25 اگست 2019
تازہ ترین

خان کا دورۂ امریکا، اللہ خیر کرے! خان کا دورۂ امریکا، اللہ خیر کرے!

وزیراعظم عمران خان 21 جولائی کو امریکا کا دورہ شروع کرنے جارہے ہیں، یہ دورہ بھی اسی طرح کامیاب ہوگا جیسے دیگر ممالک کے دورے انتہائی کامیاب رہے ہیں۔ یہ الگ بات کہ گزشتہ تمام دوروں کی کامیابی کے فیوض و برکات سے عوام  ابھی تک بے خبر رہے ہیں۔  مختلف رپورٹس اور تجزیوں میں بتایا جارہا ہے کہ وزرات عظمیٰ سنبھالنے کے بعد عمران خان کا یہ امریکا کا پہلا دورہ ہے۔ حال ہی میں ہیوسٹن میں تعینات پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی کی رہائش گاہ پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری نے اس دورے کے سلسلے میں امریکا میں آباد پاکستانی بزنس کمیونٹی کی توقعات پرمیڈیا سے خصوصی گفتگو کی۔ اس موقع پر پی ٹی آئی سے وابستہ امریکی تاجر برادری کے ارکان بھی وہاں موجود تھے۔ زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ امریکا میں مقیم پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنانا وزیراعظم کے ایجنڈے کا اہم جزو ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد حکومت نے بورڈ آف انویسٹمنٹ تشکیل دیا ہے، جو سرمایہ کاروں کے تمام مسائل نہایت تیز رفتاری سے حل کرے گا۔ ان کے بقول، ’’ہم چاہتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے یہ عمل نہایت ہی آسان ہوجائے۔‘‘ زلفی بخاری نے واشنگٹن میں وزیراعظم کے پاکستانی نژاد امریکی باشندوں سے خطاب اور صدر ٹرمپ سے ملاقات کو نہایت اہم قرار دیا۔ زلفی بخاری اس وقت واشنگٹن ڈی سی میں وزیراعظم کے دورۂ امریکا کے نگراں کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ عمران خان کے دورۂ امریکا کے چیف آرگنائزر اور سیکریٹری آفس آف انٹرنیشنل چیپٹرز، امریکا سے وابستہ ڈاکٹر عبداللہ ریاض نے واشنگٹن ڈی سی میں میڈیا سے گفتگو میں کہا، ’’امریکا میں مقیم پاکستانیوں نے وزیراعظم کے اس دورے کا خیرمقدم کیا ہے۔ تمام پاکستانی وائٹ ہاؤس سے کچھ ہی فاصلے پر منعقد ہونے والے اس جلسے کے بے چینی سے منتظر ہیں۔  پی ٹی آئی کے بقول اس تاریخی جلسے سے پاکستانی نژاد امریکیوں کی بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ وہ اپنے لیڈر کو دیکھنے کے لیے بے چین ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے اس جلسے کے دوران اپوزیشن اور امریکی نژاد شہریوں (جو خان کے طریقہ حکومت کے خلاف ہیں) کے مظاہروں کی خبریں بھی گردش کررہی ہیں۔ اس بارے میں ایک سوال پر امریکا میں مقیم پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ، ’’ہم ایک آزاد معاشرے میں رہتے ہیں اور ہر ایک کو آزادی رائے کا حق ہے۔‘‘ وزیراعظم کے دورے پر امریکا کی ریاست ٹیکساس میں بھی پاکستانی امریکیوں میں نہایت گہما گہمی پائی جاتی ہے۔ اس دورے سے جڑی ٹیکساس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے لیڈر اور سابق صدر پی ٹی آئی، امریکا ندیم زمان کی میڈیا سے گفتگو کے مطابق، ’’وزیراعظم کے اس دورے سے پاکستان اور امریکا کے سفارتی تعلقات بہت مضبوط ہوں گے۔ ہر پاکستانی نژاد امریکی کی دونوں ملکوں کے لیے نیک خواہشات ہیں۔‘‘ ان کے مطابق چار ہزار لوگ اس جلسے میں شرکت کے لیے خود کو رجسٹر کرچکے ہیں۔ وزیراعظم پاکستانی نژاد امریکی تاجروں سے پاکستان میں تجارت کے مواقع اور معیشت کی بحالی میں ان کے کردار پر خصوصی میٹنگ کریں گے۔
وزیراعظم کے دورۂ امریکا کے حوالے سے یہ خبر بھی اہم اور تشویش ناک ہے کہ عمران کے معاون خصوصی (جو امریکا میں اس دورے کے انتظام و انصرام کے لیے موجود ہیں) کے رویے سے وہاں کی کئی تنظیموں نے انہیں سخت ناپسند کیا ہے، خبروں کے مطابق امریکا میں پاکستانی ڈاکٹروں کی مضبوط اور موثر تنظیم ’’اپنا‘‘ (A.P.P.N.A) کے صدر نے معاون خصوصی کو اسٹیج پر آنے اورتقریر کا موقع دینے سے انکار کردیا۔ ریاست فلوریڈا میں ڈاکٹروں کے سالانہ کنونشن کے منتظمین سے رابطہ کرکے کہا گیا کہ پاکستان سے معاون خصوصی امریکا آئے ہیں اور وہ ڈاکٹروں کے کنونشن سے خطاب کرنا چاہتے ہیں۔ چونکہ کنونشن کا تمام پروگرام اور تفصیلات طے ہوچکی تھیں، لہٰذا تنظیم کے موجودہ صدر ڈاکٹر نسیم شیخانی نے اپنے پروگرام میں کسی تبدیلی یا اضافہ کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کنونشن میں ذیلی گروپوں کے کسی اجتماع میں کوئی انہیں تقریر کے لیے مدعو کرنا چاہتا ہے تو درست ہے لیکن وہ سالانہ کنونشن کے بڑے اور مجموعی پروگرام میں کوئی تبدیلی یا اضافہ نہیں کرسکتے۔ مختلف جانب سے سفارشوں اور درخواستوں کے باوجود تنظیم کے صدر ڈاکٹر شیخانی اپنے موقف پر قائم رہے، جس کے باعث معاون خصوصی کے اسسٹنٹ ہونے کا دعویٰ کرنے والے خرم نامی شخص نے اپنا کے صدر سے ناصرف بدتمیزی کی بلکہ انہیں دھکا بھی دیا۔ نتیجتاً کنونشن کے ایک منتظم نے سیکیورٹی بلاکر اس اسسٹنٹ کو کنونشن سے باہر نکلوادیا اور زلفی بخاری کو خطاب کا موقع دینے سے انکار کا سخت موقف بھی اختیار کیے رکھا۔ اس تمام واقعے کے اگلے روز زلفی بخاری کنونشن میں موجود تھے۔ ڈاکٹروں کی تنظیم کے صدر ڈاکٹر نسیم شیخانی نے میڈیاسے گفتگو میں ان کے ساتھ معاون خصوصی کے اسسٹنٹ کی بدتمیزی کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب پاکستانی ہیں لیکن اقتدار کے غرور میں عام شہریوں پر دبائو، من مانے مطالبات اور بدتمیزی قابل قبول نہیں، اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ بھی ایسے سلوک کا جواز نہیں۔ ڈاکٹر شیخانی نے کہا کہ یہ ایک ناخوشگوار واقعہ تھا، بدتمیزی کرنے والے شخص نے معذرت کرلی ہے، تاہم کنونشن میں ایک ممتاز پاکستانی ڈاکٹر نے اس واقعہ کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر عمران حکومت کے مشیروں کے نائب معاون اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ بدتمیزی اور حاکمانہ مطالبات کا رویہ اختیار کرسکتے ہیں تو پاکستان میں رہنے والے عام شہریوں کے ساتھ ان کے حاکمانہ سلوک کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ رپورٹ  امریکا میں مقیم معروف پاکستانی صحافی کے توسط سے یہاں کے موقر اخبار میں شائع بھی ہوچکی ہے، اس کے علاوہ اور بھی منفی 
رپورٹس سامنے آرہی ہیں۔
یہ صورت حال وزیراعظم کے لیے الارمنگ ہونی چاہیے کہ کہیں وہ پتّے ہوا ہی نہ دے دیں جن پر وہ تکیہ کیے بیٹھے ہیں۔ اصولاً وزیراعظم کی لابنگ ان افراد اور اداروں کو کرنی چاہیے جو وہاں کے سفارتی اور سماجی آداب کے ساتھ تاجروں کی نفسیات سے واقف ہوں۔ وزیراعظم کو کسی ’’بہت اپنے‘‘ پر ہی تکیہ کرنے کے بجائے  وہاں سفارتی اور معاشی محاذ پر بہتر اور اچھی خدمات کے حامل  افراد کو آگے کرنا چاہیے، کیونکہ اکثر طاقت کے زعم میں ’’قریبی کارکن‘‘ عوام کی توہین کرجاتے ہیں جس کا خمیازہ بہرحال طاقت کے مرکز کو بھگتنا پڑتا ہے۔
آخر میں وزیر ریلوے کے بیان کہ ’’اپنا خان بھی غصے کا تیز ہے  کم ٹرمپ بھی نہیں اللہ خیر کرے‘‘ پر ایک لطیفہ۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران انگریز نے ہندوستان سے بھاری تعداد میں نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کیا۔ ایک دن کسی گاؤں میں بوڑھی اماں اداس پریشان سی اپنے گھر کی دہلیز پہ بیٹھی تھی۔ پڑوسن نے  سبب پوچھا۔ بوڑھی (جس کا بیٹا کچھ عرصہ قبل فوج میں بھرتی ہوا تھا) نے جواب دیا کہ غلام کا خط آیا ہے کہ اس کی ٹریننگ مکمل ہوگئی  ہے اور ملکہ نے اسے جرمنی کے محاذ پہ جانے کا آرڈر جاری کردیا ہے۔ ’’بہن سنا ہے ہٹلر بڑا ظالم ہے اور میں پریشان اس لیے ہوں کہ غصے کا غلام حسین بھی تیز ہے۔ ڈر ہے دونوں کا کہیں آمنا سامنا نہ ہوجائے۔‘‘
بقیہ: عوام کی آواز