25 اگست 2019
تازہ ترین

کبھی چہرہ نہیں ملتا، کبھی درپن نہیں ملتا کبھی چہرہ نہیں ملتا، کبھی درپن نہیں ملتا

چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتمادکا پانسہ پھینک دیا گیا ہے۔ نمبر گیم تو مکمل طور پر واضح ہیں، لیکن بدقسمتی سے سینیٹ کے انتخابات میں عموماً ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ کی قبیح روایت کے سبب حتماً کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کوئی نئی بات نہیں۔ سب بخوبی آگاہ ہیں کہ سیاسی شطرنج میں مہروں کو کس وقت، کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ اپوزیشن اتحاد کی جانب سے حکومت کو دیا جانے والا یہ پہلا عملی چیلنج ہے، جو حکومت و اپوزیشن کی سمت متعین کردے گا۔ سینیٹ انتخابات سے قبل جس طرح بلوچستان حکومت تبدیل ہوئی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو اکثریت ہونے کے باوجود، وزیراعلیٰ بلوچستان کو جماعتی بغاوت کے بعد مستعفی کرنا پڑا تھا، وہ حیران کن و غیر متوقع نہیں تھا۔ (ق) لیگ کے رکن وزیراعلیٰ بلوچستان بن گئے اور بڑی شدّت کے ساتھ افواہوں نے جنم لیا تھا کہ اب سینیٹ کا عمل مکمل نہیں ہوگا، اس وجہ سے حکومت اپنے اقتدار کی مدت بھی پوری نہیں کرپائے گی، لیکن سابق حکومت نے لڑکھڑاتے لڑکھڑاتے آئینی مدت مکمل کرہی لی۔ سینیٹ میں کامیابی کے لیے مسلم لیگ (ن) کے پاس واضح اکثریت تھی، لیکن عدالتی فیصلے نے سب کچھ اکھاڑ پھینکا اور سینیٹ کے انتخابات میں (ن) لیگ کے امیدواروں کو آزاد نشانات پر الیکشن لڑنے پڑے۔ میاں نواز شریف نااہل قرار پائے تو پارٹی کی صدارت کے دوران کیے جانے والے فیصلے بھی منسوخ ہوگئے۔ سینیٹ الیکشن ہوا اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی ہنرمندی سے صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ اور سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوگئے۔ حالانکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے سینیٹر رضا ربانی کی حمایت کا اعلان کیا تھا کہ اگر ربانی چیئرمین سینیٹ بنتے ہیں تو وہ اپنا امیدوار کھڑا نہیں کرے گی، لیکن پی پی پی 
کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے سینیٹ چیئرمین 
کے لیے رضا ربانی کے نام پر امی نہیں بھری اور موجودہ چیئرمین کا انتخاب عمل میں آگیا۔ پی پی پی جس کا امیدوار چیئرمین سینیٹ بن سکتا تھا، انہوں نے ڈپٹی چیئرمین شپ پر اکتفا کیا۔ یہ تمام تر معاملات مسلم لیگ (ن) کی مخالفت کی بناء پر پی پی پی نے کیے۔ اگر جمہوری روایات کے مطابق سینیٹ کے انتخابات ہوتے تو آج سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کا چیئرمین ہوتا۔ جوڑ توڑ کی اس سیاست میں پی پی پی اور تحریک انصاف نے کلیدی کردار ادا کیا۔ بلوچستان سے (ن) لیگ کی حکومت بھی گئی اور سینیٹ کی چیئرمین شپ بھی نہ مل سکی۔
اب ایک مرتبہ پھر تاریخ خود کو دہرا رہی ہے، (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کا غیر فطری اتحاد ہونے کے بعد آل پارٹیز کانفرنس میں کیے جانے والے فیصلے کے مطابق حکومت کے خلاف احتجاج و گھر بھیجنے کی منصوبہ بندیوں میں پہلا وار سینیٹ میں کیا گیا ہے۔ بظاہر سینیٹ کا عملی کردار قومی اسمبلی کی طرح اہم نہیں لیکن پارلیمانی مقننہ کے تحت سینیٹ پارلیمانی نظام کا استعارہ ہے۔ اس لیے سینیٹ کی عوامی افادیت نہ ہونے کے باوجود سیاسی محاذ آرائی میں ایک بار پھر جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ  کے چیئرمین کو اس بات کا یقین دلایا ہے کہ ان کے خلاف  تحریک عدم اعتماد کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ جواباً قائد ایوان نے ڈپٹی چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل کرادی ہے۔ ان قراردادوںکے نتائج سینیٹ کی روایات کے مطابق کچھ بھی ہوسکتے ہیں، تاہم جس طرح حکومت مخالف تحریک میں تیزی آتی جارہی ہے، اس سے پی ٹی آئی کو پریشانیوں کا سامنا ضرور ہوسکتا ہے۔ اس وقت مملکت میں کمزور جمہوری ڈھانچہ کھڑا ہوا ہے۔ الیکٹیبلز کی مدد سے قائم حکومت کے خلاف مالیاتی بجٹ 2019-20 کے بعد ہڑتالوں اور احتجاجوں کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے۔ اپوزیشن کو متحد رکھنے کے لیے حکومت وقت جس ’’جانفشانی‘‘ سے کام کررہی ہے، اس کی مثال کم ہی ملے گی۔ سیاسی افراتفری و انتشار کا موسم بگڑتا جارہا ہے۔ دوسری جانب ویڈیوز لیکس نے عدالتی نظام کی شفافیت پر بڑا سوال چھوڑ دیا ہے۔ آج سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ ویڈیو لیک کے حوالے سے دائر درخواست کی سماعت شروع کرے گا۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ ویڈیو لیکس کے بعد اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ پاکستان میں سیاست کا معیار انتہائی درجے تک پست ہوتا جارہا ہے۔ اخلاقی اقدار میں گراوٹ کا سلسلہ تو چند برسوں میں کسی حد تک ہی رہتا تھا، لیکن جس طرح اب سوشل میڈیا میں  ٹرینڈ بن رہے ہیں اور سیاست میں جس قسم کے الزامات لگائے جاتے ہیں، اس سے سیاست کا مہذب ماحول قریباً ختم سا ہوگیا ہے۔ اب جوڑ توڑ کی سیاست میں دولت کی چمک ہی کافی نہیں رہی بلکہ مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جانے کی خاطر کسی اقدار کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ موجودہ حکومت کے گیارہ مہینوں بعد معاشی صورت حال مزید گمبھیر ہوچکی ہے، تاجروں 
کے مطالبات کی جو بھی نوعیت ہو، لیکن اس سے محنت کش طبقہ براہ راست متاثر ہورہا ہے۔ سینیٹ انتخابات میں اپوزیشن کی کامیابی کے بعد دو ایوانوں میں باہمی چپقلش و عدم تعاون کا ایسا سلسلہ شروع ہونے کے خدشات ہیں، جس سے منتشر ایوانوں کو ایک صفحے پر آنے کے لیے بڑی مسافت طے کرنا ہوگی۔
سیاسی جماعتوں کے رویوں سے عوام کی اکثریت نالاں ہوچکی اور برملا جس اخلاقی پس ماندگی کے ساتھ اظہار کرتی ہے، وہ لکھا بھی نہیں جاسکتا۔ بات اب صرف سیاسی جماعتوں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ ریاست کے تینوں ستونوں پر جو گند اچھالی جارہی ہے، یہ افسوس ناک مقام ہے۔ صحافت ریاست کا اہم ستون ہے، لیکن گروپ بندیوں کی وجہ سے اب صحافت فروعی سیاست کی ترجمان بن چکی ہے۔ کسی بھی چینل کا نام عوام کے سامنے لیں تو وہ آنکھ بند کرکے بتاسکتے ہیں کہ کس میڈیا ہائوس کی ہمدردیاں کس سیاسی جماعت کے ساتھ ہیں۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف جس منظم انداز میں پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، وہ ملکی سلامتی کے لیے خطرناک صورت حال ہے۔ ملک دشمن عناصر کے تو پہلے ہی سے یہ مذموم عزائم رہے ہیں، لیکن اب بیشتر سیاسی جماعتوں کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف جس قسم کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، وہ مسائل کو بڑھا رہے ہیں۔ ریاست کا سب سے اہم ستون عدلیہ ہے، لیکن جس طرح مقتدر ہستیوں پر ریٹائرمنٹ کے بعد تنقید و الزامات عائد کیے جاتے ہیں، وہ عدالتی نظام سے عوام کے اعتماد کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ خصوصاً گزشتہ دنوں دو اہم شخصیات کی مبینہ ویڈیوز نے احتساب کے عمل پر شکوک و شبہات کے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ حکومت کبھی ویڈیوز لیکس پر ایک بیانیے پر قائم نہیں۔ چونکہ عدالت عظمیٰ باقاعدہ کارروائی کا آغاز کرچکی، اس لیے اس معاملے پر عدلیہ کی جانب سے منطقی فیصلہ نہ ہونے تک حکومت و اپوزیشن کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ہمیں قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ سینیٹ میں تحریک عدم اعتماد سے لے کر سیاست کی پست سطح تک ہمارے رویے اور اطوار آنے والی نسل کے لیے عبرت ناک تاریخ بن رہے ہیں۔ جو بویا جاتا ہے وہی کاٹا جاتا ہے۔ ہمیں منفی عمل سے باہر نکلنا ہوگا۔ ایک بار ایسے فیصلے کرنے ہوں گے، جن کے نتائج دوررس ہوں۔ وقتی نمبر گیم اور رکیک الزامات کی سیاست کو بالائے طاق رکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پنجہ آزمائی میں صرف ایک  فریق  غریب عوام  کو نقصان ہورہا ہے، اُن کے پاس پانچ برسوں میں صرف ایک موقع ووٹ کا ہوتا ہے، جس کے بعد قسمت کی بازی ان کے ہاتھ میں نہیں رہتی۔ عوام کو مایوس نہ کریں، وگرنہ نتائج کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔
بقیہ: پیامبر