25 مئی 2019
تازہ ترین

خان صاحب! نرگسیت نہیں حقیقت پسندی اپنائیں خان صاحب! نرگسیت نہیں حقیقت پسندی اپنائیں

ملکی حالات اس وقت سنگین اور تشویشناک صورتحال کا شکار ہیں۔ تحریک انصاف کی مرکزی حکومت مختلف محاذوں پر نبرد آزما ہو کر حالات کو ٹھیک کرنے کی تگ و دو میں مصروف عمل ہے تاہم اس کے بارے میں یہ تاثر انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے کہ موجودہ حکومت کے اندر اہلیت اور قابلیت کی کمی ہے کہ وہ پاکستان ایسے مسائل سے پُر ملک کے انتظام و انصرام کو چلا سکے۔
جمہوری دور کی بحالی کے بعد جب پاکستان پیپلز پارٹی کو مرکز میں حکومت بنانے کا موقع ملا تو اس حکومت کی نااہلی اور ناکامی کا تاثر یکدم نہیں ابھرا۔ پی پی پی حکومت کی بیڈ گورننس اور نااہلی کا تاثر بھی دو ڈھائی سال دور اقتدار میں گزارنے کے بعد راسخ ہوا، جب ملکی معیشت اور حکومتی معاملات میں بد نظمی نے ان کی مٹی پلید کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پاکستان مسلم لیگ نواز نے جب 2013 میں عنان اقتدار سنبھالا تو اس کے بھی ناکامی اور نااہلی کے تاثر کو ابھرنے میں دو ڈھائی سال کا عرصہ لگا جب یہ واضح ہوا کہ حکومت سے ملکی معاملات سنبھل نہیں پا رہے۔ تحریک انصاف کی حکومت ان معنوں میں بہت منفرد ٹھہری کہ فقط نو مہینوں میں ان کی حکومت کی کارکردگی کا پول کھل گیا جب ملکی معاملات ان کی نااہلی اور کوتاہی کی وجہ سے بد سے بدتر ہو چلے ہیں۔ کسی بھی محاذ پر ان کی کارکردگی ایسی نہیں کہ حکومت پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جائیں۔ اب تک کی صورت حال میں یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ تحریک انصاف دھرنے، کنٹینر اور کنسرٹ نما سیاسی جلسے کرانے کے کاموں میں جتنی طاق ہے حکومت چلانے میں اس کے برعکس اتنی ہی زیادہ ناکام۔ 
معیشت کے شعبے کو ہی لے لیں جس سے تمام ملکی امور جڑے ہوئے ہیں۔ گزشتہ حکومتوں کو بھی بقول اُن کے ورثے میں تباہ حال معیشت ملی اس لیے انہوں نے قرضے لے کر معیشت کے نیم مردہ بدن کو کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ پی پی پی اور نواز لیگ کی حکومتوں نے بھی وہی کیا جو آج تحریک انصاف کی حکومت کر رہی ہے کہ ملکی و غیر ملکی قرضوں پر انحصار کر کے ملکی معیشت کو چلایا جائے۔ اس دور میں معیشت کا پہیہ بہرصورت کسی نہ کسی طور چلتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ تاہم اب تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ معیشت کیا پورا نظام مملکت ہی جیسے رک گیا ہو۔ ہر چیز جیسے ساکت اور جامد ہو چکی ہو۔ امور مملکت اس ٹھہرے پانی کے مانند ہو چکے ہیں جن سے کچھ دنوں کے بعد تعفن اُٹھنے لگتا ہے، اب ایسا ہی معاملہ عوام کے ساتھ ہے کہ جو امور مملکت کے ساکت ہونے سے نڈھال ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کے پاس اب بھی چار سال کا عرصہ ہے کہ وہ ملکی امور کو سدھار سکے تاہم اس کے لیے اسے اپنی سوچ اور اپروچ میں تبدیلی لانا پڑے گی۔
عمران خان کا کرپشن کے خلاف نعرہ ان کی انتخابی کامیابی کا باعث بنا۔ بلاشبہ کرپشن کا تدارک ہونا چاہیے کہ یہ ناسور بن کر ملکی وسائل و دولت کو ہڑپ کر رہی ہے تاہم کرپشن کے انسداد کے لیے ادارے موجود ہیں، جن کا مینڈیٹ ہی بد عنوانی کے خلاف کارروائیاں کرنا ہے۔ خان صاحب اب وزیر اعظم پاکستان ہیں انہیں اس ملک کے تمام طبقات کی ترقی و خوشحالی کے لیے کام کرنا ہے۔ اب تک ان پر یہ حقیقت منکشف ہو چکی ہو گی کہ بیرونِ ملک لوٹی ہوئی ملکی دولت کو پاکستان واپس لا کر معیشت کی بہتری کا ان کا نعرہ ناکام ہو چکا ہے۔ انہیں اب یہ سمجھنا ہو گا کہ معیشت کی حرکیات کے لیے شعلہ بیانی اور گرمی گفتار نہیں بلکہ اندرونی استحکام اور پیداواری عمل میں بڑھوتری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب تک وہ مخالفین کو رگیدنے کے علاوہ کچھ نہیں کر پائے کہ جو معیشت کی مضبوطی کی سمت میں اشارہ کر سکے۔
عمران خان کو ناکامی سے بچنے کے لیے ایک کڑوا گھونٹ بھرنا پڑے گا کہ وہ پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی جماعتوں کے ساتھ مل کر کسی قابل عمل حکمت عملی پر پہنچیں تا کہ ملک کو بحرانوں کے گرداب سے نکالا جا سکے۔ ملکی مفاد کے لیے انہیں پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھنا پڑے گا تاکہ کسی ایسے چارٹر پر اتفاق رائے کیا جا سکے جو معیشت، گورننس، خارجی و داخلی ایشوز پر درپیش بڑے چیلنجوں سے نبردآزما 
ہونے کے لیے سود مند ثابت ہو سکے۔ عمران خان اگر آئی ایم ایف سے معاہدے کی کڑوی گولی نگل سکتے ہیں تو وہ ملکی سیاسی جماعتوں سے مذکرات کرنے میں کیوں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ عمران خان یقین رکھیں کہ ملکی سیاسی جماعتوں سے گفت و شنید کر کے ان کا قد کاٹھ بڑھ سکتا ہے جب کہ آئی ایم ایف سے معاہدے نے ان کے سیاسی قد کاٹھ میں بہت کمی کر دی ہے۔
 وزیر اعظم اگر اس بات سے خائف ہیں کہ ملکی معاملات میں نواز لیگ اور پی پی پی سے مشاورت ان کی سیاسی مقبولیت کی کمی کر سکتی ہے تو وہ بے جا وسوسوں کا شکار ہیں۔ اگر ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ایک قابل عمل حکمت عملی کے ذریعے ملکی حالات سنبھل سکتے ہیں تو خان صاحب اس میں پہل کر کے اپنی سیاسی قامت میں بے پناہ اضافہ کر لیں گے۔ ان کے سیاسی حریفوں کی کرپشن کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے وہ اسے عدالت کی صوابدید پر چھوڑیں اور اس موضوع پر رائے زنی سے اجتناب کر کے سیاسی ٹمپریچر کو کم کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نرگسیت کا شکار ہونے کے بجائے عملیت اور حقیقت پسندی سے کام لیں تو ملک کا بھی بھلا ہو اور عوام کا بھی جو سنگین حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر حکومت کے خلاف صف آرا نہ ہو جائیں۔
بقیہ: قلم کہانی