ملک کے خلاف بچھائی جاتی ہیں۔ ویسے ہمارے ہاں تو یہی ہوتا رہا ہے کہ سابق حکومت ہی تمام نئے پرانے مسائل کھڑے کر جاتی ہے، اس میں شبہ نہیں کہ قرضوں کے انبار لگاکر ترقی کے مینار کھڑے کرنے کی کوشش معاشی مسائل کو جنم دیتی ہے اور (ن) لیگ حکومت نے یہ جرم زورشور سے کیا ہے۔ چلو قرضے اتارنے کے لیے تو قرض لے لو۔ ان حالات میں بلڈنگ یا میٹروٹرین کے لیے قرض کے انبار لگانے سے تو حالات بگڑیں گے ہی۔ فیکٹری لگانے کے لیے قرض لے لو تو مناسب مگر سڑکیں اور پل قرضوں سے بنانا خطرناک ہی ہے۔
٭(ن) لیگ ممی ڈیڈی ٹویٹس کی سیاست کے سوا کچھ نہیں کرسکتی، ماروی میمن
سیاسی جماعتوں کی خواہش ہے وہ ٹھاہ لکھ کر پوسٹ کریں اور مخالف ڈھیر ہوجائے۔ ٹویٹس کو مرنے مارنے کا ذریعہ بنادیا گیا ہے۔ ماروی میمن (ن) لیگ کی ٹویٹس کو ممی ڈیڈی ٹویٹس کہہ کر مسالہ لگارہی ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈے اور وقت کے ضیاع میں فرق نہایت ہی معمولی ہے۔ اب لوگ ٹی وی ڈراموں میں کم اور سیاسی مخالفین کے ٹویٹس ڈراموں میں زیادہ دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔ آخر یہ بھی تو ڈراماٹائز ہوتے ہیں۔ اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا پر تو خبربن کر آتی ہے مگر ٹویٹس میں اپنی مرضی کی بلکہ من موجی خبر اور نجی پروپیگنڈا ہوتا ہے ٹویٹس کے ذریعے۔
٭رمضان بازار عام مارکیٹ سے مہنگے، سیب 400 اور لیموں 350 میں فروخت
ہماری یہ حکومت بھی رمضان بازاروں میں عوام کو سستی اشیاء فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ حکومت کا کام منڈیوں اور مارکیٹوں میں اشیاء کی صحیح داموں پر فروخت چیک کرنا اور ذخیرہ اندوزی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوتا ہے۔ ساری توجہ اتوار بازاروں اور رمضان بازاروں کی طرف مبذول کردی گئی ہے جب کہ منڈی سے اشیاء بھی مہنگے داموں فروخت ہورہی ہیں اور وہیں سے ان اتوار بازاروں میں آرہی ہیں۔ حکومتی رٹ منڈیوں تک پہنچائی جانی چاہیے تاکہ عام بازاروں ہی سے لوگوں کو مناسب داموں اشیاء حاصل ہوسکیں۔ رمضان بازاروں میں گھٹیا کوالٹی کی اشیاء کو لکھے ہوئے داموں میں نکالنے کی کوشش ہورہی ہے۔ ہزاروں لوگوں کی ڈیوٹیاں رمضان بازاروں میں ویلے بیٹھنے کے لیے لگادی جاتی ہیں، حالانکہ یہی لوگ منڈیوں کی نگرانی بھی کرسکتے ہیں۔ یوں تمام شہروں میں نرخ کنٹرول ہوسکتے ہیں۔
٭حکومت بجلی اور گیس کی قیمتیں مزید بڑھانے پر تیار
ہماری حکومت بھی آئی ایم ایف کے سامنے ایک بینک کلائنٹ سی ہے اور اپنے بینک کی تمام شرائط مان رہی ہے۔ جس طرح ایک عام قرضہ لینے والا فرد بینک کی شرائط تسلیم کرلیتا ہے، اسی طرح حکومت بھی ہوگئی ہے۔ آئی ایم ایف کا پروگرام لینے کے لیے دن ہفتے نہیں اب مہینے لگادیے جاتے ہیں۔ آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کو حتمی مذاکرات تک آتے آتے زمانہ بدل گیا ہے۔ اتنا عرصہ تو ملکوں کے درمیان بڑے تنازعات حل کرنے میں نہیں لگتا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور منعقد ہوتے ہیں، تب جاکر کہیں معاملات طے پاتے ہیں۔ قرضوں میں ڈوبی حکومتیں خاصی کڑی شرائط پر بھی مان جاتی ہیں۔