23 جولائی 2019
تازہ ترین

خبروں پر تڑکے خبروں پر تڑکے

٭واٹس ایپ کا استعمال صحت کے لیے مفید قرار
ایک ماں کو شکایت تھی کہ اس کا بیٹا اس کی رقم چُرا لیتا تھا۔ اس کی دوست نے مشورہ دیا کہ واٹس ایپ کے باعث بچے کتابیں نہیں کھولتے۔ ان میں رقم چھپادیا کرو۔ آج کل ہمارے بچے اور بڑے زیادہ وقت واٹس ایپ پر ہی ہوتے ہیں۔ عجب صورت حال ہوچکی ہے۔ بچے بس تین چیزیں مانگتے ہیں کھانا، وائے فائے یا پھر نیند کے لیے کچھ وقت۔ تاہم ماہرین کی تحقیق کہ واٹس ایپ کا استعمال صحت کے لیے مفید ہے تو ہم مان لیتے ہیں۔ ورنہ حالات و واقعات تو یہی بتارہے ہیں کہ واٹس ایپ نے بچوں کے دن بے چین اور راتیں بے قرار کر رکھی ہیں۔ اب تو خاتون خانہ کچن میں کم اور واٹس ایپ پر زیادہ پائی جاتی ہیں۔ 
٭جنوبی پنجاب کے 10800 سکول سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ
اگر صوبہ پنجاب کے تمام سکول سولر انرجی پر منتقل ہوجائیں تو وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ ملک میں لوڈشیڈنگ نام کی کوئی شے باقی نہ رہے گی۔ ہمارے سرکاری اداروں میں بجلی کا استعمال بے دریغ کیا جاتا ہے۔ اگر حکومت پنجاب نے سکولوں میں سولرانرجی دے کر بجلی بچانے کا کارنامہ انجام دے دیا تو گھروں اور صنعتوں کے لیے کافی بجلی بچ جائے گی۔ صوبہ بھر میں لاکھ سے زائد سکول ہیں۔ حکومت پنجاب مشن سولرانرجی ٹو سکولز پر کام کررہی ہے۔ یہ خاموش انقلاب کا بھی پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔ سولر انرجی سے سکولوں میں وافر بجلی میسر آنے سے ناصرف بچوں کی بہتر تعلیم کا بندوبست ہوگا بلکہ سکولوں میں ووکیشنل امور بھی انجام پاسکیں گے۔ سولر انرجی پر تمام سکول منتقل ہوجائیں گے تو شاید علم بھی بھرپور پھیل سکے۔
٭دو سالہ ڈگری پروگرامز پر پابندی سے 16لاکھ طلباء کا مستقبل دائو پر
علم ہی وہ سب سے بڑا ہتھیار ہے جس سے دنیا تبدیل کی جاسکتی ہے، مگر ہمارا نظام تعلیم ایسا ہے کہ ہمارے بچوں کو سبق سکھانے کے بجائے انہیں بھول بھلیوں میں ڈال رہا ہے۔ کبھی دو سالہ ڈگری پروگرام اور کبھی چار سالہ ڈگری پروگرام۔ اب دو سال والوں کو بے یقینی کی فضائوں میں دھکیل رہا ہے۔ ہمارے ہاں بڑا خوبصورت نظام تھا۔ لوگ ایف اے، ایف ایس سی کرتے، پھر بی اے بی ایس سی یا دیگر پروگراموں میں چلے جاتے۔ لگتا ہے روزگار دینے والوں نے اپنا کام نہ کیا۔ یوں گریجویشن کے چار سالہ لمبی اننگز میں ڈال دیا گیا۔ ادھر دو سالہ ڈگری پروگرام والوں کو ڈی گریڈ کرتے ہوئے ایسوسی ایٹ ڈگری کا درجہ دے دیا گیا، مزید دو سال لگانے کی صورت میں ہی وہ اپنی ڈگری کو منوا پائیں گے۔ دو سالہ ڈگری پروگرام والوں کے لیے نوکری اور ماسٹر ڈگری کے دروازے بند کیے جارہے ہیں۔
٭لاہوریوں کو مُردہ مرغیاں کھلانے کا منصوبہ ناکام، ٹرک پکڑا گیا
بہت سال قبل جب مرغی ساٹھ روپے کلو ملتی تھی اور ساٹھ روپے کا ہی کلو چرغہ ملتا تھا۔ ایک سینئر صحافی فرمایا کرتے تھے کہ مردہ مرغی کھارہے ہو۔ ہمارے ہاں انتظامیہ اور اب فوڈ اتھارٹی بھی مشن حلال مرغی پوری طرح پورا نہ کراسکے۔ آج بھی کہیں کہیں سے آوازیں اٹھتی ہیں کہ مُردہ مرغیاں کھلانے کا منصوبہ ناکام۔ اب بھی زیادہ تر مردہ مرغیاں کھلانے کے منصوبے کامیاب ہورہے ہیں۔ یہ الگ بات کہ تب ساٹھ روپے کا چرغہ ملتا تھا، مگر اب قیمت بھی پوری لی جاتی ہے۔ مانا بھی نہیں جاتا کہ مرغی مردہ کھلائی جارہی ہے، یعنی اگر مردہ مرغی کھلائی بھی جارہی ہے تو ریٹ حلال کا ہی لگتا ہے۔
٭ڈیڑھ لاکھ لوگوں نے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھالیا
ایمنسٹی سکیم سے ڈیڑھ لاکھ لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ لاکھ سے زائد نئے فائلر جنم لے چکے ہیں۔ اب تو امکان یہی ہے کہ ہر شخص خود سے ٹیکس فائلر بننے کے لیے پر تول رہا ہے۔ حکومتی رِٹ مضبوط ہونے لگے تو لوگ قانون پر عمل درآمد کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ اب تو لگ رہا ہے کہ اس ملک میں لاکھوں لوگ خود سے ٹیکس فائلر بننے کے لیے آگے آئیں گے۔ اگر ٹیکس ادا کریں گے تو ملکی معاملات میں آئی ایم ایف جیسے اداروں کا کنٹرول کم سے کم تر ہوتا جائے گا۔ 22 کروڑ آبادی کے ملک میں اگر ہزاروں لوگ ٹیکس دیں گے تو معیشت قابو میں کیسے آئے گی۔ ڈیڑھ لاکھ لوگ نئے فائلر بنے ہیں تو دو ایک سال میں حکومت کا تمام لوگوں سے ٹیکس لینے کا ٹارگٹ پورا ہونا شروع ہوجائے گا۔