21 جولائی 2019
تازہ ترین

جوہڑ کی گندی مچھلیاں اور ڈراؤنے خواب جوہڑ کی گندی مچھلیاں اور ڈراؤنے خواب

گزشتہ سے پیوستہ کالم میں ہم نے اپنے پڑھنے والوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی۔ ریاست، حکومت، سیاست، معیشت، عدالت اور صحافت پاکستان کی تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑی ہیں بلکہ جس لفظ کے آخر میں ’’ت‘‘ آتی ہے وہ معاشرت ہے، انسانیت ہے یا پھر جمہوریت تلخ حالات کی زد میں ہیں اس کا نتیجہ کوئی بھی غیر متوقع صورت حال میں منعکس ہو سکتا ہے۔ چنانچہ پچھلے ہفتہ میں ریاست کے کردار کا ایک نیا روپ سامنے آیا۔ ٹیلی ویژن کی سکرین پر آن ایئر ہونے والا ایک انٹرویو صرف چار منٹ کے بعد روک دیا گیا۔ اس کی بازگشت نے حکومت اور حاکمیت کے پس پردہ محرکات و ترجیحات کا بچا کھچا بھرم بھی باقی نہیں رہنے دیا۔ اس کے باوجود یہ انٹرویو سوشل پر بھی وائرل ہو گیا اور اس کے مندرجات بھی مختلف ذرائع سے اخبارات کی زینت بن گئے۔ حکمران بھول گئے کہ اکیسوی صدی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا ہے اس میں وہ سب کچھ ہو سکتا ہے جو عموماً حکمرانی کی خواہش کے برعکس ہے، دیواریں کھڑی کریں پردہ پوشی کریں ترجمانوں کو زبان و بیان کی تنخواہیں ادا کریں۔ کاغذی بیانات کا اجرا کریں۔ تحقیق و تفتیش کے قوانین پر عملدرآمد کے دعوے کریں لیکن اظہار رائے اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے۔ ہمیں یہ تسلیم ہے کہ ہماری صحافت کے جوہڑ میں پلنے والی مچھلیوں کی اکثریت گندے پانی کی مچھلیاں ہیں اور وہ کبھی کبھی جو سطح آب پر نظر آتی ہیں، ان کا مقصد اپنی گندی سانس کو باہر پھینکنا ہوتا ہے۔ حالانکہ تلخ سچائی تو یہ ہے کہ مچھلی کو آکسیجن پانی سے ہی مل جاتی ہے۔ سائنسی نقطہ نظر میں پانی ہائیڈروجن اور آکسیجن کا مجموعہ ہوتا ہے مچھلی کی زندگی کا آغاز بھی پانی سے ہوتا ہے لیکن عجیب بات تو یہ ہے کہ مچھلی کو جب پانی سے باہر نکال لیا جاتا ہے تو وہ کھلی فضا میں تڑپ تڑپ کر مر جاتی ہے۔ مزید یہ کہ اگر اس کا پیٹ چاک کر کے اس میں موجود خوراک جو غلاظت بن چکی ہوتی ہے باہر نہ نکالی جائے تو اس کا تعفن ساری مچھلی کو بدبودار بنا دیتا ہے۔ شاید اس ایک مچھلی سے ہی وہ ’’محاورہ‘‘ بنا تھا کہ ایک مچھلی پورے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے۔ لیکن افسوس یہاں تو پورا تالاب ہی گندے اور بدبودارجوہڑ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ایسے میں جوہڑ کائی سے بھرا ہوا ہے اور اس کا پانی بھی اپنے فطری رنگ سے محروم ہو چکا ہے۔ اس نے جوہڑ کو بھی دلدل میں تبدیل کر دیا ہے۔ تو ہم خود اپنے گریباں میں جھانکنے سے گریز کو پناہ گاہ بناتے ہوئے خود فریبی اور تسلی کے غاروں میں اتر جاتے ہیں۔ کسی اور سے کیا کہیں؟؟ لیکن کہیں نہ کہیں سے ضمیر کی کوئی آواز ضرور سنائی دیتی ہے یہ الگ بات کہ مفادات کے سیسے نے ہماری سماعتوں کی تمام محسوسات کو تالے لگا ئے ہوئے ہیں لیکن پھر یہ تالابندی لاشعور کے دروازے بند نہیں کر پاتی۔ چنانچہ احساس گناہ ڈر کی صورت وہاں ڈیرے جما لیتا ہے۔ پھر بھی ضمیر سکون کا باعث نہیں ہوتا کچوکے لگاتا رہتا ہے۔ چنانچہ سکون کی تلاش میں منشیات کا سہارا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ لیکن کیا کیجئے میڈیکل سائنس بتاتی ہے کہ نیند کے باوجود ذہن جاگتا بھی رہتا ہے، ارتقائی سفر میں بھی رہتا ہے۔ نیند کے ذریعے اس کی ’’چارجنگ‘‘ ہوتی ہے چنانچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بیداری کے ساتھ ہی ذہن بھی تازہ دم ہوتا ہے اور جسم کو بھی تازگی میسر ہوتی ہے۔
اور پھر اس تناظر میں خوابوں کی آمد بھی ایک سوا ہے۔ خواب وہی ہوتے ہیں جو نیند میں آتے ہیں جاگتی آنکھوں کے خواب محض ایک محاورہ میں جاگتی آنکھوں میں خواب نہیں خواہشیں، تمنائیں، آرزوئیں، امیدیں اور ان کے عکس ہوتے ہیں۔ جب یہ خواہش اور آرزوئیں عملی زندگی میں پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتیں، وقت اور حالات کا جبر ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دیتا ہے تو یہ خواہشیں لاشعور کے کسی تنہا گوشے میں پناہ گزین ہو کر ممکنات کی تلاش میں رہتی ہیں جب انہیں موقع ملتا ہے وہ خوابوں کی صورت شعور میں اترنے لگتی ہیں۔ جو عملی زندگی میں نہیں ہوتا وہ خوابوں میں ہوتا ہے بلکہ کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ بہتر صورت میں ہوتا حیرتوں کا باعث بن جاتا ہے اور پھر یہ حیرتیں ذہن کی خلاؤں میں تسلی اور امید کے چراغ جلاتی ہیں۔ پھر بھی یہ سوال نمایاں رہتا ہے کہ خواب ڈراؤنے کب ہوتے ہیں؟ اس کا بظاہر سیدھا سا جواز تو وہی ہے، انسانی لاشعور میں کہیں نہ کہیں کوئی خواب مستقل جگہ بنا لیتا ہے وہ اپنے اظہار کیلئے مختلف روپ دھارتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے یوں بھی ہو جاتا ہے کہ کچھ لوگ عام زندگی میں کتے بلیوں سے بھی ہمیشہ خوفزدہ رہتے ہیں وہ جب بھی کہیں نظر آ جائیں وہ ان سے یونہی بدک جاتے ہیں۔
آج کی دنیا جدید ترین عمل اور خواہشوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، نئے 
نئے علوم کی دریافت ہو رہی ہے تاکہ ان سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ ایک ہی علم کی مختلف شاخیں اور پرتیں ہیں۔ ایسا ہی ایک علم نفسیات کا ہے جس نے انسان کو امیر اور غریب، طاقتور اور کمزور، بااختیار اور بے اختیار میں تبدیل کر دیا ہے ان کی خواہشیں اور خواب بھی مختلف ہوتے ہیں۔ ویرانوں میں رہنے والے ہمیشہ آبادی اور سہولتوں کے گلستان آباد کرتے ہیں، طاقتور اور بااختیار اطمینان و سکون کے خواہش مند ہوتے ہیں ان کے خواب بھی پُرسکون ماحول اور آسودگی کے ہوتے ہیں ایسے ہی خواب بااختیار لوگوں کے ہوتے ہیں لیکن جب کہیں وہ کسی دباؤ کسی مفاد میں کوئی ایسا فیصلہ کرتے ہیں جو ضمیر کی خلش اور کسک کا باعث ہو تو یہ خلش لاشعور سے ہوتی ہوئی خوابوں کو بھی اپنے نرغے میں لے کر ڈر اور خوف کا ماحول بنا لیتی ہے۔ انسان بااختیار ہو کر بھی بے اختیار ہو جاتا ہے۔ یہ خلش اور کسک جب مستقل جگہ بنا لیتی ہے انسانی ذہن کیلئے اس کو نکال باہر کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کیلئے تنہائی آخری سہارا بن جاتی ہے۔
بقیہ: پس حرف