17 ستمبر 2019
تازہ ترین

جرائم پیشہ سجن جرائم پیشہ سجن

پاکستان کے اندر سیاسی خلفشار عروج پر ہے، منی لانڈرنگ اور کرپشن کے الزام میں ملک کے صفِ اوّل کے سیاسی رہنمائوں کے خلاف تحقیقات و مقدمات اپنے آخری مراحل میں ہیں، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں سزائوں میں معافی اور مقدمات کے خاتمے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے پر تیار نظر آتی ہیں، لیکن وزیراعظم عمران خان ہیں کہ مانتے ہی نہیں۔
اپوزیشن کی طرف سے چیئرمین سینیٹ کو تبدیل کرنے کا قدم بھی اسی لیے اٹھایا گیا کہ حکومت پر دبائو بڑھایا جائے، اس تحریک کا انجام کچھ بھی ہو، وزیراعظم نے کسی بھی قسم کا دبائو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ وہ بلیک میل نہیں ہوں گے، خواہ اس کے لیے کوئی بھی قربانی دینی پڑے، وزیراعظم پاکستان کے اس طرز عمل و مستقل مزاجی کو دیکھتے ہوئے مریم صفدر نے ترکش سے ایک نیا تیر نکال کر چلایا، جس نے ہدف پر پہنچ کر دشمن کو زخمی کرنے کے بجائے تیرانداز کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
مریم صفدر کی پریس کانفرنس کے دوران ان کے دائیں بائیں بیٹھے لیڈر شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی یوں نظر آئے جیسے سکول کی ہیڈمسٹریس بچوں کو ڈانٹنے کے لیے کسی نشست کا اہتمام کرے تو اپنے دونائبین دائیں اور بائیں بٹھالیتی ہے، ان میں ایک وہ نائب ہوتا ہے جو کھڑے کھڑے کسی کی بھی بے عزتی کرنے کی شہرت رکھتا ہے جب کہ دوسرا نائب عموماً پی ٹی ماسٹر ہوتا ہے جو اپنے فرائض منصبی کے علاوہ سکول میں تمام وقت ہاتھ میں چھڑی لیے نچلے درجے کے ملازمین سے چخ چخ کرتا نظر آتا ہے، سکول کے بچّے عموماً ان دونوں حضرات کی شکل دیکھتے ہی منہ پھیر کر غائب ہوجانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
ہرگزرتے دن کے ساتھ یہ سوال تقویت پکڑ رہا ہے کہ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت اب شین لیگ ہے، میم لیگ ہے یا (ن) کے اندر کچھ زندگی کی رمق باقی ہے، موجودہ صورت حال میں آصف زرداری سب سے زیادہ سیانے ثابت ہوئے ہیں، ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ حالات سے سمجھوتا کرنے، سیاست سے ہمیشہ کے لیے کنارہ کش ہونے کا فیصلہ کرنے اور مقتدر حلقوں تک یہ پیغام پہنچانے کے بعد ان کے جواب کے منتظر ہیں کہ وہ بدلے میں انہیں کیا سہولتیںدے سکتے ہیں۔
دوسری طرف سے مکمل خاموشی ہے اور تاثر یہی دیا جارہا ہے کہ آصف زرداری نے اگر سیاست ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے تو ملک و قوم پر کوئی احسان نہیں کیا، وہ اپنی کرپشن اور لوٹ مار کے بیّن ثبوت سامنے آنے پر ایسا کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ وہ ایک کثیر رقم کی ادائیگی کے لیے بھی تیار ہیں، ان کا حکومت وغیرہ کے ساتھ معاہدہ کسی بھی وقت طے پاسکتا ہے، زرداری صاحب اس بات کا اعلان بھی کرچکے ہیں کہ اب بلاول سیاست کرے گا، انہوں نے اپنی بیٹیوں کو سیاست کے میدان میں اس طرح اترنے کی اجازت نہیں دی جس طرح بلاول کو دی ہے، اس حوالے سے ان کی بڑی مجبوریوں میں سب سے بڑی مجبوری ان کی وسیع وعریض جائیدادیں اور اربوں ڈالر نقد ہیں جو دنیا کے کئی ممالک میں موجود ہیں، ان جائیدادوں کا بیشتر حصہ دونوں بیٹیوں کے نام ہے۔
ایک خفیہ پیغام کی خبر دینے والے ذریعے نے تصدیق کی کہ آصف زرداری صاحب نے نواز شریف کو تازہ ترین مشورہ دیا ہے کہ وہ بھی انہی کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے رقم ادا کریں، سیاست و ملک کو خیرباد کہیں اور پانچ یا دس برس کی زبان بندی کا وعدہ کرکے مریم صفدر کے لیے مستقبل کی سیاست میں گنجائش حاصل کرلیں۔
دوسری طرف نواز شریف کا خیال ہے کہ اگر اس تجویز پر عمل کرلیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مریم ساٹھ سال کی عمر میں ازسرنو سیاست کا آغاز کریں گی، ان درمیانی دس برسوں میں زمینی حقائق بہت بدل چکے ہوں گے، ان کی اپنی عمر اور صحت کے  حوالے سے بھی مزید دس برس میں وہ مزید زوال پذیر ہوں گے، ایسے میں ان کے خاندان میں شاید اتنی سکت باقی نہ بچے کہ وہ ازسرنو مریم صفدر کی میدان سیاست میں ری لانچنگ کے بعد کوئی مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکیں، پس وہ ابھی یا کبھی نہیں کے مطابق آخری معرکہ لڑنے کا فیصلہ کرچکے ہیں، لیکن ان کے آدھے ساتھی ان کے ہم خیال نہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو ابھی گرفتار نہیں ہوئے، وہ خود کو اچھا بچہ ثابت کرکے گرفتاری اور مقدمات سے بچنا چاہتے ہیں۔
رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے بعد جان بچانے کے لیے ہاتھ پائوں مارنے والوں کی تعداد میں اضافہ اور تحریک چلانے والوں کی تعداد میں بے حد کمی واقع ہوئی ہے، دو درجن سے زائد ارکان قومی اسمبلی اور پچاس کے قریب ارکان صوبائی اسمبلی یہ کہتے نظرآتے ہیں کہ وہ سسٹم کو گرانے کے لیے کسی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے، اوسطاً ہر رکن قومی وصوبائی اسمبلی بلامبالغہ کروڑوں روپے خرچ کرکے اسمبلی میں پہنچتا ہے، کوئی نہیں چاہے گا کہ اسمبلیاں ٹوٹ جائیں۔
کروڑوں ڈوب جائیں اور وہ بھی ایسے حالات میں جب آئندہ کروڑوں کمانے کے امکانات کم سے کم ہوتے جارہے ہیں، بیشتر ارکان پارلیمنٹ ان خطوط پر سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ وہ پکڑ دھکڑ اور جکڑ سے بچنے کے لیے اب اپنی توجہ بلدیاتی انتخابات پر مرکوز کریں جو آئندہ برس ہوں گے، مریم صفدر نے جس ویڈیو کے حوالے سے پریس کانفرنس کی ہے کہ وہ سچی ہے یا جھوٹی، اعلیٰ اور مجاز اداروں کی طرف سے تحقیقات کے بعد ہی حقائق سامنے آئیں گے، لیکن بادیٔ النظر میں یوں لگتا ہے جیسے بعض معزز جج صاحبان کے حکمرانوں، سیاستدانوں، جرائم پیشہ افراد بشمول قاتلوں رسہ گیروں، منی لانڈرنگ کرنے والوں اور انٹرنیشنل فراڈیوں سے تعلقات وملاقاتیں رہتی ہیں، کیونکہ یہ اٹل حقیقت ہے کہ کسی بھی عدالت کا معزز جج، جج بننے سے پہلے وکالت کے پیشے سے منسلک ہوتا ہے اور وکیل کے پاس کوئی بھی ٹھگ، لٹیرا، قاتل، بدمعاش آسکتا، مل سکتا، روابط رکھ سکتا ہے، قانونی مدد کے حوالے سے یہ تعلقات دوستی میں بھی بدل سکتے ہیں اور جرائم پیشہ سجنوں سے منفعت بخش دوستیاں نسلوں تک چل سکتی ہیں، ججوں کے طریقہ انتخابات میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے، کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ سی ایس ایس کرنے والوں کے لیے جوڈیشل کیڈر بنادیا جائے، وہ آئیں اور قدم بہ قدم ترقی کرتے کرتے اعلیٰ ترین عدالتوں کے جج اور چیف جسٹس بن جائیں، جاری فرسودہ نظام صرف یوں ہی بدل سکتا ہے۔