17 ستمبر 2019
تازہ ترین

’’ڈی ڈے‘‘ کی 74ویں سالگرہ ’’ڈی ڈے‘‘ کی 74ویں سالگرہ

فرانس کے وسیع میدان جنگ نارمنڈی میں مٹرگشت کرتے ہوئے پروشیا کے شہنشاہ فریڈرک اعظم کا یہ مقولہ میرے ذہن میں گردش کرنے لگا،’’وہ جو ہر چیز کا دفاع کرتا ہے، وہ کسی چیز کا دفاع نہیں کرتا‘‘۔ نارمنڈی لینڈنگ یا ڈی ڈے لینڈنگ کی 74ویں سالگرہ کے حوالے سے عظیم جرمن شہنشاہ کا مقولہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ہٹلر کو اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے تھا کہ فرانس سے ناروے تک یورپ کے ساحلوں کا دفاع ناممکن تھا، جس کی وجہ 1944ء میں جرمنی کی معاشی اور عسکری کمزوریاں تھیں۔ مگر وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہا۔ 1940ء میں فرانس کی ماجینو قلعہ بندیوں پر قبضے کے بعد ہٹلر اور اس کی ہائی کمانڈ نے وہی سٹریٹجک اور ٹیکنیکل غلطیاں دہرائیں جوکہ چار سال قبل فرانس نے کی تھیں؛ دشمن کے حملے سے موثر طور پر نمٹنے کیلئے ریزور فورس کا کوئی انتظام نہیں کیا تھا۔ 
جرمنی کی اٹلانٹک دیوار جوکہ کاغذوں میں ناقابل تسخیر سمجھی جاتی تھی، بہت زیادہ طوالت اس کی سب سے بڑی کمزوری تھی، مزیدبراں ، اس کے موثر دفاع کیلئے مناسب تعداد میں ریزور فورس کا بھی فقدان تھا۔طویل فرانسیسی دفاعی دیوار ماجینو کی بڑی کمزوری بھی یہی تھی۔ منیلا کے دفاع کیلئے امریکی قلعہ بندیاں اور سنگاپور میں برطانیہ کی ناقابل تسخیر قلعہ بندیاں بھی اسی طرح بیکار ثابت ہوئی تھیں۔ جاپانی فوج باآسانی دونوں دفاعی حصار توڑ کر آگے بڑھ گئی تھی۔ 1940ء میں جرمنی کی مسلح افواج جدید تاریخ کی سب سے طاقتور فوج تھی۔مگر چار سال بعد یہی طاقتور فوج ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔ امریکا ، برطانیہ اور کینیڈا کی اکثریت کو یقین ہے کہ ’ڈی ڈے‘ نے یورپ سے جنگ عظیم دوم کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا، جوکہ حقیقت نہیں ۔
جرمنی کی طاقتور مسلح افواج جس میں جرمن فضائیہ بھی شامل تھی،سٹالن کے سوویت فورسز نے اسے تباہ کر دیا تھا۔ سوویت یونین کی ریڈ آرمی نے 507جرمن ڈویژن، 48ہزار جرمن ٹینک، 77ہزار جرمن طیارے اور اٹلی، رومانیہ، ہنگری، سلواکیہ اور فن لینڈ سے تعلق رکھنے والے جرمنی کے اتحادی 100ڈویژن ایکسس ٹروپس کو تباہ کر کے رکھ دیا تھا۔ چند امریکیوں نے ہی مشرق سے 1945ء کے سوویت حملے کے بارے میں سنا ہو گا، جوکہ وسطی ایشیا سے چینی علاقے منچوریا اور بحرالکاہل تک پھیلا ایک وسیع و عریض عسکری آپریشن تھا۔ اس میں ساڑھے چار لاکھ جاپانی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے، یا پھر قیدی بنا لئے گئے، جوکہ جاپان کے عسکری نقصانات کا 32فیصد تھا۔ سوویت فوج جاپان پر حملہ کیلئے تیار کھڑی تھی کہ اس دوران امریکا نے 2ایٹمی حملے کر دیئے ۔ دوسری جنگ عظیم میں ہلاک یا زخمی ہونیوالے جرمن فوجیوں کی تعداد ایک کروڑ کے لگ بھگ تھی،ان میں 75فیصد ریڈ آرمی کے ہاتھوں مارے گئے۔ طاقتور جرمنی فضائیہ کی کمر بھی روس میں ٹوٹی تھی۔ جرمن دفاعی پیداوار کا بیشتر حصہ 1600کلو میٹر دور مشرقی محاذ میں سپلائی ہو رہا تھا، جہاں جرمنی کی ایلیٹ فورسز کورسک اور سٹالن گراڈ کے معرکے کیلئے تیار کھڑی تھیں، جن میں شریک فوجیوں کی تعداد کروڑوں تھی۔ اس جنگ میں دو کروڑ سوویت فوجی مارے گئے۔ دوسری طرف بحرالکائل کے معرکوں سمیت اس جنگ میں دس لاکھ کے لگ بھگ امریکی ہلاک ہوئے۔ سٹالن کے مطابق ڈی ڈے، شمالی افریقہ اور اٹلی کی لڑائیاں محض شیطانی قوتوں کو الجھانے کیلئے تھیں، جبکہ ریڈ آرمی کا محور برلن تھا۔ 
بلاشبہ ’’ ڈی ڈے‘‘ جدید فوجی تاریخ کا ایک عظیم لاجسٹک کارنامہ ہے۔ یہاں جنرل موٹرز اور جرمن جنگجوئوں کے درمیان بھی مقابلہ ہوا۔ ہر امریکی ٹینک جسے جرمن تباہ کرتے، اس کی جگہ دس مزید ٹینک پہنچ جاتے۔ تباہ شدہ جرمن ٹینکوں کی خالی جگہ پر کرنا تقریباََ ناممکن تھا۔ دس لاکھ فوجیوں کو بھاری دفاعی مشینری کے ساتھ دریا پار پہنچانا بھی ایک بڑی کامیابی تھی۔ حالانکہ 1940ء میں جرمن بھی دریائے رائن کا مضبوط دفاعی حصار توڑ کر فرانس میں داخل ہوئے تھے۔ جون 1944ء میں نارمنڈی اور اس کیساتھ کے تمام تر دفاعی حصار پر موجود جرمنی فوج کے پاس ڈیزل ختم ہو چکا تھا۔ ان کے ٹرک اور ٹینک غیر موثر ہو چکے تھے۔ باقی متحرک گاڑیاں اتحادی فورسز نے اپنی فضائی طاقت کیساتھ بند کرا دی تھیں، جن میں فیلڈ مارشل رومیل کی سٹاف کار بھی شامل تھی، اسے کینیڈین فائٹر پائلٹ رچرڈ رومر نے ناکارہ بنایا ، جوکہ بعدازاں، کینیڈا کے جنرل بنے۔ 
فیول کی اس کمی کا نارمنڈی کے جرمن یونٹس کو سامنا نہ ہوتا، تب بھی موثر طور پر لڑنے کے قابل نہیں تھے۔ جرمن یونٹس کو گولہ و بارود کی کمی کے علاوہ سپلائیز اور نقل و حمل کے مسائل کا بھی سامنا تھا۔ جرمن یونٹس صرف رات کو مگر بہت کم رفتار کیساتھ حرکت کر سکتے تھے۔ ہٹلر ریزرو فورسز چھوڑے سے گریز کرتا رہا۔ نارمنڈی پر اتحادیوں کی بھاری بمباری کے باعث 15سے 20ہزار تک شہری بھی مارے گئے، کئی شہر اور قصبے تباہ ہو گئے۔ چرچل نے ایک موقع پر کہا تھا ’’ جرمنوں سے لڑے بغیر آپ جنگ کی حقیقت کبھی سمجھ نہیں سکتے‘‘۔ تعداد میں کمی اور فضائی کور نہ ہونے کے باوجود جرمن فورسز نے نارمنڈی میں سخت مزاحمت کی، لڑائی میں 2لاکھ 9ہزار امریکی ، کینیڈین، برطانوی، فری فرنچ فورس اور دیگر اتحادی مارے گئے، جرمنوں کا جانی نقصان 2لاکھ کے لگ بھگ تھا۔
بڑے پیمانے کی اس فوج کشی کا اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ ریڈ آرمی نے 1944ء کے آخر تک پیرس اور یورپی ساحلی علاقوں تک پہنچ چکا ہونا تھا ؛ جس کے نتیجے میں سٹالن سپین کے علاوہ تمام یورپ کا بلا شرکت غیرے مالک بن جاتا۔ اس صورتحال سے بچنے کیلئے اتحادی جرمنی کے ساتھ امن معاہدہ کر سکتے تھے، جس کا ہٹلر خواہاں جبکہ امریکی جنرل جارج پٹن سخت حامی تھا۔ مگر جرمنوں سے نفرت کے باعث چرچل جبکہ بائیں بازو کے روزویلٹ امن معاہدے پر غور کیلئے بھی تیار نہ تھے، جوکہ سٹالن کو مشرقی یورپ کے بیشتر ملکوں سے دور رکھ سکتا تھا۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: ہف پوسٹ)