22 اکتوبر 2019
تازہ ترین

جمہوریت کے حسن کا نیا فارمولا جمہوریت کے حسن کا نیا فارمولا

پاکستان کی سیاست میں ایک نیا انداز متعارف ہوا ہے۔ سیاستدانوں کی روایتی سست روی اور بناوٹی ناکارہ پن غائب ہو چکے ہیں، متنازع معاملات پر مٹی ڈالنے کے بجائے منطقی چھان بین اور نتائج اخذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میڈیا نے بھی تنقید کے معاملے میں ضرورت سے زیادہ حسن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک نئے رجحان کی ابتدا ہے۔ انتہائی بروقت اور تیزرفتار انداز میں ناکام حکومتی فیصلوں اور غلطیوں پر کڑی تنقید کی جانے لگی ہے۔ غلط فیصلوں کے پوشیدہ حقائق، ذمہ داروں کے نام، کارنامے اور خفیہ ترین محکمانہ دستاویزات یوں آناً فاناً منظر عام پر آنے لگے ہیں جیسے غلطی سرزد ہونے سے پہلے ہی تیار کر کے رکھ لیے گئے ہوں۔ پہلے تو صحافی سرتوڑ کوششوں کے باوجود ان معلومات تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ انکوائری کا حکم جاری کرانے میں ہی مہینوں لگ جایا کرتے تھے۔ سابقہ دو حکومتوں کا سیاسی فارمولا شاہانہ، سفارشانہ، رشوتانہ، نوازشانہ، تاخیرانہ اور مفاہمانہ پالیسیوں پر مبنی تھا، متنازع معاملات پر ایک کے بعد دوسرا بیان ہفتوں مہینوں بعد آیا کرتا تھا۔ احتساب دور کی بات، معمولی محکمانہ سرزنش یا تنبیہ کی گنجائش نہیں تھی۔ گرفتاری کا تصور ہی نہیںتھا۔ اس فارمولے کو جمہوریت کے حسن کا نام دیا جاتا تھا۔ ایک سیاسی رہنما نے ٹیلی وژن پر خوب تبصرہ فرمایا تھا کہ کرپشن پر سب کو برابر کا حق حاصل ہے اور جو سیاستدان کرپشن سے باز رہتا ہے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اس بیان پر شرکاء نے معنی خیز مسکراہٹوں کے ساتھ خاموشی اختیار کی تھی۔ سیاست کا یہ فارمولا نیا نہیں بلکہ 30برس سے زیادہ پرانا ہے۔ 1985ء سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اجلاسوں میں ارکان ایک دوسرے کی کرپشن کے راز افشا کرتے ہوئے ایک شعر دوہراتے آ رہے تھے جو اس فارمولے کو مکمل بیان کر دیتا ہے، کہ دوسرے کے نامۂ سیاہ کی تیرگی اپنی زلف میں پہنچے تو حسن کہلاتی ہے۔
طویل عرصہ بعد ایک بار پھر احتساب کے بڑی حد تک نامکمل، ناقص اور فرضی دکھائی دینے والے عمل کا آغاز کیا گیا ہے۔ دوسری طرف سابق حکمران جماعتیں اس ٹوٹے پھوٹے احتساب کو ہر ممکن کوشش سے ناکام بنانا اور یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ کرپشن تو سبھی کرتے ہیں، لہٰذا ان کا تخلیق کردہ جمہوریت کے حسن والا فارمولا ہی بہترین ہے۔ عملی طور پر دو بڑی جماعتوں میں نئی نسل کے رہنما کنٹرول سنبھال رہے ہیں کیونکہ سابقہ نسل کے رہنما اب جیلوں میں ہیں لیکن مایوسی اس بات کی ہے کہ نئی نسل کے رہنما بھی عوام کے ٹیکسوں کی رقم کو بے دردی سے خرچ کرنے پر شرمندہ نہیں بلکہ اسے اپنا حق قرار دینے پر بضد ہیں۔ ادھر حکومت کو شکوہ ہے کہ ناقدین بے صبرے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ماہ بعد ہی یہ کہنے لگے تھے کہ جو قوتیں حکومت کو برسراقتدار لائی تھیں وہ مایوس ہو چکی ہیں، حکومت ناکام ہو گئی ہے، اسے گھر بھیج دیا جائے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تنقید کے نام پر دھمکیاں اور فساد برپا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکومت کو یہ بھی شکایت ہے کہ پچھلی حکومتوںکے پہلے 100دن تو فتح کا جشن مناتے، عہدوں اور انعامات کی بندر بانٹ کرتے اور اگلے پانچ برس میں متوقع دولت کو خرچ کرنے کی منصوبہ بندی کرتے گزر جاتے تھے۔ لیکن اس بار ہر ایک دن کے کارنامے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔ پہلے دن سے ہی روایتی اور سوشل میڈیا پر تنقید کا سیلاب آ گیا۔ 100 دن گزرنے پر تو حکومتی کارکردگی کے چارٹ اور گراف جاری کر دیے گئے۔ ہر ایک تقرری، پوسٹنگ، ٹرانسفر، کنٹریکٹ اور ترقیاتی منصوبے کی چھان بین ہونے لگی اور کہیں کوئی بھی بے قاعدگی ہوئی تو اس پر شور مچایا گیا۔ جس کا جواب دینے کیلئے حکمران جماعت میں سرکاری اور غیر سرکاری ترجمانوں کی فوج ظفر موج تیار کی گئی جس نے اخبارات، ٹیلی وژن اور سوشل میڈیا کے ہر پلیٹ فارم پر تنقید کرنے والوں کا سخت مقابلہ کیا اور جوابی تنقید کے بادل برسا دیے کہ پچھلے دس برس میں حکومت اور اپوزیشن میں غیر جمہوری حد تک مفاہمت ہو گئی تھی جس میں قومی خزانے کی حفاظت کرنے اور چوری اور غبن کی وارداتوں کی نشاندہی کرنے کے بجائے چشم پوشی سے کام لیا گیا اور دونوں طرف سے عوام کی خون پسینے کی کمائی کو بے دردی سے اڑایا گیا۔ سوئس عدالت میں چلنے والے کرپشن کیس پر خط لکھنے کا ذکر آتا تھا تو فلمی گانے سنائے جاتے تھے۔ پاناما سکینڈل پر کمیشن بنانے کی تجویز پر ایک سال تک ٹرم آف ریفرنس پر ہی اجلاس ہوتے رہے تھے۔ اب بھی موجودہ حکومت کی فضول خرچیوں اور بے ضابطگیوں پر صرف اس لیے تنقید کی جا رہی ہے کہ چوری تو سبھی کرتے ہیں اس لیے جائز ہے۔
پھر بھی حالیہ تنقیدی مقابلے میں سیاست کے طالب علموں کی تفریح اور دلچسپی کا کافی سامان بہم پہنچا ہے۔ ایک طویل جمود کے بعد ملکی سیاست میں ذرا حرکت اور رونق پیدا ہوئی اور عوام پر سیاستدانوں کے کچھ مزید سیاہ کارناموں کا انکشاف ہوا ہے۔ حکمران جماعت نے انتخابات کے دوران سچ مچ کچھ ایسے وعدے کیے تھے جن کی تکمیل کا عوام کو بے چینی سے انتظار تھا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ کچھ وعدے 100 دن میں نہیں تو پہلے ایک سال میں ضرور پورے کیے جا سکتے تھے لیکن ان میں سے اکثر کی جانب کوئی پیش قدمی نہیں کی گئی۔ عوام نے بہت عرصہ بعد کسی سیاسی جماعت کے وعدوں پر اعتبار کیا تھا اس لیے ان کی عدم تکمیل کی صورت میں مایوسی اور بے چینی کا اظہار فطری تھا۔ لیکن ایک تو نئی حکومت سے وابستہ عوام کی بلند توقعات کو حزب اختلاف نے جا بے جا تنقید کر کے وقت سے پہلے ہی نیچے اتار لیا، لہٰذا مایوسی کی شدت وہ نہیں رہی جو ہونی چاہیے تھی۔ دوسرے عوام میں مہنگائی پر ردعمل تو موجود ہے لیکن وہ اس کا فائدہ آزمائی ہوئی سیاسی جماعتوں کو نہیں پہنچانا چاہتے جو عوامی ردعمل میں سے اپنی گرفتاریوں اور لوٹ کے مال کی واپسی کو روکنے کا کوئی راستہ تلاش کرنے کی فکر میں ہیں۔
کسی بھی صورت میں حکومتوں پر تنقید کو اتنا ہی تیز رفتار اور بروقت ہونا چاہیے جتنا کہ اس وقت ہے۔ بیانات سے آگ لگنے کا تصور پرانا ہو چکا۔ زبانی دھمکیوں سے طوفان نہیں آیا کرتے۔ کوئی قانون کی حد پار کرے تو اس کے خلاف کارروائی سیاست نہیں بلکہ انتظامی عمل کا حصہ ہے۔ لیکن عوام یہی چاہتے ہیں کہ ان سے متعلق تمام معاملات کی پوری طرح چھان بین کی جائے، چاہے وہ کسی حکومت کا پہلا یا آخری دن ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن ساتھ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ سیاسی تنقید سے مخالف جماعتوں کا نہیں بلکہ عوام کا مفاد وابستہ ہو۔ جب کوئی سیاستدان میدان میں اترتا ہے تو وہ اپنی راہ میں حائل تمام ممکنہ رکاوٹوں کا جائزہ لیتا ہے مثلاً کہ مخالفین کی طرف سے جعلی ووٹ بھگتانے کے کیا طریقے اپنائے اور پولنگ سٹیشنوں کا عملہ کس حد تک جعلی نتائج پیش کر سکتا ہے۔ حکومت میں آنے کی صورت میں محکمہ جاتی کارندوں کی طرف سے کس حد تک مزاحمت کا سامنا کرنا پڑیگا۔ کون سے انتخابی وعدے اور دعوے کی راہ میں کس کی طرف سے تاخیر کی جا سکتی ہے۔ کون سی معاشی یا قانونی دشواریاں کس منصوبے کی تکمیل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ان تمام ممکنہ رکاوٹوں کا بروقت سدباب کرنے کا نام ہی سیاست ہے، جس کیلئے عوام ووٹ دیتے ہیں اور اعتماد کرتے ہیں۔ تیز رفتار تنقید اور بروقت بحث ہر حال میں جاری رہنی چاہیے، کہ یہی جمہوریت کے حسن کا نیا فارمولا ہے۔